جمعرات, ستمبر 08, 2011

تیمی اخوان کے نام


مادر علمی جامعہ امام ابن تیمیہ سے ہم سب دورضرور ہیں لیکن دل سے بہت قریب ہیں، جس جامعہ نے ہماری تربیت کی ہے ، پوسا پالا ہے، بولنے کا ڈھنگ سکھایا ہے ، تہذيب وشائستگى سے آراستہ كيا ہے. زندگی گزارنے کا گر بتلایا ہے، جس کے دامن میں ہم نے علم وآگہی کے موتی چنے ہیں آخرہم اسے کیسے بھلا سکتے ہیں۔ کیا کوئی اپنی ماں کو بھول سکتاہے ....ہمارے لیے جامعہ مادرعلمی ہی تو ہے ۔ جب کبھی کوئی پروگرام ہوتا ہے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش میں بھی جامعہ کے پروگرام میں شریک رہتا ۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا، یہ ہم سب کی مجبوریاں ہیں، ڈیوٹی کے تقاضے ہیں، دل مسوس کر رہ جاتا ہے ، اس بار چھٹی میں بھی گھریلو مسائل، والد صاحب کی بیماری اور وفات سے اس قدر مشغول رہا کہ جامعہ جانے کا موقع بھی نہ مل سکا ۔ جس کا احساس مجھے اب تک ہے ۔
ہمارے دوسرے تیمی اخوان جو جامعہ سے باہر ہیں ان سب کی خواہش ہوتی ہے کہ جامعہ کی سرگرمیوں سے آگاہ ہوتے رہیں۔ ماشاءاللہ دکتور محمد لقمان السلفی کے حسب ارشاد ویب سائٹ بھی تیار ہوچکا ہے ۔ جس پرجامعہ کے سلسلے میں اہم معلومات بھی فراہم کردی گئی ہيں ۔ البتہ ہرماہ اپڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہم سب جامعہ کی تازہ خبروں سے مطلع نہیں ہوپاتے اور جامعہ کے دونوں آرگن الفرقان اور طوبی کے مطالعہ سے بھی محروم رہ جاتے ہیں ۔ پچھلے دنوں راقم سطورنے محسوس کیا کہ ہم تیمی احباب ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں ، قریب رہ کر بھی دوری کا سماں دکھائی دیتا ہے ، میں نے غورکیا ، سوچا کہ کسی طرح ہم سب کا رابطہ استوار رہے. جامعہ سے ہم سب کا روحانی تعلق ہے،اس لیے ہم سب کو جامعہ کے مفاد میں سوچنے کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے ، آراءکا تبادلہ ہوتے رہنا چاہیے ، ایک دوسرے کے نجی حالات سے بھی واقفیت ہونی چاہیے ۔ رابطے کا آسان ذریعہ انٹرنیٹ سمجھ میں آیا چنانچہ میں نے صوت التیمی نام سے ایک بلوگ کھولا تاکہ اس بلوگ کی وساطت سے ہم ایک دوسرے سے ربط میں رہیں ۔ ہم سب ایک دوسرے کے علم سے استفادہ کریں اور دنیا کے کونے کونے میں ہماری آواز پہنچے ۔ میں اپنے ظرف کو جانتا ہوں ، اپنی صلاحيت سے اچھی طرح آگاہ ہوں، مجهے اپنی بے بضاعتي اور كم مائيگى كاپورا پورا احساس ہے من دانم کہ من آنم ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے تیمی احباب مجھ جیسے نہیں ہیں، ہر میدان میں گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں، اورہرجگہ اپنی پہچان رکھتے ہیں۔
پچھلے دنوں حسب سابق دکتورمحمد لقمان السلفی حفظہ اللہ کویت تشریف لائے تھے توایک شام ان کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا ، میرے ہمراہ برادرم کرم اللہ تيمي بھی تھے ، انہوں نے صوت التیمی کا دکتور کے پاس ذکر کیا تو دکتور بےحد خوش ہوئے ۔ دکتور کو ہم نے بارہا اپنے ابناءکی تعریف کرتے ہوئے پایا ہے ۔ ہرتیمی کے تئیں ان کا خیال نيك اورپاكيزه ہوتا ہے ، وہ ہم سب کوآگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور یہ واقعہ ہے کہ ایک قلیل مدت میں تیمی برادران نے ہرجگہ اپنی پہچان بنائی ہے ۔ یہ دکتورکے اخلاص کا ثمرہ نہیں تو اور کیا ہے ....
ہم اس موقع سے اپنے سارے تیمی احباب کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں بالخصوص وہ تیمی احباب جن کے ساتھ جامعہ میں رہا، جن کی صحبت نے ہمارے لیے مہمیز کا کام کیا ،جن کی محبت اب بھی ستاتی رہتی ہے ، جن سے دور ضرورہیں لیکن دل بہت قریب ہے ، ہم ان سب کویادکرناچاہتے ہیں،اپنے دلی جذبات کی تسکین کے لیے ....اپنے نیک خواہشات کے اظہار کے لیے....اپنے اندر امڈتے جذبات ان تک پہنچانے کے لیے....کہ ہم سب جامعہ میں تھے توایک ماں کی اولاد لگتے تھے لیکن جامعہ سے نکلنے کے بعد زندگی کے تقاضوں نے ہم سب کو الگ الگ کردیا ، ہم سب اپنے اپنے میدان میں کام کرنے لگ گئے ، ایک دوسرے سے بہت حد تک روابط بھی کٹ گئے ، ہم جہاں گئے اور جس میدان میں گئے وہاں نئے ساتھی ملے اور ان کے ساتھ اپنے معاملات برتنے لگے ۔
لیکن جامعہ سے ہم سب کا جو روحانی رشتہ ہے وہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم سب جہاں کہیں بھی رہیں جامعہ کے مفاد میں سوچیں، جامعہ سے ہم سب کا قلبی رشتہ ہو، اسی مقصد کے تحت ہم نے بلوگ سروس شروع کی ہے ، ہم اپنے تمام تیمی اخوان سے گزارش كر تے ہیں کہ اس حقیرکی دعوت کو قبول فرمائیں، صوت التیمی کے توسط سے اپنی آوازدنیا کے سامنے پہنچاتے رہیں ، اگرکسی کو براہ راست شرکت میں دقت پیش آتی ہو تو وہ اپنے مقالات مجھے ای میل کردیں ، میں ان کی خدمت کرنے کے لیے ہروقت تیار ہوں، انہیں شامل اشاعت کرنے کی ذمہ داری لیتاہوں۔ الحمدللہ صوت التیمی کا مشاہدہ کرنے والے سعودی عرب،قطر،کویت اور ہندوستان میں موجود تیمی اخوان کے علاوہ مختلف ممالک میں پائے جاتے ہیں، بلوگنگ سسٹم دعوت کے ساتھ ساتھ ہماری قلمی تربیت کا بھی بہترین ذریعہ ہے، جوکچھ چاہیں اس پر لکھتے رہیں ۔
ایک اہم بات رہ گئی ‘ وہ یہ کہ ہم نے صوت التیمی میں ایک کالم خاص کیا ہے ہے” تعرف علی التیمیین “اس کے تحت ہم اپنے تیمی احباب کی زندگی کے اہم گوشوں ،ان کی موجودہ کارکردگی ،ان کی علمی وسماجی خدمات کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں ، اس لیے ہمارے جو تیمی احباب یہ مکتوب پڑھیں وہ اپنا مختصر سوانحى خا كہ تيار كركے مجھے ای میل کردیں ۔ اپنے رابطہ کا پتہ بھی ارسال کریں ۔
ایک خاص گزارش ہندوستان میں موجود تیمی احباب سے ہے کہ ابنائے جامعہ یا مادرعلمی سے متعلق جو خبر بھی ہو اس سے مجھے آگاہ کردیا کریں ، بس ای میل کے ذریعہ ....ابھی جامعہ میں کانفرنس ہوئی ہے ، کویت کے وفد نے جامعہ کا دورہ بھی کیا ہے ، اس کی رپورٹ اگر صوت التیمی میں آجاتی تو کتنا اچھا تھا ، برادرم معراج عالم تیمی صاحب جو ابھی ہندوستان کے سفرپر ہیں ان سے ہم گزارش کرتے ہیں کہ جامعہ کی خبر صوت التیمی پر ضرور ڈالیں اور اس کام کے لیے کسی تیمی کو نامزد کرنے کے بعد ہی تشریف لائیں ۔ تاکہ ہم سب جامعہ کے حالات سے باخبر رہیں ۔ حالیہ دنوں میرے پاس برادرم اسماعیل تیمی، برادرم کرم اللہ تیمی، اور میرے ہم سبق زاہد انور تیمی سب کا میل اسی موضوع پر آیا ہے کہ آج کل جامعہ میں کانفرنس ہورہی ہے ۔ بہرکیف ہم سب دور رہ کر بھی جامعہ کے مشتاق رہتے ہیں ۔اللہ تعالی جامعہ کو دن دونی رات دوگونی ترقی عطا فرمائے ، حاسدین کی نظر بد سے بچائے اور چمن کے مالی علامہ ڈاکٹر محمد لقمان السلفی حفظہ اللہ کا سایہ تادیر دراز رکھے آمین یارب العالمین
یہ چند باتیں تھیں جو قلم برداشتہ تحریر میں آگئی ہیں ، مجھے پوری امید ہے کہ میری آواز صدابصحرا ثابت نہ ہوگی-
مکمل تحریر >>

میں ہوں اورمیرے صرف ایک ماموں ہیں

سوال:

ایک بہن نے میراث کا ایک مسئلہ پوچھاہے کہ میری والدہ کی وفات ہوچکی ہے، اب میں ہوں اورمیرے صرف ایک ماموں ہیں، نہ میرے پاس بھائی بہن ہیں اورنہ ہی ماموں کے پاس ….ترکے کی تقسیم کیسے ہوگی ؟ 

جواب :

صورت مسئلہ میں اگر کوئی عورت مرتی ہے اور اپنے پیچھے صرف ایک بیٹی چھوڑتی ہے، اورایک بھائی چھوڑتی ہے ….اگر صرف اتنے ہی لوگ ہیں اور کوئی نہیں ہے …. تو ایسی صورت میں بیٹی کو آدھا حصہ ملے گا اورباقی بھائی عصبہ ہونے کی حیثیت سے لے لیگا ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ألحقوا الفرائض بأھلہا فما بقی فھو لأولی رجل ذکر (بخارى ومسلم )
 "یعنی اہل فرائض کو ان کے مقررہ حصے دو ،اس کے بعد جو باقی بچے وہ میت کے قریب ترین مرد کو دو ۔"
 
مکمل تحریر >>

محمد جاويد كے نام

مامو جان! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 میرے چند سوالات ہیں جن کے جوابات مطلوب ہیں:
(1) قرآن خوانی کرنا کیسا ہے ؟ (2) نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ (3) نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پیشانی پر ہاتھ رکھنے کا کیا حکم ہے ؟ (4) گردن کا مسح کرنا کیسا ہے ؟ (5) اگر کوئی تراویح پڑھاتا ہولیکن روزہ نہ رکھتا ہو تو کیا اس کے پیچھے تراویح پڑھنا صحیح ہے ؟  (محمدجاويد –  دہلى )
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
(1)  قرآن کا نزول زندوں کے لیے ہوا ہے مردوں کے لیے نہیں۔اورعبادات توقیفی ہوتی ہیں جن کے لیے دلیل چاہیے اوراس تعلق سے کوئی دلیل نہیں پائی جاتی، لہذا مردوں کے لیے قرآن خوانی نہیں كى جا سکتى ۔
(2)
نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ۔ خواه قرأت سرى ہو يا جہري ، " لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب"- ( بخارى ومسلم) تفصیل کے لیے مولانا صلاح الدین یوسف کی تفسیر احسن البیان میں سورہ فاتحہ کی تشریح کے ضمن میں بحث دیکھ لیا جائے ۔
(3)
نماز سے سلام پھیرنے کے بعد سر پر ہاتھ رکھنا بدعت ہے ۔ اور اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ”من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد “(بخاري ومسلم) جس کسی نے میری شریعت میں کوئی نئی چیز ایجاد کی وہ مردود ہے “ ايساہى فتوی کبار علماء کمیٹی سعودی عرب سے صادر ہوا ہے- ۔
(4)
کسی بھی حدیث سے  ثابت نہیں کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے گردن کا مسح کیا ہو ۔ البتہ ابوداؤد کی یہ جو حدیث بیان کی جاتی ہے کہ إن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مسح رأسہ حتی بلغ القذال ” رسول اللہ نے گدی تک گردن کا مسح کیا“ تو اس حدیث کو علامہ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
(5)
اسلام ہمیں حسن ظن کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس بنیاد پر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ امام کے پاس کسی طرح کا عذر ہے جس کی بنیاد پر وہ روزہ نہیں رکھ رہا ہے ۔ اگر واقعی کوئی عذر نہ ہو تو ایسے حافظ کو تراویح کی نماز کے لیے مقرر کرنا صحیح نہیں ۔ امامت نہایت اعلی عہدہ ہے جس کا حقدار نیک ، متقی اور پابند شریعت ہونا چاہیے ۔ اس کے باوجود اگر ایسا کوئی شخص ہمارا امام بنا دیا گیا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ۔ صحابہ کرام نے حجاج بن یوسف کے پیچھے نمازیں پڑھیں جو سب سے بڑا فاسق اور ظالم تھا۔

مکمل تحریر >>

بدھ, ستمبر 07, 2011

تفسیر آیت الکرسی


 اللّہُ لاَ اله اَّلا ہُوَ الحَیُّ الَیُّومُ لاَ تَاخذُہُ سِنَة وَلاَ نَومّ لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الاَرضِ مَن ذَا الَّذِی یَشَفعُ عِندَہُ َّ الا باِذنہِ یَعلَمُ مَا بَینَ اَیدِیہِم َومَا خَلفَہُم وَلاَ یُحِیطُونَ بِشَیءٍ مِّن عِلمِہِ  الا بِمَا شَاء وَسِعَ کُرسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالارضَ وَلاَ یَودُہُ حِفظُہُمَا وَہُوَ العَلِیُّ العَظِيم (سورة البقرة 255  )
ترجمہ: 
"اللہ ہی معبودبرحق ہے جس کے سوا کوئی معبودنہیں،جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے،جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند،اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے،وہ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے اورجو اس کے پیچھے ہے اوروہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے، مگرجتنا وہ چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے،وہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اورنہ اکتاتا ہے، وہ تو بہت بلنداوربہت بڑا ہے۔") سورة البقرة255 (

تشریح: 
قرآن کریم کی ساری آیات میں سب سے بہتر،سب سے عظیم اور سب سے افضل آیت ’آیت الکرسی‘ ہے۔ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا :”ابوالمنذر! کیاتم جانتے ہو کہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے ؟“ کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ اور اسکے رسول زیادہ علم رکھتے ہیں ۔آپ نے پھر پوچھا:”ابوالمنذر!کیاتم جانتے ہو کہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے ؟کہتے ہیں ،میں نے کہا: اللّہُ لا اله الا هو الحي القيوم تواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اورفرمایا: ”ابوالمنذر! تجھے علم مبارک ہو “۔(مسلم)
جوشخص فرض نماز کے بعد اس کی تلاوت کرتاہے وہ دوسری نماز تک اللہ کے حفظ وامان میں آجاتاہے،بلکہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کا مستحق بن جاتاہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من قرأ آیة الکرسی دبرکل صلاة مکتوبة لم یمنعہ من دخول الجنة الا أن یموت ”جس نے ہرنماز کے بعد آیت الکرسی پڑھا اسے جنت میں داخل ہونے سے موت ہی روک سکتی ہے ( نسائی ،وصححہ الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب 1595 )

یہ آیت جن وشیاطین کے شر کے سامنے ڈھال کی سی حیثیت رکھتی ہے ،شیخ الاسلام ابن تیمیة نے فرمایاکہ ”آیة الکرسی جادوگروں کے جادو اور شعبدہ بازوں کی شعبدہ بازی کے ابطال کے لیے مجرب نسخہ ہے “۔جوشخص اس آیت کا اہتمام کرتاہے شیطان کے شرسے دور ہو جاتا ہے اور اللہ کے حفظ وامان میں آجاتا ہے ،صحیح بخاری میں ابوہریرہ  رضى الله عنه کی مشہور روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوصدقہ فطر کی نگرانی پر مامورکیا تھا ،ان کے پاس رات میں لگاتار تین روز تک ایک شخص آتا رہا اور صدقہ فطر سے چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا،لیکن ہررات اس نے اپنے فقروفاقہ کی شکایت کی تو ابوہریرہ ؓنے اس پررحم کھاتے ہوئے معاف کر دیا،تیسرے روز اس نے ایک نسخہ بتایاکہ جب تم بستر پرسونے کے لیے جاؤ توآیت الکرسی پڑھ لو ،صبح تک اللہ کی طرف سے تیری حفاظت ہوتی رہے گی اورشیطان تیرے قریب نہ آسکے گا ۔ ابوہریرہ رضى الله عنه نے جب یہ ماجر ا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أما إنہ قدصدقک وھوکذوب ” اس نے تجھ سے سچ کہا لیکن وہ جھوٹاہے“ پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تین روزتک تمہارے پاس جوشخص آتارہا وہ دراصل شیطان تھا ۔(بخاری ) گویاشیطان نے اعتراف کیا کہ اللہ کی جناب میں اس کے شر سے پناہ حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ آیت الکرسی ہے۔

اس آیت کریمہ کی اس قدر اہمیت وفضیلت اسی لیے ہے کہ یہ اللہ تعالی کی قدرت وعظمت،اس کی وحدانیت اور صفات جلال پر مبنی نہایت جامع آیت ہے ، شرح صحیح مسلم میں امام نووی رحمہ الله نے فرمایا: ”علماءکہتے ہیں کہ آیت الکرسی دوسری آیتوں سے ممتازاس لیے ہے کہ یہ اسماءوصفات کے بنیادی اصول الوہیت ،وحدانیت ،زندگی ،علم ،ملک،قدرت اورارادہ پر مشتمل ہے ،اوریہ سات چیزیں اسماءوصفات کی اساس ہیں۔“ اسی بنیادپر اس کو پڑھنے ،صبح وشام کے اوقات میں اسے اپنا وظیفہ بنانے،سوتے وقت اور پنجوقتہ نمازوں کے بعد اس کا اہتمام کرنے کی بیحد ترغیب دلائی گئی ہے ۔

 آیت الکرسی میں اللہ گکی ذات وصفات اورجلالت شان کا مکمل تعارف آگیا ہے ، آیت کا آغاز لفظ ’اللہ‘سے ہوا جس کا اطلاق اللہ کے علاوہ کسی اورکے لیے نہیں ہوسکتا،وہی اللہ عبادت کا مستحق ہے اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں کی جاسکتی،اورعبادت ہروہ ظاہری وباطنی اقوال وافعال ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتاہے مثلاً نماز،روزہ ،حج ، زکاة،دعا،استغاثہ،رکوع،سجدہ،قربانی، نذرونیاز وغیرہ جنہیں صرف اللہ گکے لیے انجام دینا ضروری ہے ۔ اسکے علاوہ کسی اورکی عبادت نہیںکی جاسکتی،اسکے علاوہ کسی اورکو مشکل کشااورحاجت رواسمجھانہیں جاسکتا۔یہی وہ پیغام ہے جس سے نبی پاک ا اپنی دعوت کا آغاز کرتے ہیں اوراپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات تک اسکی یاددہانی کراتے ہیں : ”یہودیوں اور عیسائیوں پر اللہ کی لعنت ہوکہ انہوںنے اپنے انبیاءکی قبروںکو سجدہ گاہ بنالیا“۔(بخاری ومسلم)
 اللہ ہی ہماری عبادت کا مستحق کیوں ہے؟ اس لیے کہ وہ خالق ہے،مالک ہے،رازق ہے،ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا،اس کی زندگی ازلی ہے،جس کی نہ ابتداءہے نہ انتہاہے ،ہر چیز سے بے نیاز ہے ، اورہر مخلوق اس کی محتاج ہے،جن وانس اورفرشتے ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتے،جن وانس کی فرمانبرداری سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا اوران کی نافرمانی سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہوسکتا،ہر طرح کے کمال سے متصف ہے،یہ اس کا کمال ہے کہ اُسے نہ کبھی اونگھ آتی ہے اورنہ نیند ،جسے اونگھ اورنیندآتی ہو اسے تھکاوٹ لاحق ہوتی ہے،بیماری اورموت سے دوچار ہوتا ہے اوراللہ کی ذات ایسے نقص سے بالاتر ہے۔زمین وآسمان میں جتنی چیزیں ہیں خواہ عاقل ہوںجیسے فرشتے،انسان اورجن یا غیرعاقل جیسے حیوانات،نباتات اورجمادات‘ سبہوں کو اسی نے پیدا کیا ،ہر ایک کو شمار کرر کھا ہے اور ان سب کاحقیقی مالک ہے۔ اس کی کمال عظمت ہے کہ اس کے سامنے اس کی اجازت کے بغیرکسی کو کسی کی سفارش کرنے کی جرات نہ ہوگی،اوراجازت کے بعد بھی سفارش ایسے ہی لوگوں کی کرسکتے ہیں جن کے عمل سے اللہ راضی ہوحتی کہ ہمارے حبیب ابھی ایسے ہی لوگوں کی سفارش کریں گے جو موحدین میں سے ہوں۔ وہی ماضی مستقبل اورحال کا علم رکھتا ہے ،ساری مخلوق کی حرکات وسکنات سے آگاہ ہے ،جنگل میں ایک پتا گرتا ہے اسے بھی وہ جان رہا ہے ،اورسمندرمیں مچھلیاں کیاکرتی ہیں اس پر بھی وہ نگاہ رکھے ہوا ہے ،وہ آنکھوں کی خیانت اوردلوں کے بھید سے بھی آگاہ ہے ۔ بندوں کو اتنا ہی علم حاصل ہوسکتا ہے جتنا وہ انہیں عطا کردے ،ہرطرح کی ایجادات واکتشافات اللہ کے عطا کردہ علم ہی کی رہین منت ہیں۔ اس کی کرسی آسمان وزمین کا احاطہ کئے ہوئی ہے ،اورآسمان وزمین کی اس قدرعظمت کے باوجودوہ اس کی حفاظت سے نہ تھکتاہے اورنہ اکتاتا ہے، اس کی ذات بہت بلنداوربہت بڑی ہے۔

اس آیت پر غورکرنے سے بندے کا ایمان تازہ ہوتا ہے،اس کا یقین مضبوط ہوتا ہے،اپنے رب سے اس کا تعلق مستحکم ہوتا ہے۔وہ ہمیشہ خودکواللہ کے علم اوراس کی نگرانی میں پاتا ہے،اس طرح اس کے اندردین پراستقامت اورثبات قدمی پیدا ہوتی ہے ۔
مکمل تحریر >>