بدھ, جون 06, 2012

ایمان کیا ہے ؟


ایمان وہ بنیاد ہے جس پر دین قائم ہوتا ہے، اوراعمال کی قبولیت کے لیے بھی ایمان کا صحیح ہونا ضروری ہے، جس طرح انسانی جسم میں سر کو اوردرخت میں تنے کواہمیت حاصل ہے کہ اگر سر نہیں تو انسانی جسم کا وجود نہیں اورتنا نہیں تو درخت کا وجود نہیں اسی طرح اگر انسان کے اندر ایمان نہیں تو اسلام کا وجود ہی نہیں ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ سارے انبیاء ورسل نے اپنی اپنی قوم کوسب سے پہلے ایک اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دی اورغیراللہ کی عبادت سے منع کیا، خوداللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال تک لگاتارلوگوں کوتوحید اوراصلاح عقیدہ کی طرف بلاتے رہے ۔ اسی طرح ہرزمانے میں دعاة اورمصلحین نے لوگوں کو توحید کی طرف بلایا اوراصلاح عقیدہ کی دعوت دی ۔
ایمان ایک ایسا مضبوط قلعہ ہے جو مسلمان کو شکوک وشبہات اورگمراہی سے محفوظ رکھتا ہے ۔ انسان کے اندر جو گمراہی پیدا ہوتی ہے، انسان جو الگ الگ گروہوں میں بٹ جاتا ہے صرف اس وجہ سے کہ اس نے شروع میں عقیدہ کو بیس نہیں بنایا۔ اگرعقیدہ ٹھیک ہوجائے تو انسان کے اندر انحرا ف نہیں آسکتا ۔ کجی نہیں آسکتی ۔ گمراہی نہیں آسکتی ۔
ایمان ایک زلزلہ ہے جو انسان میں داخل ہوتے ہیں اتھل پتھل مچا دیتا ہے، اس کی زندگی میں ایسا انقلاب پیدا کردیتا ہے جس سے اس کی زندگی صحیح سمت میں لگ جاتی ہے ۔ اب وہ بالکل آزاد نہیں رہتا ، اس کا کوئی قدم غلط نہیں اٹھتا، اس کی آنکھ ، اس کا کان، اس کا ہاتھ ، اس کا پیر، اس کا دماغ سب اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوجاتا ہے ۔
ایمان ایک سدا بہاردرخت ہے جو کبھی مرجھاتا نہیں، ہمیشہ پھل دیتا رہتا ہے، اللہ پاک نے فرمایا: ضرب اللہ مثلا کلمة طیبة کشجرة طیبة اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء توتی اکلھا کل حین باذن ربھا ۔ "ایمان ایک ایسے پھلدار درخت کی مانند ہے جس کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں"، صحیح مسلم کی روایت میں ہے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے اوپر شاخیں ہیں ان میں سب سے افضل لاالہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ادنی راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اورحیا وشرم بھی ایمان کی شاخ ہے ۔
یہ ایمان ہے جس کی بنیاد پر اللہ رب العالمین بلندی عطا فرماتا ہے اللہ پاک نے فرمایا: وانتم إلاعلون ان کنتم مومنین (آل عمران 139) "تم ہی سربلند رہوگے اگر تم صحیح معنوں میں مومن رہے ۔اگر تمہارے اندر صحیح ایمان رہا تو اللہ پاک کا وعدہ ہے کہ زمین کی خلافت کے حقدار تم ہی ہوگے ،حکومت کے مالک تم ہی ہوگے ،دنیا کی قسمتوں کا فیصلہ تم ہی کرو گے ، دنیا تمہارے نام سے لزر اٹھے گی ،تم کسی سے خائف اورمرعوب نہ ہوگے ۔
لیکن آج معاملہ اس کے بالکل اپوزٹ ہوچکا ہے، آج ہم دنیا سے ڈرتے ہیں، دنیا ہم سے نہیں ڈرتی، جنہیں ہم سے کل آنکھیں ملانے کی ہمت نہ تھی آج وہ ہمارے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، وجہ کیا ہے ؟ ہم نام کے مسلمان رہ گيے ہیں کام کے نہیں …. جب ہم کام کے مسلمان تھے تو انسان تو انسان درندے بھی ہم سے ڈرتے تھے ۔ ( ايمان وعمل: مولانا عبد الروؤف رحماني )
جی ہاں! ایمان سے ہی ہمیں دنیا میں پرسکون زندگی مل سکتی ہے اورآخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں اللہ پاک نے سورہ نحل میں فرمایا:
 من عمل صالحا من ذکر أوأنثی وھو مومن فلنحیینہ حیاة طیبة ولنجزینھم أجرھم بأحسن ما کانوا یعملون (النحل 97)
”جوشخص نیک عمل کرے، مرد ہویاعورت یشرطیکہ ایمان والا ہوتواسے ہم بہت ہی اچھی زندگی عطا کریں گے، اوران کے نیک اعمال کا بہترین بدلہ بھی انہیں ضرور دیں گے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ پاک نے وعدہ کیا ہے کہ جو مرد وعورت نیک عمل کرے اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی عطاکریں گے اورآخرت میں ان کے اعمال کا بہتر بدلہ دیں گے لیکن شرط یہ رکھی کہ عمل کرنے والا ایمان والا ہو ۔ اس سے پتہ یہ چلا کہ دنیا اورآخرت دونوں جگہ کی کامیابی کے لیے ایمان بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔
اگر ایک انسان ایمان والا ہو، اس کے ساتھ  ساتھ  کبیرہ گناہوں کا بھی ارتکاب کرتا ہو، اوراسی حالت میں اس کی موت ہوگئی، توبہ نہ کرسکا، تو اگر اللہ نے چاہا تو اس کے گناہوں کی اسے سزادے گا اور پھر اسے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردے گا یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابربھی ایمان ہوگا تو اسے بھی جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا ۔ سبحان اللہ !یہ ایمان کی اہمیت ہے کہ رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان رکھنے والا شخص ایک دن جہنم سے ضرور نکلے گا ۔

ایمان اورعمل لازم ملزوم ہے:

ایمان تین چیزوں کا نام ہے قول باللسان واعتقاد بالجنان وعمل بالارکان زبان کا اقرار، دل کی تصدیق اور اعضاء کا عمل ۔ یعنی زبان سے ایمان کے تمام ارکان کا اقرارکرنا، دل سے ان کی تصدیق کرنا مثال کے طورپر زبان سے اقرار کرنا کہ اللہ تعالی ہی اکیلا رب ہے، اس کے اسماء وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں اور ہم صرف اسی کی عبادت کریں گے اسی طرح دل میں بھی یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالی ہی خالق ومالک اورعبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اوروہ اپنے اسماء وصفات میں بھی یکتا ہے ۔
اورچوں کہ ایمان کے ضمن میں عمل بھی داخل ہے اس لیے نیک عمل کرنے سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور نافرمانی کرنے سے ایمان میں کمی آتی ہے ۔ إنماالمومنون الذین إذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم وإذا تلیت علیھم آیاتہ زادتھم ایماناً (سورہ انفال2 سچے مومن تو وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیاجاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اورجب انہیں اللہ کی آیتیں سنائی جاتی ہیں توان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اوروہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔
 ایمان صرف دل کے اقراراور زبان کی تصدیق کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے ، بغیرعمل کے ایمان ایسی کنجی ہوگی جس میں دندانے نہ ہوں، جس طرح بغیر دندانے والی کنجی سے تالا نہیں کھلتا ہے، اسی طرح ایسا ایمان جو عمل سے خالی ہو اس سے جنت کا دروازہ نہیں کھلے گا ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا 
زبان سے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل
دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
بلکہ اللہ تعالی نے سورہ العصر میں قسم کھاکر کہاہے کہ سارے انسان گھاٹے میں ہیں سوائے ان لوگوں کے جوایمان لائے اورنیک عمل کرتے رہے، والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر " قسم ہے زمانے کی، بیشک انسان گھاٹے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، اورنیک عمل کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اورصبر کی تاکید کرتے رہے "۔
قرآن نے ایمان اورعمل کے درمیان جو ربط قائم کیا ہے اس کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، دیکھيے قرآن کریم میں کم وبیش 38 جگہوں پر یہ الفاظ آئے ہیں آمنوا وعملوا لصالحات ایمان لائے اوراعمال صالحہ کيے، ایک صحابی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یارسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی نصیحت فرما دیجئے جس پرعمل کرکے میں جنت پالوں۔ آپ نے فرمایا: قل آمنت باللہ ثم استقم یوں کہو!میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر استقامت اختیار کرو، استقامت کہاں ہوتی ہے ؟ دعوے میں نہیں ہوتی، عمل میں ہوتی ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں الذین المعاملة معاملات کے درست ہوجانے کا نام دین ہے ۔ ایمان صرف دعوے کا نام نہیں ایمان رویے (Attitude) کا نام ہے، ایک سلوک اورایک مسلسل عمل کا نام ہے ۔ ایمان سنی سنائی چیز کا نام نہیں، ایمان وراثت میں ملی ہوئی چیز کانام نہیں، وراثت میں مکان، دکان، پلاٹ، زمین پیسے مل جائیں گے مگر وراثت میں ایمان نہیں ملے گا ۔ ہم اتفاقیہ مسلمان ہیں، لیکن اصل مسلم وہ ہوتا ہے جو اپنی مرضی سے مسلمان ہوا ہو ۔Muslim by choise not by chance۔اس لیے اگر ایمان صحیح ہے تو اس میں عمل بھی آجائے گا ۔( چار

ایمان کی خصلتیں:

ایمان جب ٹھیک ہوتا ہے تواس کا اثر زندگی کے سارے معاملات پر پڑتا ہے، اورعمل کے طورپر ایمان کی خصلتیں ظاہرہوتی ہیں، کیا آپ جانتے ہیں کہ ایمان کی خصلتیں کیا ہیں ؟ ایمان کی خصلتوں میں سے ہے :
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت : بخاری ومسلم کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کے لڑکے اورتمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاوں۔
مومنوں سے محبت : صحیح مسلم کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لے آواورتم ایمان اس وقت تک نہیں لاسکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرو، کیا میں تم کوایسی چیز نہ بتاوں جسے اگرتم کروگے توآپس میں محبت بڑھے گی تم آپس میں خوب سلام کیا کرو۔
اوردوسری حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لایومن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔
ہمسایہ کی عزت کی جائے، مہمان کا احترام کیا جائے اورصرف اچھی بات کہی جائے : بخاری ومسلم کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص اللہ اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلی بات کرے یا خاموش رہے، اورجوشخص اللہ اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسایہ کی عزت کرے، اورجوشخص اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے “۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا: واللہ لایومن واللہ لایومن واللہ لایومن ! اللہ کی قسم کھا کرکہتاہوں کہ وہ شخص مومن نہیں، وہ شخص مومن نہیں، وہ شخص مومن نہیں، صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ !کون مومن نہیں ؟ فرمایا: الذی لایامن جارہ بوائقہ ۔وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: مومن وہ نہیں ہے جو پیٹ بھر کرکھائے اوراس کے برابرمیں اس کا پڑوسی بھوکاہو ۔
ایمان کی خصلت یہ بھی ہے کہ آدمی اچھے کردار کا حامل ہو، چوری نہ کرے، شراب نہ پئے، زنا نہ کرے ، خیانت نہ کرے، کسی کو دھوکہ نہ دے، رشوت نہ لے، تب ہی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بخاری ومسلم کی روایت کے مطابق فرمایا: کہ زانی جب زنا کرتا ہے تو اس وقت مومن نہیں ہوتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تواس وقت مومن نہیں ہوتا، چور جب چوری کرتا ہے تو اس وقت مومن نہیں ہوتا ۔
ایمان کی خصلت یہ بھی ہے کہ آدمی اچھائی کاحکم دے اوربُرائی سے روکے: صحیح مسلم کی روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جوشخص کسی برائی کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگراس کی بھی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگراس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں براجانے اوریہ ایمان کا ادنی درجہ ہے “۔

ایمان کی چاشنی:

0جب ایمان کی خصلتیں انسان کے اندرپیدا ہونے لگتی ہیں تو اسے ایمان کا مزہ ملنے لگتا ہے، ایمان کی چاشنی نصیب ہونے لگتی ہے، جانتے ہیں ایمان کی چاشنی کیا ہے ؟ صحیح مسلم کی روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذا ق طعم الایمان من رضی باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد صلی اللہ علیہ وسلم رسولا ”اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کو اپنا رب بنانے پر راضی ہوا اوراسلام کو اپنا دین بنانے پر راضی ہوا اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول ماننے پر راضی ہوا ۔

اورجب ایک بندہ مومن اللہ کو اپنا رب مان لیتا ہے، اسلام کو اپنا دین تسلیم کرلیتا ہے اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان لیتا ہے تو وہ ایمان کی لذت پانے کے ساتھ  ساتھ ایمان کی حلاوت اوراس کی مٹھاس بھی پاتا ہے ۔ جانتے ہیں ایمان کی مٹھاس کیا ہے ؟ بخاری ومسلم کی روایت ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاث من کن فیہ وجد بھن حلاوة الایمان جس کے اندرتین چیزیں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پاتا ہے، ایک یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اوراس کے رسول ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرے یہ کہ کسی آدمی سے صرف اللہ کی خاطر محبت رکھے، تیسرے یہ کہ کفر کی طرف لوٹنا اسے ایسے ہی ناپسند ہو جیسے آگ میں ڈالا جانا ناپسند کرتا ہے ۔
مکمل تحریر >>

جمعرات, مئی 10, 2012

محترم جناب شیخ عبدالمنان السلفی صاحب كے نام

 گرامی قدر محترم جناب شیخ عبدالمنان عبدالحنان السلفی صاحب

 ایڈیٹرماہنامہ السراج حفظکم اللہ ورعاكم

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

امید کہ حالات بخیر ہوں گے

 یہ میرے لیے بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ آپ نے مجهے یاد فرمایا۔ اور ميرے تئيں اپنى نيك خواہشات كا اظہار فرمايا،  ذره نوازى كا بہت بہت شكريہ.

آپ نے ماہنامہ "السراج" کے لیے مضامین ارسال کرنے کا حکم دیا ہے یہ میری  سعادتمندی ہوگی کہ ميرے مضامين آپ کے موقر رسالہ میں شائع ہوں ليكن اس كے ليے یکسوئی دركار هے جو فى الحال کاموں کے ہجوم میں مجهے دستياب نہيں، میں آپ جیسے ہى باہمت مشائخ کو نمونہ بنانے کی کوشش کرتا ہوں، مجهے بهى آپ سے الله كى خاطرمحبت ہے، ہم الله پاک سے دعا كرتے ہیں كہ وه ذات بارى آپ كو اپنا محبوب بنائے جس كى خاطر آپ نے مجھ سے محبت كى ہے. 

میں آپ کو زمانہ طالبعلمی سے پڑھتا آرہا ہوں اور آپ کی تحریر کو بے حد پسند کرتا ہوں۔ اللہ پاک آپ سے زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت لیتا رہے،  ان شاءاللہ رابطے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ ماشاء اللہ نیٹ سے بھی آپ کا تعلق ہے، جو ہمارى خوشی کو مزيد دوبالا كرتا ہے۔ آپ کے والد محترم شیخ عبدالحنان کو اللہ تعالی صحت وعافیت سے رکھے اور آپ پر ان کا سایہ تا دیر قائم رکھے۔ آمین ۔ 

والسلام

صفات عالم محمد زبیر تیمی 

مکمل تحریر >>

بدھ, مئی 09, 2012

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی


ابھی ہم حج کے ایام سے گذررہے ہیں ،اور عازمین حج کے قافلے دنیا کے کونے کونے سے بیت اللہ کی طرف رواں دواں ہیں ،کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو حج کی سعادت نصیب ہورہی ہے، ایک ارب 60کروڑ سے زائدمسلمانوں میں سے تقریباً 20لاکھ مسلمان ہی ہر سال حج پرجانے کا شرف حاصل کرپاتے ہیں ، ہرمسلمان کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ اسے ضیوف الرحمن میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہو، اسے طواف کعبہ ، صفا ومروہ کی سعی، وقوف عرفہ، اوررمی جمرات کا موقع ملے، وہ ان لوگوںمیں شامل ہوجائے جن کی عرفات میں گردنیں آزاد ہوتی ہیں، وہ ان لوگوں جیسے بن جائے جو گناہوں سے پاک وصاف ہوکر گھر لوٹتے ہیں۔ وہ اللہ جو اپنے بندوں سے اتنا پیارکرتا ہے جتنا ایک ماںبھی اپنے شیرخواربچے سے پیارنہیں کرتی، آخراس رحیم وکریم ذات کے تئیں یہ کیسے خیال کیا جاسکتا تھا کہ وہ ان بندوں کو حج کے ثواب سے محروم رکھتا جو مالی کمزوری کے باعث حج کے لیے نہ جاسکتے ہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ تعالی نے ایسے ہی نیک بندوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے انہیں کچھ ایسے اعمال دئیے جن کی وہ بجاآوری کرکے اپنے وطن میں ہوتے ہوئے حج کا اجروثواب حاصل کرسکتے ہیں۔یہ کوئی نئے اعمال نہیں ہیں بلکہ وہی عبادات ہیں جن کوہم میں سے اکثر لوگ شب وروز کی زندگی میں انجام دیتے ہیں، البتہ ان کی انجام دہی کے وقت ذہن ودماغ میں ان کے بے پناہ اجروثواب کا احساس پیدا نہ ہونے کے باعث ہم ان کا کماحقہ اہتمام نہیں کرپاتے ،لیکن جب سال میں خیرکے مواسم آتے ہیں تو ان میں اپنے اندرشعوری ایمان پیداکرنے اوران کا خیروخوبی سے استقبال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ دلوں کا تزکیہ ہوسکے ،گناہوں سے سچی توبہ کرسکیں اور نیکیوں سے دامن مرادبھرسکیں، آپ جانتے ہیں کہ ابھی ہمارے سروں پر ذو الحجہ کامہینہ سایہ فگن ہے،جس کا پہلا عشرہ سال کے سارے دنوںمیں علی الاطلاق سب سے افضل اورسب سے عظیم ہے،جس میں نیک اعمال اللہ سبحانہ تعالی کو اس قدرمحبوب ہیں کہ اللہ کی راہ میں جہادبھی ان دنوں کی نیکیوں کے ہم مثل نہیں سوائے اس مجاہد کہ جو جان ومال لے کرنکلا اورشہادت سے ہمکنارہوا (بخاری)، اللہ پاک نے جس کی عظمت کی قسم کھائی ہے اورپیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’افضل ایام الدنیا‘ ’اعظم الایام‘ ’احب الی اللہ ‘ کے الفاظ میں اس کے فضائل بیان کئے ہیں ،یہاں تک کہ علمائے اسلام کے درمیان یہ بحث چھڑی کہ عشرہ ذی الحجہ افضل ہے یا رمضان کا آخری عشرہ ؟ ان ایام میں افضل کون ہیں ان کی تحدیدبروقت ہمارا مدعا نہیں ہم تومحض یہ احساس پیدا کرناچاہتے ہیں کہ ابھی ہم جن دنوں سے گذر رہے ہیں وہ بڑے افضل ایام ہیں
لیکن افسوس کہ عشرہ ذی الحجہ کے تئیں ہمارے معاشرے میںاب تک صحیح شعورپیدا نہ ہوسکا ہے ، اور ہماری اکثریت ان دنوں سے خاطرخواہ استفادہ نہیں کرپاتی ہے،جس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ پاک نے ان دنوںمیں عام لوگوں پر کوئی خاص عبادتیں فرض نہیں کی ہیں بلکہ بندے کے اختیارمیں چھوڑدیاہے کہ مختلف اعمال صالحہ کی انجام دہی کرکے ان ایام کے برکات سے مستفیدہوں،اوردوسری بنیادی وجہ ائمہ مساجد،خطبائے کرام اور داعیان عظام کی ان دنوں کے تئیں بے توجہی ہے کہ وہ حج وقربانی کے فلسفہ اورمسائل پر گفتگو تو کرتے ہیں تاہم ان ایام کے فضائل پر لب کشائی نہیں کرتے ۔مثال کے طورپر ماہ رمضان کولیجئے کہ ہمارا ذہن اسکے استقبال کے لیے اس لیے تیار ہوتاہے کہ مسلم معاشرہ اس ماہ مبارک کے تئیں باشعور ہے ، خطباء ومقررین بھی عوام کے سامنے ان ایام کے فضائل بیان کرتے ہیں اورخوداللہ پاک نے ان دنوں میں روزے فرض کئے ہیں جن کی وجہ سے روحانیت کا ماحول خودبخود بن جاتاہے۔ آج ضرورت ہے کہ اس طرح کے مواسم خیرجو ہماری بے توجہی کا شکار ہیں انہیں مسلم معاشرے میںعام کیا جائے،اس مناسبت سے خاص تربیتی کورسیز رکھے جائیں، لوگوں کے سامنے عشرہ ذی الحجہ کے فضائل بیان کئے جائیں،معاشرے میں عملی بیداری لانے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، ایک دوسرے کو ان دنوںکا خاص اہتمام کرنے کی نصیحت کی جائے، ہرآدمی اپنے اپنے گھر میں بچوں اوراہل خانہ کو ان دنوںکی اہمیت بتائے اورایمانی تربیت کا روحانی ماحول بنائے تاکہ سنت کا احیاءہو اوربدعت کا استیصال ہوسکے ۔
ہاں تو اگر ہمیں حج پر جانے کی سعادت حاصل نہ ہوسکی ہے تو آئیے ایسے افضل ایام میں چند آسان عبادات کی جانکاری حاصل کرتے ہیں جن کوانجام دے کر ہم سفر کئے بغیر، وقت اورمحنت صرف کئے بغیرحج کا ثواب حاصل کر سکتے ہیں، تولیجئے ذیل کے سطورمیں ایسے ہی چنداعمال کی نشاندہی کی جارہی ہے، البتہ خیال رہے کہ ان اعمال کی بجاآوری سے حج کاثواب ضرورملے گاتاہم فریضہ حج ساقط نہیں ہوسکتا:
` اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے باجماعت نمازفجر ادافرمائی، پھربیٹھ کر ذکرمیں لگارہا یہاں تک کہ آفتاب طلوع ہوگیا، پھردو رکعت نمازاداکرلی تو اسے ایک حج اور عمرے کا مکمل ثواب ملے گا “۔ (رواہ الترمذی وحسنہ الالبانی فی الصحیحة 3403)
`اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوشخص فرض نماز کی باجماعت ادائیگی کے لیے چل کرگیایہ حج کے جیسے ہے “۔  (ابوداود وحسنہ الالبانی فی صحیح ابی داود 567)
 خواتین بھی مردوںکونمازباجماعت کی ترغیب دلاکر اس اجر کی حقداربن سکتی ہیں کہ خیرکی رہنمائی کرنے والے کو انجام دینے والے کا سااجر ملتا ہے ۔
` فقرائے مہاجرین نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر عرض کیاکہ اہل ثروت حج وعمرہ کرتے ہیں اورہم حج وعمرہ نہیں کرسکتے جس سے وہ اجروثواب میں ہم پر فوقیت لے جاتے ہیں،آپ نے حل بتایا کہ جوشخص ہرنماز کے بعد 33مرتبہ سبحان اللہ 33مرتبہ الحمدللہ اور33مرتبہ اللہ اکبرکہہ لے اسے حج کرنے والے کا ثواب ملے گا “  (اخرجہ الالبانی فی صحیح الجامع 2626)
`اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوشخص مسجد گیاوہ کوئی اچھی بات سیکھنا چاہتا یا سکھانے کا ارادہ رکھتا ہے تواسے ایک مکمل حج کرنے والے حاجی کا ثواب ملتا ہے “۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر وھوفی صحیح الترغیب والترھیب 86وقال عنہ الالبانی :حسن صحیح )
یہ ہیں چند ایسے اعمال جن کوانجام دے کر ایک آدمی اہل خانہ کے بیچ وطن میں رہتے ہوئے حج کا ثواب حاصل کرسکتا ہے، توپھر دیرکس بات کی، عظمت وفضیلت والے ان ایام کوغنیمت جانیں اور ان میں اپنے وطن میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حج وعمرہ کا اجروثواب حاصل کرنے کی کوشش کریں کہ
 یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جوبڑھ کر خوداٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

مکمل تحریر >>

ابراہیم بھائی کے قبولِ اسلام کی کہانی خود ان کی زبانی

میرا قدیم نام تھوماس ادموند پاول اور اسلامی نام ابراہیم ہے ۔ میں عیسائی دھرم سے تعلق رکھتا تھا ۔ میرے اہل خانہ شروع سے کٹر عیسائی ہيں اور ہرہفتہ پابندی سے چرچ کی زیارت کرتے ہيں، میں خود ”کراس“ پکڑنے میں پیش پیش رہتاتھا۔ اس کے باوجود میں روایتی انداز کا عیسائی تھا، کبھی بائبل کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ جب بغرض روزگار کویت آیا تویہاں ایک عیسائی دوست کے ساتھ  میری نشست وبرخاست ہونے لگی، وہ عیسائیت سے متعلق کافی معلومات رکھتا تھا، اور ہروقت بائبل کے حوالے سے بات کرتا تھاجس سے میرے دل میں بھی بائبل کے مطالعہ کا شوق جاگا۔ چنانچہ میں نے بائبل کا ایک نسخہ حاصل کیا اور مطالعہ کرنے بیٹھا، نہ جانے کیا ہوا کہ بائبل کے مطالعہ میں میرا دل نہ لگا اورمیرے اندر عجیب طرح کی بے چینی پیدا ہونے لگی، میں نے اسی وقت بائبل کوبند کردیا۔ جب میں نے اپنے عیسائی دوست سے اس معاملہ میں بات کی تو اس نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ” تم نے بائبل پہلی بار پڑھی ہے اس لیے تیرا دل اس میں نہیں لگ رہا ہے، دھیرے دھیرے جب معمول بن جائے گا تو اس کے مطالعہ میں لطف محسوس کروگے۔ ویسے بھی عیسائیت سب سے اچھا اور قدیم مذہب ہے“۔
تہوارمیں دوستوں کے مابین کیک اور مٹھائیاں تقسیم کرنا میرامعمول بن گیاتھا، حسب عادت ایک تہوار کی مناسبت سے ہم سب مل کرکیک کھارہے تھے، وہاں میرا ایک مسلم دوست بھی موجود تھا، اس کی ایک بات پر میں چونک پڑا ، اس نے کہا کہ  عيسي عليه السلام اللہ کے بیٹانہیں تھے بلکہ ایک نبی اور اللہ کے رسول تھے۔ اس بات پر ہم دونوں میں کافی نوک جھوک اور بحث وتکرار ہوئی، میں اس وقت عیسائیت کی کوئی خاص معلومات نہیں رکھتا تھا، اس ليے مجھے جواب دینے میں جھجھک محسوس ضرور ہوئی تاہم اسی وقت میں نے یہ عزم کرلیا کہ عیسائیت اور اسلامی تعلیمات کاگہرائی سے مطالعہ کروں گا تاکہ اس کی باتوں کا ٹھوس جواب دے سکوں اور اس پر واضح کر دوں کہ عیسائیت ہی سچا اور حق مذہب ہے۔ چنانچہ پھرمیں ایک نئے جوش و ولولہ کے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کیا ۔ میں نے اس ميں بہت سی وہ باتیں پائیں جن پر مسلمان عمل پیرا ہیں لیکن عیسائی ان اعمال سے کوسوں دور ہيں۔ مثلاً ہاجرہ اور اسماعیل علیھماالسلام کے واقعہ کے ضمن میں چشمہ زمزم کا پھوٹنا، ہاجرہ علیہا السلام کا صفا و مروہ پردوڑلگانا، شراب ، خنزیر‘قمار بازی کی حرمت، بت پرستی کی مذمت اور توحید کا اثبات پایا۔ دوران مطالعہ خاص کر جس چیزپرمیری نظرٹکی وہ ہے عیسی علیه السلام کا فرمان:
 ” مجھے جانا ہوگا کیوں کہ میرے بعد ایک نبی آئےگا وہ آپ لوگوں کو سیدھا راستہ دیکھا ئےگا “
 ( To Lays English Version, New Testament, chapter John )
ان باتوں نے میرے ذہن ودماغ میں ہلچل مچادی، اوربے شمار سوالات اور شبہات کو جنم دیا ۔ اسی اثناء ہندوستان سے ایک بڑا پادری کویت آیاتھا، میں نے موقعہ کو غنیمت جانااور اس کے سامنے اپنے اشکالات رکھے، لیکن اس کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں تھا، ایک مبہم سا جواب ملا کہ دوسرے پادری سے پوچھ کر جواب دوںگا۔ لیکن جواب ندارد۔
میرا مسلم دوست مجھے بعض اسلامی تعلیمات سے آشنا کراتا رہا مزید کچھ  کتابیں دیں جنہیں کافی دلچسپی سے پڑھا ۔ اسلامی تعلیمات میرے تن بدن میں سرایت کرنے لگیں تھیں، پھر مجھے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ ملا جسے پوری لگن سے پڑھا، جوں جوں قرآن شریف کا مطالعہ کرتا جارہا تھا میرا دل ایمان کی حلاوت سے لبریزہوتا جارہاتھا ۔ وہ تمام سوالات و شبہات جو بائبل کے مطالعہ کے دوران میرے ذہن میں گردش کررہے تھے اس کا اطمینان بخش جواب مجھے قرآن میں مل چکاتھا۔ اب میں چرچ سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کردیا، اس کے بعد صحیح البخاری کے انگریزی ترجمہ کا مطالعہ بھی کیا ۔ اب حق سے  راہِ فراراختیار کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ گئی تھی۔  نور ایمان سے میرا دل منور ہوچکا تھا ، عیسی عليه السلام کا صاف وشفاف تصور میرے ذہن میں اپنی جگہ بنا چکا تھا۔ مریم علیہا السلام کے حقیقی مقام ۔ جو قرآن نے انہيں عطاکیا ہے۔ سے واقف ہوچکاتھا، اور فرسودہ عیسائی نظریات کی حقیقت مجھ  پر عیاں ہو چکی تھی۔ چرچ کی دیوار میرے ذہن وجسم سے منہدم ہو چکی تھی ۔ چنانچہ میں نے قبول اسلام سے پہلے ہی نماز کی دعائیں ازبر کرلیں اور اپنے روم میں ہی نماز کی لذت سے روح وجسم کی تشنگی کو بجھانے لگا ۔ پھر ایک دینی محفل میں مولانا صفات عالم کے سامنے دخول اسلام کا اعلان کیا“۔ الحمدُللہ علی نعمة الاسلام


مکمل تحریر >>