بدھ, جنوری 09, 2013

روزی اورامتحان میں برکت کے لیے کوئی دعا بتائیے۔

سوال:

 روزی اورامتحان میں برکت کے لیے کوئی دعا بتائیے۔(  فہد - ابوحلیفہ ، كويت ) 

جواب: 

 اسلام کوئی جادوئى مذھب نہیں ہے کہ چند وظائف کا اہتمام کر لینے سے کائنات کے نظام میں تبدیلی آ جائے بلکہ اسلام عمل کی تاکید کرتا ہے محنت پر ابھارتا ہے اور اسباب   اختيارکرنے کا حکم دیتاہے، امتحان میں برکت کی جہاں تک بات ہے تواس کے لیے کوئی خاص دعا نہیں ہے محنت کریں اور اللہ پاک سے کامیابی اور توفیق کا سوال کریں ۔ اسی طرح روزی میں برکت کے لیے کوئی خاص دعا نہیں ہے البتہ کچھ وسائل ہیں جن کو اپنا کر روزی میں برکت حاصل کی جاسکتی ہے جیسے تقوی اختیار کرنا ، توجہ سے اللہ کی عبادت کرنا ، اللہ کے دین کے لیے وقف ہونے والوں پر خرچ کرنا ، کمزوروں اور لاچاروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور صلہ رحمی کرنا وغیرہ یہ وہ اعمال ہیں جن سے رزق میں برکت آتی ہے ۔
مکمل تحریر >>

بحالت نماز کپڑوں اور بالو ں سے کھیلنا


سوال:

نماز میں دھیان دينے کی ضرورت ہوتى ہے لیکن میں ایک امام کو دیکھتا ہوں کہ وہ نماز میں داخل ہونے کے بعد اپنے کپڑوں کوٹھیک ٹھاک کرتے ہیں اور سجدہ میں جانے سے پہلے اپنا چشمہ نکالتے ہیں۔( محمد امین- جہرا)

جواب:

 حدیث میں بتایا گیا ہے کہ أ مرت أن اسجد علی سبعة أعظم ولا أکف ثوبا ولا شعرا (بخارى ومسلم) "  مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاءپر سجدہ کروں اور کپڑے اور بال کو نہ سمیٹتا پھروں " ۔  اس لیے نماز میں خشوع وخضوع کا اہتمام ہونا چاہیے ۔ کپڑوں اور بالو ں سے نہیں کھیلنا چاہیے ۔ البتہ کبھی کبھی ضرورت کے تحت ایسا کیا جاسکتا ہے ۔آپ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ امام نے ضرورت کے تحت ایسا کیا ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ چشمہ نکال کر پہلے ہی رکھ دیں اگر رکھنا بھول گئے تو سجدہ کرتے وقت نکال سکتے ہیں ۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے نبی صلى الله عليہ وسلم  نے حضرت عائشہ رضى الله عنها کے لیے دروازہ کھولا جبکہ آپ نماز میں تھے ۔ (ابوداؤد، ترمذى نسائى ) اور آپ صلى الله عليہ وسلم اپنی نواسی یعنی حضرت زینب  رضى الله عنها کی بیٹی امامہ کو گود میں لے کر نماز ادا فرمالیتے تھے جب سجدہ کرنے لگتے تو رکھ دیتے ۔ پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو انہیں اٹھالیتے تھے ۔ (بخارى ) 
مکمل تحریر >>

غير الله كى قسم کھانے كا حكم

سوال:


 بہت سے لوگ قسم کھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”ميرى آنکھ کی قسم “ میں نے ایسا نہیں کیاہے، ایسا بول کر اپنى بات کو مؤکد کرنا چاہتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟ 

جواب:


غیر اللہ کی قسم کھانا جائز نہیں ہے، قسم اگر کھانی ہے تو اللہ کی کھانی چاہیے، جیسے واللہ ، تالله ، بالله "اللہ کی قسم ! میں نے یہ کام نہیں کیا ہے" ۔ایک مرتبہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کی قسم کھائی تو  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
 إن اللہ ینھاکم أن تحلفوا بآباءکم فمن کا ن حالفا فلیحلف باللہ أو لیصمت  (بخارى )
"اللہ نے اس بات سے روکا ہے کہ تم اپنے باپوں کی قسم کھاؤ، جو شخص قسم کھانے والا ہو اسے چاہیے کہ اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے ۔"

اس کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : 
 " الله كى قسم!  جب سے میں نے الله کے رسول سے یہ بات سنی تب سے اب تک غیر اللہ کی قسم نہیں کھائی".

مکمل تحریر >>

استسقاء کی نماز ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟

سوال: 

استسقاء کی نماز ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟

جواب:

استسقاء يعنی بارش کے لیے دعا کرنا، جب بارش نہ ہورہی ہو تو اس کے لیے نماز پڑھنا مسنون ہے ۔ نہایت عاجزی اور مسکینی کی حالت میں نکلنا چاہیے، کھلے میدان میں آنا چاہیے اور بغیر اذان اور اقامت کے دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے، جما عت سے ….نماز کے بعد امام کو خطبہ دینا چاہیے ۔
مسنداحمد کی ایک روایت میں آیا ہے، حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ :
ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بارش طلب کرنے کے لیے کھلے میدان میں تشریف لائے، آپ نے اذان اورا قامت کے بغیر دو رکعت نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا اوراللہ پاک سے دعا مانگی، دعا کرتے وقت اپنا چہرہ قبلہ کی طرف پھیر لیا، پھر اپنی چادر اس طرح الٹ لی کہ دایاں حصہ بائیں طرف اوربایاں حصہ دائیں طرف کرلیا ۔ (مسند احمد) 
یہ ہے استسقاء کی نماز ادا کرنے کا طریقہ …. ایک بات اور کہ دعا کرتے وقت ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف ہو ….اوردعا اس طرح کرنی چاہیے اللھم اسقنا غیثا مغیثا مریئامریعا نافعا غیرضار عاجلاغیر آجل ۔ اسی طرح یہ بھی دعا کرنی چاہیے اللھم اسق عبادک وبہائمک وانشر رحمتک واحی بلدک المیت

مکمل تحریر >>