پیر, فروری 18, 2013

"امی جان صبر کرو کيوں کہ آپ حق پر ہو"

حديث ميں ہے ” اسراء کی شب ميرا گذر ايک ايسی جگہ سے ہوا جہاں ميں نے نہايت اچھی خوشبو پائی : ميں نے جبريل عليه السلام سے دريافت کيا : يہ اچھی خوشبو کس چيز کی ہے ؟ جبريل عليه السلام نے کہا : يہ اس خاتون کی خوشبو ہے جو فرعون کی بيٹی کو کنگها کرتی تھی ۔ ايک دن کنگھا کر رہی تھی کہ دفعتا کنگھی اس کے ہاتھ سے گر گئی، اس نے (کنگھی کو اٹھاتے ہوئے) کہا: بسم اللہ، اللہ کے نام سے فرعون کی بيٹی نے کہا : مرے باپ ؟ (يعنی کيا تم اللہ سے مراد ميرے باپ ہی کو لے رہی ہو يا کسی اور کو ؟ ) خاتون نے کہا : ميری مراد اس رب سے ہے جو ميرا اور تيرے باپ کا رب ہے، فرعون کی بيٹی نے کہا : اچھا تو کيا ميں يہ بات اپنے باپ کے گوش گزار کردوں ؟ خاتون نے کہا : ( کوئی بات نہيں ) کہہ دو ۔ (چنانچہ دختر فرعون نے فرعون سے سارا قصہ سنا ديا ) فرعون نے خاتون سے پوچھا : أو لک رب غيری ؟ کيا ميرے علاوہ بھی تيرا کو ئی رب ہے؟ خاتون نے (برجستہ ) جواب ديا : ميرا اور تيرا پروردگار وہ اللہ ہے جو آسمان پر ہے۔ مومنہ خاتون کا يہ جواب سن کر فرعون آگ بگولا ہوگيا، اور ايک گڈھے ميں تانبا پگھلانے کا حکم ديا، جب تانبہ پگھل کر بالکل سرخ ہو گيا تو اس کی نگاہوں کے سامنے اس کے بچوں کو ايک ايک کر کے اس ميں ڈال ديا، سب سے اخير ميں اس کی باری آئی ، چوں کہ اس کی گود ميں ايک شير خوار بچہ تھا اس ليے ذرا جھجھک محسوس ہوئی، چنانچہ اللہ تعالی نے اسے گويائی عطا فرمادی ، اس نے کہا : يا أماہ اصبری فإنک علی الحق. "امی جان صبر کرو کيوں کہ آپ حق پر ہو"

اس واقعے سے دين پر ثابت قدمی اور استقامت کے سنہرے نتائج  کا پتہ چلتا ہے کہ اگر دين کی راہ ميں جان کا نذرانہ بھی پيش کرنا پڑے تو اسے بھی بلا پس و پيش قبول کر لينا چاہئے ، کيوں کہ بہترين انجام نيکو کاروں کا ہوتا ہے ۔ 
مکمل تحریر >>

بدھ, فروری 06, 2013

ابرص، گنجا اور اندھا كى کہاني


پيارے بچو! آپ کے ابّو امّی کبھی کبھی آپ کو قصے کہانياں ضرور سناتے ہوں گے۔ آئيے آج ہم بھی آپ کو ايک قصہ سناتے ہيں، يہ وہ قصہ ہے جسے پيارے نبی محمد صلي الله عليه وسلم نے ايک دن اپنے ساتھيوں کی مجلس ميں بيان کيا تھا پہلے زمانہ ميں تين آدمی تھے :
1. ابرص:(سفيد داغوں والا، جس کے جسم پرسفيدی ہو)
2. گنجا : (جس کے سرپر بال نہ ہو )
3. اندھا : (جس كوآنكھ سے دكهائي نہ ديتا ہو)
اللہ پاک نے ان تينوں کو آزمانے کا ارادہ فرمايا، چنانچہ اللہ پاک نے ان تينوں کے پاس فرشتہ بھيجا، فرشتہ سب سے پہلے سفيد داغوں والے کے پاس آيا اور اس سے پوچھا : ”تجھے کونسی چيز سب سے زيادہ محبوب ہے ؟ “
اس نے جواب ديا : ” اچھا رنگ خوبصورت جسم اور يہ سفيد داغ مجھ سے دور ہوجائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہيں “
فرشتے نے اس کے سرپر ہاتھ پھيرا تو اللہ کے حکم سے اس کی گھن کھانے والی بيماری دور ہو گئی اور اسے خوبصورت رنگ دے ديا گيا ۔ فرشتے نے اس سے پھر پوچھا: تجھے کونسا مال زيادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : ”اونٹ “
چنانچہ اسے آٹھ دس مہينے کی گابھن اونٹنی دے دی گئی اور فرشتے نے اسے دعا دی کہ اللہ تعالی تيرے ليے اس ميں برکت عطا فرمائے ۔ پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آيا : اس نے گنجے سے پوچھا : ”تجھے کونسی چيز سب سے زيادہ پسند ہے ؟ “
 اس نے کہا : ”ميری خواہش يہ ہے کہ ميرا گنجاپن دور ہو جائے اور ميرے سرميں خوبصورت بال اگ آئيں“ ۔
فرشتے نے اس کے سرپر ہاتھ پھيرا جس سے اس کا گنجاپن دور ہو گيا اور اسے اللہ تعالی کی طرف سے خوبصورت بال عطا کر دئيے گيے ۔ پھر فرشتے نے گنجے سے بھی پوچھا کہ : ”تجھے کون سا مال سب سے زيادہ پسند ہے ؟“ اس نے کہا : ”گائے “۔ چنانچہ فرشتے نے اسے ايک گابھن گائے ديا اور دعا دی کہ ”اللہ تعالی تيرے ليے اس ميں برکت عطا فرمائے “ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آيا : اور پوچھا : ”تجھے کونسی چيز سب سے زيادہ پسند ہے ؟“
اندھے کو کيا چاہئے ؟ دو آنکھ ۔ اس نے کہا: ”ميری خواہش يہ ہے کہ اللہ تعالی ميری بينائی لوٹا دے تاکہ لوگوں کو ديکھ  سکوں “ ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اس کی بينائی لوٹا دی ۔ فرشتے نے اس سے پوچھا : ”تجھے کون سا مال زيادہ پسند ہے ؟ “
اس نے کہا :” بکرياں“ ۔ چنانچہ اسے ايک بکری دے دی گئی
اس طرح ابرص ، گنجے اور اندھے تينوں کے جانوروں نے خوب بچے ديئے ، سفيد داغوں والے کے ہاں ايک وادی اونٹوں کی ہوگئی ۔ گنجے کے ہاں ايک وادی گايوں کی ہوگئی، اور اندھے کے ہاں ايک وادی بکريوں کی ہو گئی ۔
پيارے بچو! جانتے ہيں اس کے بعد کيا ہوا ؟ اللہ پاک جب ديتا ہے تو اس کی چاہت ہوتی ہے کہ بندہ اس کے ديئے ہوئے مال ميں سے غريبوں مسکينوں اور لاچاروں کی بھی مدد کرے۔ آئيے ہم باقی قصہ سنتے ہيں
اللہ تعالی نے ايک عرصہ کے بعد اسی فرشتہ کو ابرص ، گنجے اور اندھے کے پاس بھيجا تاکہ اس کی آزمائش کرے چنانچہ فرشتہ سب سے پہلے سفيد داغوں والے کے پاس اسی کی پہلی شکل ميں آيا : اور کہا
” ميں مسکين آدمی ہوں ، سفر ميں ميرے وسائل ختم ہوگئے ہيں ، آج ميرے وطن پہنچنے کا کوئی وسيلہ نہيں سوائے اللہ کے اور پھر تيرے، اس ليے ميں تجھ سے اللہ کے نام پرايک اونٹ کا سوال کرتا ہوں، وہ اللہ جس نے تجھے اچھا رنگ ، خوبصورت جسم اور مال عطا کيا ہے “
اس نے جواب ديا : ميرے ذمہ پہلے ہی بہت سے حقوق ہيں مجھ سے تيری مدد نہيں ہو سکتی ۔ يہ سن کر فرشتے نے اس سے کہا : ”ميں تجھے پہچانتا ہوں، کيا تو وہی نا ہے جس کے جسموں پر سفيد داغ تھے لوگ تجھ سے گھن کھاتے تھے، تو فقير تھا، اللہ نے تجھے مال سے نواز ديا.... “؟
اس نے کہا: ”بھئی ! يہ مال تو مجھے باپ دادا سے ورثے ميں ملا ہے “
فرشتے نے کہا : ” اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تجھے ويسا ہی کردے جيسا کہ تو تھا ۔ اب فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی شکل وصورت ميں آيا اور اس سے بھی وہی کہا کہ ” ميں مسکين آدمی ہوں ، سفر ميں ميرے وسائل ختم ہوگئے ہيں، اس ليے ميں تجھ سے اللہ کے نام پرايک ايک گائے کا سوال کرتا ہوں، وہ اللہ جس نے تجھے خوبصورت بال عطا کيا ہے “
گنجانے وہی جواب ديا جو ابرص (سفيد داغوں والا) نے ديا تھا کہ ميرے پاس پہلے ہی سے بہت سارے حق والے ہيں فرشتے نے اسے احساس دلايا کہ کبھی تو گنجا تھا، لاچار تھا، آج اللہ نے تجھے نعمت دے دی تو اپنی پہلی حالت کو بھول گيا “
 اس نے کہا : ” يہ مال تو مجھے ميرے باپ دادا سے ورثے ميں ملا ہے “
فرشتے نے اسے بھی بددعا دی کہ” اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالی تجھے ويسا ہی کردے جيسا تو پہلے تھا “۔
فرشتہ پھر اندھے کے پاس اس کی پہلی شکل ميں آيا، اوراس سے کہا : ”ميں مسکين اور مسافر آدمی ہوں ميرے وسائل سفر ختم ہوگئے ہيں، اب ميرے ليے وطن پہنچنا، اللہ کی مدد پھر تيری مالی اعانت کے بغير ممکن نہيں، اس ليے ميں تجھ سے اس ذات کے نام سے، جس نے تيری بينائی تجھ پر لوٹادی، ايک بکری کا سوال کرتا ہوں تاکہ اس کے ذريعہ سے ميں منزل مقصود تک پہنچ جاؤں “
اندھے نے کہا: بلاشبہ ميں اندھا تھا، اللہ تعالی نے ميری بينائی بحال کردی ۔ تيرے سامنے بکريوں کا ريوڑ ہے، ان ميں جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے “
يہ سن کر فرشتے نے اسے کہا : ” اپنا مال اپنے پاس ہی رکھ ، تيرا امتحان مقصود تھا، جس ميں توکامياب رہا ، اور اللہ تجھ سے راضی ہوگيا اور تيرے دونوں ساتھی ناکام رہے اوراللہ تعالی ان دونوں سے ناراض ہوگيا“ ۔
بچو! ديکھا آپ نے کہ کيسے اللہ تعالی نے سفيد داغ والے کا داغ ختم کرديا اور اسے ايک گابھن اونٹ ديا جس سے اس کے پاس اونٹ ہی اونٹ ہوگيے، ليکن جب اس نے اللہ پاک کے احسان کو بھلا ديا تواللہ پاک نے اس سے وہ نعمت چھين لی اور جيسا وہ پہلے تھا ويسا ہی بناديا۔ اور گنجے کا گنجاپن دور کرکے اُسے ايک گائے ديا جس سے اس کے پاس ايک وادی گائيں ہوگئيں ليکن جب اس نے بھی ناشکری کی تو اللہ پاک نے اس سے بھی اپنی نعمت چھين لی ليکن جب اندھے نے اللہ کی نعمت کو ياد رکھا تواللہ تعالی اس سے خوش ہوا اور اس کی نعمت کو بدستور بحال رکھا ۔

پيارے بچو! اس قصے سے ہميں سبق ملتا ہے کہ فقيروں کو بہانا بناکردروازے سے بھگانا نہيں چاہيے بلکہ جو ميسر ہو ضرور دينا چاہئے ، کيا خبر کہ کل اللہ پاک ہميں بھی ويسا ہی بنا دے ۔

مکمل تحریر >>

ہوشيار باش !




اگرکسی تاجر کے پاس ايک سامان ايسا ہوجس ميں 100 دينار کا نفع ہو رہا ہو اور دوسرا سامان ايسا ہو جس ميں 1000 دينار کا نفع مل رہا ہو توذرا بتائيں وہ کس سامان کی تجارت پہلے شروع کرے گا ؟ ظاہر ہے دوسرے سامان کی ۔ 
لہذا اگر آپ کسی شخص کو ديکھيں کہ وہ اہم کام چھوڑکرکسی غير اہم کام ميں لگا ہوا ہے تو سمجھ ليں کہ وہ فريب خوردہ ہے، شيطان نے اسے اپنے دام تزوير ميں پھانس ليا ہوا ہے ۔
 ترجيحات  وقت اسی کا نام ہے کہ جس وقت جوکام اہم ہو اسی وقت اسے انجام دياجائے کيوں کہ بعض اوقات ميں کچھ ايسے اعمال ہوتے ہيں جن کی ادائيگی ديگراعما ل کی بنسبت اہم ہوتی ہے چنانچہ جب اذان ہو رہی ہوتو کلمات اذان کودہرانا قرآن کريم کی تلاوت سے افضل ہے، خانہ کعبہ ميں ہوں تو طواف کرنا نفل نماز سے افضل ہے، اور والدين بڑھاپے کی عمرکو پہنچ چکے ہوں توان کے ساتھ  حسن سلوک کرنا جہاد سے افضل ہے ۔
 اس طرح آپ اپنے تئيں ديگر اعمال کی ايک فہرست بنا سکتے ہيں جو اپنے وقت ميں زيادہ اہم ہيں ۔
يہ شيطان کا آخری حربہ ہے جو انسان کے ساتھ استعمال کرتا ہے کيوں کہ شيطان سب سے پہلے يہ چاہتا ہے کہ انسان کو شرک وکفرميں مبتلا کردے، اگر ايسا نہيں کرپاتا تو اسے بدعت ميں پھنسانے کی کوشش کرتا ہے، اگر اس سے عاجز آتا ہے تو کبائر پر اکساتا ہے، اگر اس ميں نا کام ہوتا ہے تو صغائرکا ارتکاب کراتا ہے، اگر ايسا بھی ممکن نہ ہوسکا تو مباح کاموں ميں مشغول کرديتا ہے، اگر اس پربھی قادرنہيں ہوپاتاتو افضل کاموں سے پھير کر غيرافضل کاموں ميں پھنساديتا ہے ۔


 تحرير: طلال الفاخر
ترجمه : صفات عالم 
مکمل تحریر >>

وندے ماترم اسلامی عقیدہ پر کاری ضرب ہے

اسلام کی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی عقیدہ توحید ہے، خالص توحید کا عقیدہ، جس میں کسی کی ادنی شرکت  گوارا نہیں ہے، اللہ کی ذات کے ساتھ کسی غیر کوشریک کرنا اسلام میں سب سے عظیم گناہ ہے ،اس کی ایسی نزاکت تھی کہ اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم سے ایک دن کسی نے کہا : ماشاء الله وشئت "جو اللہ چاہے اورآپ چاہیں" ۔ توآپ نے فرمایا:کیا تم نے اللہ کے ساتھ مجھے شریک ٹھہرا دیا ، بلکہ کہو صر ف اللہ چاہے، یا اگر کہنا چاہتے ہو تو کہو جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں ۔(نسائى )
اسی عقیدہ توحید کے لیے دنیا بنائی گئی، انسانوں کو پیدا کیا گیا، جنت وجہنم بنائی گئی ، اورانبیاء و رسل بھیجے گئے ،اسی لیے مسلمان ہر دورمیں اس کی حفاظت کرتے کرتے رہے ہیں اورکیوں نہ کریں کہ یہ اسلام کی پہلی بنیاد ہے ۔
آج کل ہندوستان میں وندے ماترم پر گفتگو چل رہی ہے، جو ہندوستان کا ایک مذہبی گیت ہے ،چونکہ یہ گیت اسلامی عقیدہ پر کاری ضرب ہے ،اس لیے اس سلسلے میں ہم گفتگو کرنا چاہیں گے ۔ وندے ماترم بنگلہ زبان کے مشہور ناول نگار بنکِم چندر چٹرجی کی ناول 'آنندمٹھ' میں شامل ہے. بنیادی طور پر یہ ناول اسلام دشمنی پر مبنی ہے ، اور اس میں انگریزوں کو اپنا مسیحا ثابت کیا گیا ہے ، . وندے ماترم ناول کا ایک حصہ ہے. ناول میں مختلف پاٹ یہ گیت "درگا" کے سامنے گاتے ہیں جو ہندو بھائیوں میں ماں کا مقام رکھتی ہے ، اور اس گیت میں بھارت کو "درگا ماں" ثابت کیا گیا ہے.
یہی وجہ ہے کہ آزادی سے پہلے ہی یہ متنازع بن گیا تھا، جواہر لعل نہرو، سبھاش چندربوس اور ڈاکٹر لوہیا جیسے عظیم رہنماوں نے اس گیت کی مخالفت کی تھی، اور جب بھارت کے قومی گیت کے انتخاب کی بات آئی تو ایک گروپ کی کوشش کے باوجود اس گیت کو قومی گیت میں شامل نہیں کیا گیا ، بلکہ بنگلہ شاعر روندرناتھ ٹیگور کے گیت کو بھارت کا قومی گیت بنایا گیا ،جس میں ملک کی تعریف کی گئی ہے اور کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی گئی ہے۔
اگر ایک مسلمان وندے ماترم کے ترجمہ پر ہی غور کر لے تو اسے پتہ چل جائے گا کہ یہ اسلام کے اصل عقیدہ توحید ہی کو گرا دیتا ہے. تو لیجئے وندے ماترم کامستند اردو ترجمہ پیش ہے اس یقین کے ساتھ کہ نقل کفر کفر نہ باشد:
تیری عبادت کرتا ہوں اے میرے اچھے پانی، اچھے پھل، بھینی بھینی خشک جنوبی ہواوں اور شاداب کھیتوں والی میری ماں ، حسین چاندنی سے روشن رات والی، شگفتہ پھولوں والی، گجان درختوں والی ، میٹھی ہنسی، میٹھی زبان والی، خوشی دینے والی، برکت دینے والی ماں، میں تیری عبادت کرتا ہوں اے میری ماں ، تیس کروڑ لوگوں کی پرجوش آوازیں، ساٹھ کروڑ بازو میں سمیٹنے والی تلواریں ، کیا اتنی طاقت کے بعد بھی تو کمزور ہے اے میری ماں ، تو ہی میرے بازو کی قوت ہے، میں تیرے قدم چومتا ہوں اے میری ماں ، تو ہی میرا علم ہے، تو ہی میرا مذہب ہے، تو ہی میرا باطن ہے، تو ہی میرا مقصد ہے ، تو ہی جسم کی روح ہے، تو ہی بازو کی طاقت ہے، تو ہی دلوں کی حقیقت ہے ، تیری ہی محبوب مورتی مندر میں ہے ، تو ہی درگا، دس مسلح ہاتھوں والی، تو ہی کملاہے، تو ہی کنول کے پھولوں کی بہار ہے ، تو ہی پانی ہے، تو ہی علم دینے والی ہے ، میں تیرا غلام ہوں، غلام کا غلام ہوں ، غلام کے غلام کا غلام ہوں ، اچھے پھل والی میری ماں، میں تیرا بندہ ہوں، لہلہاتے کھیتوں والی مقدس موہنی، آراستہ پےراستہ، بڑی قدرت والی قائم و دائم ماں ، میں تیرا بندہ ہوں اے میری ماں میں تیرا غلام ہوں. (یہ اردو ترجمہ، آل انڈیا دینی، تعلیمی کونسل لکھنو کا شائع شدہ ہے(
یہ وندے ماترم کا ترجمہ تھا جسے قومی گیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے. گیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ ایک مذہبی گیت تو ہو سکتا ہے قومی گیت نہیں ہو سکتا. اس میں صرف - زمین کو درگا ماں مان کر اسے ہر نعمتوں کا سرچشمہ ثابت کیا گیا ہے. علم، اورطاقت، ہر خصوصیت اسی کے ساتھ منسلک کی گئی ہے اور پڑھنے والا اس کے قدموں میں وندنا کے لئے جھکا دیا جاتا ہے بلکہ وہ براہ راست اِس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ میں تیری وندنا کرتا ہوں.
جس گیت میں یہ سب کچھ کہا گیا ہو مسلمان اسے کس طرح پڑھ سکتے ہیں. کوئی بھی مسلمان اسے اچھی طرح جان لینے کے بعد اس کی حمایت نہیں کر سکتا. جن کو پتہ نہیں ہے یا انہوں نے صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کر لیا ہے وہی اس کی حمایت کر سکتے ہیں. کیونکہ یہ تو ایک مسلمان کے بنیادی عقیدے کے خلاف ہے. مسلمان اپنے ملک کو عزیز سمجھتا ہے لیکن اس کی پوجا ہرگز نہیں کر سکتا.
اس گیت میں ملک کی مٹی کے لیے گیارہ ایسی خصوصیات ثابت کی گئی ہیں جو اسلامی نظریے سے اللہ کے علاوہ دوسرے کے لئے ثابت نہیں کی جا سکتیں. وہ خصوصیات کچھ یوں ہیں:
 (1) سکھ دینے والی (2) برکت دینے والی (3) تو ہی ہمارے بازو کی طاقت ہے (4) تو ہی میرا علم ہے (5) تو ہی میرا غیب ہے (6) تو ہی میرا مقصد ہے (7) تو ہی جسم کے اندر کی جان ہے (8) دلوں کے اندر تیری ہی حقیقت ہے (9) بڑی طاقت والی (10) قائم و دائم (11) مقدس۔
آپ غور کیجئے کہ اس گیت میں اللہ کے لیے کیا چھوڑا گیا ہے ،ساری صفات کو درگا کے لیے خاص کردیا گیا ہے ۔ کیاایک مسلمان اِسے پڑھ سکتا ہے ۔ ؟
اس گیت میں بار بار وطن کی مٹی کا غلام ہونے کو قبول کیا گیا ہے جبکہ ایک مسلمان صرف اللہ کا غلام ہو سکتا ہے. اسی لئے مسلمانوں کے لئے عبدالنبی (نبی کا غلام)، عبدالرسول (رسول کا غلام) اور عبد المسیح (مسیح کا غلام) نام رکھنا درست نہیں ہے. اس گیت میں مندروں کی ہر مورتی کوخاک وطن کا سرچشمہ کہا گیا ہے. اُسی طرح اس گیت میں خاک وطن کو درگا دیوی اور کملا دیوی سمجھا گیا ہے. اس گیت میں وطن کی مٹی ہی کو دین کہا گیا ہے. اِس گیت میں وطن کی مٹی کے سامنے وندنا کی جاتی ہے یعنی سر جھکا کر، ہاتھ جوڑ کر سلام کیا جاتا ہے.
خلاصہ یہ کہ یہ گیت اسلامی عقیدہ کے خلاف ہے. اس لئے مسلمان کواورمسلم بچوں کو اس کے لئے مجبور نہیں کیا جاناچاہیے ، اِسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ .وندے ماترم کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے ملک سے محبت پر شک کرنا بالکل غلط ہے. تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کس طرح مسلمانوں نے اپنے ملک کی آزادی کے لئے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ملک سے محبت کرنے کی تعلیم ہمیں خود اسلام دیتا ہے. کیونکہ ملک سے محبت فطری جذبہ ہوتا ہے اور اسلام فطری دین ہے جو وطن سے كرنے كى حوصلہ افزائى كرتا ہے.

اللہ کی عبادت میں اس کا کسی کو شریک ٹھہرانا صرف اسلام میں حرام نہیں بلکہ ہندو مذہب میں بھی حرام ہے۔ہندووں کو بھی چاہئے کہ وندے ماترم نہ پڑھیں کیونکہ ہندو مذہب میں بھی توحید کی تعلیم ہے اور زمین کی عبادت سے روکا گیا ہے لیکن اس گیت میں زمین کی عبادت کرنے کی تعلیم دی گئی ہے. "کوئی بھی ملک اللہ تعالی سے عظیم نہیں ہو سکتا، کسی بھی ملک کے لوگوں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے ملک کی عبادت کریں. اس لئے مسلمان ایسا نہیں کر سکتے۔
مکمل تحریر >>