جمعرات, ستمبر 06, 2012
لیکچر سننے کے لیے غیرمسلم کا مسجد میں داخلہ
تحرير:
Safat Alam Taimi
جی
ہاں! جائز ہے جبکہ مامون ہوں کہ غیرمسلم مسجد کو گندہ نہ کریں گے۔ کیونکہ یہ داخلہ
مصلحت کے حصول کے لیے ہے جس سے مسجد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اسی طرح غیرمسلم کے
لیے مسجد میں کسی طرح کی اصلاح وترمیم کے لیے داخل ہونا اورٹھہرنا جائز ہے ۔
کیونکہ اس میں مسجد کی مصلحت ہے، اسی طرح لیکچر سننے کے لیے بھی جانا جائز ہے جو
ممکن ہے کہ اس کی ہدایت کا سبب بن جائے ۔ خود اللہ کے رسول انے ثمامہ بن اثال کو
مسجد ہی میں باندھا تھا ۔
بہن اسماء کے نام
تحرير:
Safat Alam Taimi
سب سے پہلے ہم آپ کے دینی جذبہ کی قدر کرتے ہیں کہ
آپ نے ہم سے رابطہ کرکے رہنمائی حاصل کرنی چاہی ۔ اللہ پاک یہ دینی جذبہ باقی رکھے ۔
فضائل درود شریف ، فضائل استغفار ، اسماءحسنی کے متعلق ہمارے پاس تو مستقل کتابيں
دستیاب نہیں ہيں ۔ البتہ میں آپ کو اس سلسلے میں فرصت سے کچھ مواد فراہم کرسکتا
ہوں۔ میں ذرا مشغول تھا جس کی وجہ سے بروقت جواب نہ دیا جاسکا۔اس کے لیے معذرت
خواہ ہوں۔
پرانی دینی کتابوں کے
متعلق آپ کا سوال ہے تو اگر ممکن ہوکہ کسی کے حوالے کردیں تاکہ وہ ان سے استفادہ
کرے تو کر سکتی ہیں بشرطیکہ کتابیں مستند ہوں ۔اگر ان سے استفادہ نہ کیا جاسکتا ہو
تو انہیں مشین سے کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیں ۔ یا زمین میں دفن کردیں یا جلاکر
خاکستر کر دیں ۔ یا نہر و سمندر وغیرہ میں ڈال دیں تاکہ ان کی بے حرمتی نہ ہو ۔
آپ نے کچھ ویب سائٹس کے بارے میں
جاننا چاہا ہے، اس تعلق سے ہم بتائیں گے کہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا ویب سائٹ اور ان کی باتیں بھی
مستند ہوتی ہیں ۔ اسی طرح آپ مندرجہ ذیل ویب سائٹس سے بھی استفادہ کرسکتی ہیں
آپ
نے کہا کہ کیاچاروں امام برحق ہیں ۔ ائمہ یہ چار ہی نہیں تھے ،ایسے بہت سارے
علماءگذرے جنہوں نے اپنے دورمیں علم کی خدمت کی لیکن چار ائمہ کے دبستان فکرمشہور
ہوئے ،ان سب کی کوشش حق تک پہنچنے کی تھی، کسی نے جان بوجھ کر حق کی مخالفت نہیں
کی، لیکن حق ایک ہی ہوتا ہے ،متعدد نہیں ۔ اورہرایک نے یہی بات کہی کہ جب میری بات
قرآن وحدیث سے ٹکراجائے تو اسے دیوار پر مار دو، اس لیے اب معیار قرآن وحدیث ہوگا
ائمہ نہیں ہوں گے ۔ اس لیے ان ائمہ کی طرف نسبت کوئی عیب کی بات نہیں لیکن جن کی بات
قرآن وحدیث سے زیادہ قریب ہے اس کی پیروی ہونی چاہیے ۔ خلاصہ یہ سمجھیں کہ سارے
ائمہ کا احترام ہوناچاہیے ۔البتہ معیار قرآن وحدیث ہو، نہ کہ کسی امام کی بات، اگر
حدیث کچھ کہہ رہی ہو اورامام کی بات کچھ تو حدیث کے سامنے آمنا صدقنا کہیں ۔یہی
مسلمان کی شان ہونی چاہیے ۔
اردو
زبان میں کئی کتابوں کاآپ نے حوالہ دیا جو آپ کے پاس ہے یا جسے آپ زیرمطالعہ رکھنا
چاہتی ہیں ۔اس تعلق سے عرض ہے کہ آپ دارالسلام ریاض کی مطبوعات (اردو ہو یا
انگریزی ) حاصل کریں ،ان کا مکتبہ کویت میں بھی دستیاب ہے، ان کی کتابیں مستند
اورمعلومات افزا ہوتی ہیں ۔ مثلاً منہاج المسلم شیخ ابوبکر جابر جزائری، فتاوی
برائے خواتین ، فقہی مسائل : ڈاکٹر صالح الفوزان، الرحیق المختوم شیخ صفی الرحمن مبارک پوری، یہ اچھی کتابیں ہیں جن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
جہاں تک دین پر استقامت کی بات ہے، تو اس کے لیے سب سے بہتر قرآن کی تلاوت
ہے، عرب سے زیادہ اجڈ اور گنوار قوم دنیا میں کوئی نہیں تھی، لیکن قرآن نے ان کو
بدل کر دنیا کا قائد بنایااور تہذیب وسلیقہ سے آراستہ کیا ۔ آج بھی یہ وہی کتاب ہے
جو اس وقت تھی ،البتہ فرق اس کے ساتھ معاملہ کرنے کا ہے جس کی وجہ سے قرآن اپنا
اثر نہیں دکھا رہا ہے ۔ قرآن انقلابی کتاب ہے ،قرآن تبدیلی لانے والی کتاب ہے
،لیکن تب جب ایک آدمی خود کے اندر تبدیلی پیدا کرنے کے لیے خود کو تیار کرے گا۔
جہاں ثبات قدمی کے لیے نیک لوگوں کی صحبت ضروری ہے ،اچھی کتابوں کا مطالعہ ناگزیر
ہے ،دین کے احکام کو بجالانا اہم ہے ،وہیں قرآن کی تلاوت ضروی ہے ۔ لیکن تلاوت ویسے نہیں
جیسے ہم عام طور پر کرتے ہیں بلکہ ایسے کہ ان کا اثر ہم پر پڑے ۔ ظاہر ہے کہ اس کے
لیے کچھ کرنا ہوگا ۔ کیا کرنا ہوگا؟
دن یا رات میں ایک بار قرآن کی تلاوت ضرور کریں،تلاوت سے پہلے مسواک کرلیں، وضو کرکے
پرسکون جگہ پر بیٹھیں جو شوروہنگامہ سے بالکل خالی ہو ، سریلی آواز سے تلاوت شروع کریں اور تجوید کی رعایت کریں ۔ اگر قرآن کی زبان نہ سمجھتى ہوں تو ترجمہ قرآن کے ساتھ ہی تلاوت ہو، اوراس
کے معانی سمجھتى جائیں، شروع میں آیت کے مفہوم کو سمجھ لینا کافی ہے، گہرائی میں
جانے کی ضرورت نہیں ۔ ورنہ ذہن منتشر ہوجائے گا ۔جب ایسی آیت سے گذرہو جو دل پر
اثراندازہورہی ہو تو اس سے مرور کرام نہ کریں بلکہ بار بار اس کا اعادہ کریں کیوں
کہ یہی وہ انفعالی کیفیت ہے جو ہمیں تلاوت قرآن سے مطلوب ہے، اوریہی انسان کے اندر
تبدیلی لانے کاسبب بنتی ہے ۔ جب ہم کوئی کتاب پڑھتے ہیں، یا رسائل
وجرائد کا مطالعہ کرتے ہیں تومقصد محض الفاظ کی خواندگی نہیں ہوتا بلکہ ہم اس کے
پیغام کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر اللہ کے پیغام کو جو عربی میں ہمارے پاس ہے کیوں
سمجھنے کے لیے سنجید ہ کوشش نہیں کرتے جس پیغام کے اندر انقلاب لانے اور تبدیلی
پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔
والسلام
رشتے دار کی عورتوں سے مصافحہ کرنا كيا شرعی ناحیہ سے جائز ہے ؟
تحرير:
Safat Alam Taimi
سوال:
بعض مناسبتوں میں ہمارے ہاں یہ
رواج ہے کہ رشتے دار کی عورتوں سے مصافحہ کیاجاتا ہے اوراسے عیب نہیں سمجھا جاتا ۔
کیا ایسا شرعی ناحیہ سے جائز ہے ؟
جواب:
مصافحہ اگرمحرم عورتوں سے کررہے ہوں جیسے ماں، بہن، بیٹی،
بیوی، پھوپھی، خالہ، بھتیجی اوربھانجی وغیرہ تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے،
بلکہ اچھا ہے، لیکن اگر غیرمحرم عورتوں سے مصافحہ کررہے ہوں چاہے وہ آپ کی رشتہ
دار ہی کیوں نہ ہوں تو یہ جائز نہیں ہے ۔ چاہے عورتیں جوان ہوں یا بوڑھی ہوں
اورچاہے مصافحہ کرنے والا جوان ہو یا بوڑھا ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا:
إنی لا أصافح النساء (مؤطأ للإمام مالك ، ومسند احمد)
"میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا "۔ بلکہ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ سختی کے ساتھ فرمایاکہ :
لأن یطعن فی رأس أحدکم بمخیط من حدید خیر لہ من أن یمس إمراة لا تحل لہ (طبرانى ، بيهقى )
" اس کے سر میں
لوہے کے دھاگے سے مارا جائے یہ بہتر ہے اس بات سے کہ وہ ایسی عورت سے مصافحہ کرے
جس سے مصافحہ کرنا اس کے لیے جائز نہیں ۔"
اورایک مسلمان سماج کی روایت کا پابند نہیں ہوتا بلکہ
دین کا پابند ہوتا ہے ۔اگر کہیں پر ایسی روایت ہے تو اسے ختم کرنے اوروہاں کے
مردوں اور عورتوں میں اس کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔اللہ تعالی ہم سب کو دین
پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین
بدھ, ستمبر 05, 2012
کہاں گیے اسلام کا درد رکھنے والے ؟
تحرير:
Safat Alam Taimi
آج مسلمان ہر میدان میں کس
قدر پچھڑتے جا ر ہے ہیں اس كا اندازه ہم سب كو بخوبى ہے، تعلیمی میدان ہو ، تجارتی
میدان ہو، سیاسی میدان ہو ہر جگہ ان کی نمائندگی کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے ۔ سب
سے بڑھ کر ہم مختلف گروہوں ، جماعتوں اور فرقوں میں بٹ کر اپنے اتحاد کو پارہ پارہ
کر رہے ہیں، حالانکہ ہماراخالق ومالک ایک ہے، ہمارا دین ایک ہے ، ہمارا نبی ایک ہے
، ہمارا قبلہ ایک ہے ، آج تقریبا 155 ممالک میں مسلمان ہیں ، اور ہر چوتھا ایک
مسلم ہے ، اگرآج ہم بیدار ہوجائیں تو يقين ركهيں كہ ساری انسانیت اسلام کو گلے لگا
لے گى، آج عیسائی مشینریاں ، اسلام دشمن تحریکیں ، اور ہندوؤں کی متعصب تنظیمیں گویا
اسلام مخالفت پر کمر بستہ ہوچکی ہیں ، اور زہر کو تریاق بناکر انسانیت کے سامنے
پیش کر رہی ہیں ….کہاں گیے اسلام کے سپوت ؟ کہاں گیے اسلام کا درد رکھنے والے ؟
کیا کوئی ہے جو ان گزارشات پر کان دھرے ؟ مجهے قوى اميد ہے كہ ميرى آواز
صدا بصحرا ثابت نہ ہوگى