بدھ, جنوری 09, 2013

غير الله كى قسم کھانے كا حكم

سوال:


 بہت سے لوگ قسم کھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”ميرى آنکھ کی قسم “ میں نے ایسا نہیں کیاہے، ایسا بول کر اپنى بات کو مؤکد کرنا چاہتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟ 

جواب:


غیر اللہ کی قسم کھانا جائز نہیں ہے، قسم اگر کھانی ہے تو اللہ کی کھانی چاہیے، جیسے واللہ ، تالله ، بالله "اللہ کی قسم ! میں نے یہ کام نہیں کیا ہے" ۔ایک مرتبہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کی قسم کھائی تو  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
 إن اللہ ینھاکم أن تحلفوا بآباءکم فمن کا ن حالفا فلیحلف باللہ أو لیصمت  (بخارى )
"اللہ نے اس بات سے روکا ہے کہ تم اپنے باپوں کی قسم کھاؤ، جو شخص قسم کھانے والا ہو اسے چاہیے کہ اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے ۔"

اس کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : 
 " الله كى قسم!  جب سے میں نے الله کے رسول سے یہ بات سنی تب سے اب تک غیر اللہ کی قسم نہیں کھائی".

مکمل تحریر >>

استسقاء کی نماز ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟

سوال: 

استسقاء کی نماز ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟

جواب:

استسقاء يعنی بارش کے لیے دعا کرنا، جب بارش نہ ہورہی ہو تو اس کے لیے نماز پڑھنا مسنون ہے ۔ نہایت عاجزی اور مسکینی کی حالت میں نکلنا چاہیے، کھلے میدان میں آنا چاہیے اور بغیر اذان اور اقامت کے دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے، جما عت سے ….نماز کے بعد امام کو خطبہ دینا چاہیے ۔
مسنداحمد کی ایک روایت میں آیا ہے، حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه بیان کرتے ہیں کہ :
ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بارش طلب کرنے کے لیے کھلے میدان میں تشریف لائے، آپ نے اذان اورا قامت کے بغیر دو رکعت نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا اوراللہ پاک سے دعا مانگی، دعا کرتے وقت اپنا چہرہ قبلہ کی طرف پھیر لیا، پھر اپنی چادر اس طرح الٹ لی کہ دایاں حصہ بائیں طرف اوربایاں حصہ دائیں طرف کرلیا ۔ (مسند احمد) 
یہ ہے استسقاء کی نماز ادا کرنے کا طریقہ …. ایک بات اور کہ دعا کرتے وقت ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف ہو ….اوردعا اس طرح کرنی چاہیے اللھم اسقنا غیثا مغیثا مریئامریعا نافعا غیرضار عاجلاغیر آجل ۔ اسی طرح یہ بھی دعا کرنی چاہیے اللھم اسق عبادک وبہائمک وانشر رحمتک واحی بلدک المیت

مکمل تحریر >>

قد قامت الصلاة اور الصلاة خیرمن النوم کا جواب کیا دیا جائے گا ؟

سوال:

اقامت میں جب قدقامت الصلاة قدقامت الصلاة کہاجاتا ہے تو اس کا جواب کیا دیاجائے گا ؟ اسی طرح فجر کی اذان میں جب موذن الصلاة خیرمن النوم کہتا ہے تواس کا جواب کیا دیا جائے گا ؟ 

جواب:

سوال بہت اچھا ہے، قدقامت االصلاة کے جواب میں کچھ لوگ اقامھا اللہ وادامھا کہتے ہیں، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے، یعنی ایسا کہنا صحیح سند سے ثابت نہیں ہے، اس لیے قدقامت الصلاة قدقامت الصلاة ہی کہنا چاہیے ۔ جیسے موذن کہتا ہے ویسے آپ کہیں ۔ اسی طرح فجر کی اذان میں جب موذن الصلاة خیرمن النوم کہتا ہے تو آپ بھی الصلاة خیرمن النوم ہی کہیں، سوائے حی علی الصلاة اورحی علی الفلاح کے جواب کے ….کہ آپ اس وقت لاحول ولاقوة الا باللہ کہیں گے ۔ الصلاة خیرمن النوم کے جواب میں صدقت وبررت کہنا ثابت نہیں ہے ۔ اورحدیث ہے : اذا سمعتم الموذن فقولوا مثل مایقول (مسلم) " جب موذن کی آواز سنو تو جیسے موذن کہتا ہے ویسے ہی کہو" ۔

مکمل تحریر >>

بدھ, جنوری 02, 2013

کمپنیوں کے شیئرز خریدنے کے تعلق سے اسلام کا کیا موقف ہے اس کی وضاحت کردیں

سوال:

کمپنیوں کے شیئرز خریدنے کے تعلق سے اسلام کا کیا موقف ہے اس کی وضاحت کردیں ۔ (سلطان- كويت )

جواب:

سب سے پہلے شیئر کیا ہے اِسے سمجھ لینے کی ضرورت ہے ، شیئر کہتے ہیں حصہ داری کو ۔ آج کل بڑی بڑی عالمی کمپنیاں حصص کی بنیاد پر  چل رہی ہیں ۔ مختلف لوگوں کے سرمایے ان میں لگے ہوتے ہیں ، اور کمپنی ہرایک کو اس کے فوائد دیا کرتی ہے ۔ اس سلسلے میں اسلام کا موقف یہ ہے کہ عمومی طور پر شیئر ہولڈر بننا اور شیر خریدنا جائز ہے ۔  ایک آدمی کے پاس سرمایہ ہوتا ہے لیکن اسے  کاروبار کا  ٹیکنک معلوم نہیں ہوتاکہ اپنے سرمایہ میں اضافہ کرسکے۔ ، جبکہ دوسرے آدمى کے پاس سرمایہ  نہیں ہوتا لیکن اُسے کاروبار ى ٹیکنک معلوم ہوتا ہے کہ معمولی سرمایے میں اچھا سے اچھا نفع حاصل کرلیتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر سرمایہ والے اپنی رقم ایسے شخص کے حوالے کردیں تاکہ وہ ان کے پیسوں سے کاروبار کرے ،جب فائدہ ہو توسارے شیئر ہولڈرز کو اس فائدہ میں شریک کرے اور اگر خسارہ ہوتوسارے شرکاءنقصان بھی برداشت کریں خواه ایسا کاروبار افراد کررہے ہوں يا کمپنیاں  کر رہی ہوں ۔ کاروبار کی ایسی شکل چند شرطوں کے ساتھ جائز ہے:
 (1) کاروبار  كى نوعيت بالکل واضح اور دو ٹوك ہو .
 (2) بنيادى کاروبار حرام پر مبنى  نہ ہو ، اسی لیے وہ کمپنیاں جن کا بنیادی کاروبار ہی حرام ہے جیسے شراب اورخنزیر کے گوشت کی تجارت ،یا بینک اور سودی اسکیموں میں روپیہ لگانا ، تو ایسی کمپنیوں یا  ایسے سودی بنک کا شیئر خریدنا جائز نہیں ہوگا ، کیونکہ یہ براہ راست معصیت میں تعاون بلکہ شرکت ہے ۔ 
(3) کاروبار کرنے والا مسلم ہو کہ غير مسلم کا سود سے مامون ہونا مشکل ہے  -

اس لیے اگر اللہ تعالی نے ہمیں سرمایہ دے رکھا ہے تو ہم کمپنیوں کا شیئر ضرور خریدیں ،لیکن اس بات کی پوری تحقیق کرلیں کہ ان کا معاملہ حرام یا سودی کاروبار سے بالکل پاک ہے ۔ آجکل عام طور پر شیئرز کی جو خریداری ہو رہی ہے ان کا دامن سود ی کاروبار سے پاک نہیں ہوتا .... اور ہم بھی شیئر کے نام سے حرام کاروبار میں ان کے شریک ہوجاتے ہیں ،اس لیے شیئر خریدنے سے پہلے افراد اور کمپنی کی تحقیق ضرور کرلیں ۔
مکمل تحریر >>