بدھ, اکتوبر 17, 2012
دوران خطبہ امام کی دعاپر ہاتھ اٹھا کرآمین کہنا
تحرير:
Safat Alam Taimi
یہ
مسئلہ جب شیخ ابن عثیمین ؒ سے پوچھا گیا کہ جمعہ کے دن دوران خطبہ دعا کے لیے ہاتھ
اٹھانے کا حکم کیا ہے ؟ توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا: جمعہ کے دن دوران خطبہ
ہاتھ اٹھانا مشروع نہیں، جب بشر بن مروان نے خطبہ جمعہ میں دعاءکے لیے ہاتھ اٹھایا
تو صحابہ نے ان پرنکیر کیا تھا.
لیکن اس سے
بارش کے لیے دعاءکو مستثنی مانا جاتا ہے، کیونکہ نبی کریم انے بارش کے لیے
دعاءکرتے ہوئے خطبہ جمعہ میں ہاتھ اٹھایا تھا، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہاتھ
اٹھائے. اس کے علاوہ خطبہ جمعہ میں دعاءکے وقت
ہاتھ نہیں اٹھانے چاہئیں۔. (فتاوی ارکان اسلام392 (
شیخ
عبدالرووف بن عبدالحنان الأشرفی نے اس موضوع پرحکم رفع الایدی فی دعاءخطبة
الجمعة کے نام سے ایک کتاب تحریر کی ہے جس میں انہوں نے دوران خطبہ امام کی دعا پر
ہاتھ اٹھاکر آمین کہنے کو بدعت قراردیا ہے ۔
جمعرات, اکتوبر 04, 2012
محترم عبد الصبور عبدالنور الندوى صاحب كے نام
تحرير:
Safat Alam Taimi
محترم عبد الصبور الندوى صاحب
السلام علیكم ورحمة اللہ وبرکاتہ
مزاج گرامى ؟
آپ کا میل
ملا ، بے حد خوشی ہوئی ، ایک عرصہ سے آپ کا مجھے غائبانہ تعارف حاصل ہے ،آپ
زیرتعلیم ہوتے ہوئے بھی بلوگنگ سسٹم جاری رکھے ہوئے ہیں یہ امر قابل ستائش ہے، آپ
نے جو دینی مجلات کا ذکر کیا ہے مجهے تو ايسا لگتا ہے كہ آپ نے ميرے دل كى بات چھن لى ہے ، واقعی دینی
مجلات کا حال عجیب ہے ،آج کے ڈیٹ میں کتنے رسالے ہیں جو چھپ کر منظر عام پر
آرہے ہیں ….لیکن ان کا فائدہ کس قدر محدود ہے اس کا احساس ذمہ داروں کو نہیں ہے ،اس
وجہ سے کہ انٹرنیٹ کی ہلکی سی معلومات بھی اكثرذمہ داران نہیں رکھتے ۔ صحیح منہج
کے حاملين آج بهى اس ميدان میں بہت پیچھے ہیں ،جبکہ گمراہ فرقوں کو دیکھیے کہ وه نیٹ
كے ذريعه اپنے كهوٹے سكوں كو دين كے بازار ميں عام كرنے ميں كس قدر چست اور نشيط دكها ئى دے رہے ہیں ،
کچھ اداروں کے صفحات نیٹ پر موجود بهى ہیں تو پرانے مواد جو ڈيزائننگ كے
وقت اپلوڈ كيے گيے تهے وهى وہاں مليں گے، سالوں سال سے اس کی طرف ان کا دهيان نہیں
گيا ، کچھ لوگ سال میں ایک مرتبہ جب اس کی فیس جمع کرنے کا موقع ہوتا ہے اپڈیٹ
کردیتے ہیں، اب آپ تصور كيجيے كہ اس نیٹ كا کیا فائدہ ….اور وہ بھی مواد كو یونیکوڈ
میں نہیں بلکہ پی ڈی ایف كى شكل میں اپلوڈ کرتے ہیں جس کا فائدہ نہایت محدود ہوتا
ہے ۔
بہرکیف آج
ضرورت ہے کہ ارباب مدارس کى توجہ اس طرف مبذول كرائى جائے ….الحمد للہ پاکستان کی
جماعت اہل حدیث اس معاملہ میں بہت حد تک بہتر ہے ….اللہ تعالی ہم سب کو اس کی
توفیق دے ، اور اللہ تعالی آپ کو اپنى تعليم میں کامیابی سے سرفراز فرمائے …. میری
ناقص رائے ہوگی کہ ان دنوں آپ اپنے تخصص پر دھیان دیں اور ماجسترکی ابھی سے تیاری
جاری رکھیں …
دواحادیث کے بیچ تطبیق کی صورت
تحرير:
Safat Alam Taimi
سوال :
سنجیدگی یا مذاق میں نکاح ،طلاق اور رجعت معتبر سمجھی
جاتی ہے ۔جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ بغیرولی اور دو گواہوں کے نکاح نہیں۔ان
دونوںمیں تطبیق کی کیا صورت ہوسکتی ہے دلائل کی روشنی میں جواب مرحمت
فرمائیں۔؟ (شعیب رومی، وفرہ (
جواب :
جمہور اہل علم کی رائے ہے کہ مذاق یا سنجیدگی کی طلاق ،نکاح اوررجعت معتبر سمجھی
جائے گی جیسا کہ حدیث ہے: ”تین چیزیں سنجیدگی میں بھی حقیقت ہیں اورمذاق میں بھی
حقیقت ہیں‘ نکاح ،طلاق اوررجوع کرنا“۔ (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ وحسنہ الالبانی
فی الارواء1826 (
اورمنطقی
ناحیہ سے بھی طلاق واقع ہوجانی چاہیے ورنہ لوگ دل لگی کرنے کا بہانا بناکر شریعت
کے ساتھ کھلواڑکرنے لگیںگے کہ میرا ارادہ طلاق کا تو نہیں تھا۔ رہی دوسری حدیث کہ”
بغیرولی اوردو گواہ کے نکاح صحیح نہیں ہوتا“ تویہ بھی صحیح ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں:لا
نکاح الابولی وشاھدی عدل (صحيح الجامع 7557) ”ولی اوردومنصف گواہ کے بغیر نکاح
نہیں ہوتا ۔ “
اوردونوں احادیث
میں اصلاً کوئی تعارض نہیں،کیونکہ ولی اوردو گواہوں کی موجودگی ہر حالت میں ضروری
ہے ،جب سنجیدگی میں نکاح ہورہا ہوتو وہاں صحت نکاح کے لیے ولی اور دو گواہ کی
ضرورت پڑتی ہے تو مذاق میں یہ لفظ بولتے وقت بدرجہ اولی ولی اور دوگواہ کی موجودگی
ضروری ہوگی،خلاصہ یہ کہ اگر کوئی شخص ولی اوردومنصف گواہ کے سامنے سنجیدگی یا مذاق
میں نکاح کے الفاظ بول دیتا ہے تو اس کا نکاح معتبرمانا جائے گا۔
غیرمسلم کا ترجمہ قرآن چھو نا
تحرير:
Safat Alam Taimi