بدھ, جون 08, 2011

پریشانیوں سے بد دل نہ ہوں


 اس دنيا ميں کون ايسا انسان ہے جسے تکليف نہ آتی ہو؟ جسے رنج وغم لاحق نہ ہوتا ہو ؟ يہ تو دنيا کی ريت ہے ، يہاں رہنا ہے تو کبھی خوشی تو کبھی غم، کبھی پريشانی تو کبھی بدحالی ، کبھی سکھ تو کبھی چين يہ انسان کے ساتھ لازم ملزوم ہے 
 گو سراپا عيش وعشرت ہے سراب زندگی
   اشک بھی رکھتا ہے دامن ميں سحاب زندگی

دنيا مسائل ہی کا نام ہے ، اس سرائے فانی ميں کون ايسا انسان ہے جو ہميشہ خوش وخرم رہتا ہو، کون ايسا گھر ہے جہاں ماتم نہ ہو، مصيبتيں،  پريشانياں، آفتيں، آلام ومصائب زندگی کا اٹوٹ حصہ ہيں ۔اگر يہ مصيبتيں کسی فاسق وفاجر پر آتی ہيں تو يہ اس کے کالے کرتوت کا نتيجہ ہوتی ہيں، اور اگر کسی بندہ مومن پر آتی ہيں تو يہ اس کے ايمان کی علامت ہوتی ہے ، اللہ تعالی بندے سے جس قدر محبت کرتا ہے اسی قدر اسے آزماتا ہے ۔
لہذا ہميں غور کرکے ديکھنا چاہيے کہ اگر ہم پر کسی طرح کی مصيبت آئی ہوئی ہے، ملازمت سے محروم ہيں، یا کفیل سے پریشان ہیں، یا تنخواہ معمولی ہے جس سے ضروریا ت  کی تکمیل نہیں ہوپاتی ، ياسالوں سے بيمار ہيں ،ياجسم وجان سے مجبور ہيں جبکہ ہمارا تعلق اپنے خالق ومالک سے مضبوط ہے تو ہميں سمجھ لينا چاہيے کہ اللہ تعالی ہم سے محبت کرتا ہے اور ہميں آزماکراپنا مقرب بنانا چاہتا ہے ۔ ذرا سنئے کچھ بشارتيں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ فیض ترجمان سے :
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا :
 ”اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصيبت ميں گرفتا رکرديتا ہے“ ۔
 گويا کہ بندہ مومن کامصيبت سے دوچار ہونا اس کے ليے نيک فال ہے، حب الہی کی علامت ہے ، سزا يا عذاب نہيں ۔ آپ انے يہ بھی فرمايا:
”اللہ تعالی جب اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تواس کے گناہوں کی سزا دنيا ميں ہی دے ديتا ہے، اور جب اللہ تعالی اپنے بندے کے ساتھ شرکا ارادہ فرماتاہے تواس کے گناہ کی سزا روک ليتا ہے، اس کا پورا پورا بدلہ قيامت کے دن دے گا ۔
ايک حدیث میں آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا :
فما يبرح البلاء علی العبد حتی يترکہ يمشی علی الارض ما عليہ خطيئة
”مصيبت آدمی کے ساتھ لگی رہتی ہے يہاں تک کہ وہ زمين پر چلتا پھرتا ہے اور اس کے اوپر گناہ نہيں ہوتا“۔
ان احاديث پر غور کيجيے اور اندازہ لگائيے کہ جو لوگ ايمان رکھتے ہوئے مصيبت سے دوچار ہيں وہ درحقيقت خوش نصيب ہيں، خوش بخت ہيں، وہ اللہ کے مقرب بندے ہيں، ہميں ان احاديث سے يہ بھی معلوم ہواکہ بندہ جس قدر ايمان کا پکا ہوتا ہے اسی قدر اس کی آزمائش بھی ہوتی ہے ۔ کيوں کہ مصائب گناہوں کومٹاتے ہيں اور بندہ مومن چوں کہ اللہ تعالی کا محبوب ہوتا ہے اس ليے اللہ تعالی چاہتا ہے کہ بندے کو گناہوں سے پاک و صاف کرديا جائے تاکہ وہ آخرت کی رسوائی سے بچ سکے ۔
يہ احاديث ايسے لوگوں کے ليے تازيانہ عبرت ہيں جو مصيبت ميں پريشان ہوجاتے ہيں، ہاتھ پير مارنے لگتے ہيں، اول فول بکنے لگتے ہيں ، اللہ تعالی سے شکوی شکايت کرنے لگتے ہيں ، بلکہ بسا اوقات کفر يہ کلمات تک بول جاتے ہيں ۔ حالاں کہ ہونا يہ چاہيے کہ مصيبت زدہ صبر سے کام لے ،پريشانيوں کو انگيز کرے، اللہ کے فيصلے پر راضی برضا رہے ، اور يہ يقين کرے کہ اللہ تعالی اپنے بندے کے ليے ہر حال ميں اچھا ہی چاہتا ہے۔ پھر اسے یہ بھی تو سوچنا چاہيے کہ اگر وہ کسی مصیبت میں پھنسا ہوا ہے تو اس پر اللہ کی نعمتیں بھی بے شمار ہیں۔ اگر بندہ اللہ تعالی کی ان بے بہا نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کی اہمیت سمجھ لے تو اس کی ساری مصیبتیں ہیچ ٹھہریں گی۔
 ایک مرتبہ ابن سماک خلیفہ ہارون رشید رحمه الله کے پاس آئے اورانہیں دل پذیر نصیحت کی ،نصیحت سن کر ہارون رشید آبدیدہ ہوگئے ۔ اسی اثنا خلیفہ نے پینے کے ليے پانی منگوایا ، ابن سماک نے عرض کیا : امیرالمومنین ! اگر آپ پیاس سے بے تا ب ہوں اور آپ کو دنیا اوراس کی ساری چیزیں ایک گلاس پانی کے بدلے چکانا پڑے تو کیا آپ جھجھک محسوس کریں گے ؟
ہارون رشید نے کہا : جی نہیں ۔
ابن سماک نے کہا : اللہ برکت دے ، پانی پی لیجئے
ہارون رشید جب پانی پی چکے تو ابن سماک نے کہا : امیرالمومنین ! ابھی آپ نے جو پانی نوش فرمایا ہے اگر وہ پیشاب کے راستے میں رُک جائے اور اسے باہر کرنے کے ليے دنیا اوراس کے اندر کی ساری چیزیں چکانا پڑے تو کیا آپ اس کے ليے تیار ہوجائیں گے ؟
ہارون رشید نے کہا : ہاں بالکل ۔
تب ابن سماک نے کہا : فما تصنع بشیء شربة ماء خیر منہ تو آخر اس بادشاہت سے کیا فائدہ جس سے بہتر ایک گھونٹ پانی ہو ؟۔
اس واقعے سے بتانا مقصود یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کی نعمتوں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہيے ، ایک گھونٹ پانی کی اس قدر اہمیت ہے کہ انسان اس کے ليے ملک وسلطنت تک کی پرواہ نہیں کرتا، تو آخر وہ انسان جو سرتا پا نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے اُسے کیوں کر زیب دیتا ہے کہ وہ اللہ کی ناشکری کرے ۔
ہمارے حبیب نے نعمتوں کے عرفان کے ليے ایک اصول یہ بتایا کہ :
أنظروا إلی من ھو أسفل منکم ولا تنظروا إلی من ھو فوقکم فإنہ أجدر أن لا تزدروا نعمة اللہ علیکم.
 "اپنے سے نیچے والوں کی طرف دیکھو ،اپنے سے اوپر والوں کی طرف مت دیکھو کیوں کہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو ہیچ نہ سمجھو"
کہتے ہیں کہ کسی مرد صالح کے پاس ایک شخص نے اپنے فقروقافہ کی شکایت کی تو اس مرد صالح نے اس سے کہا : کیا تجھے یہ بات خوش کرے گی کہ تو اندھا ہو اور تیرے پاس دس ہزار درہم ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ پوچھا : کیا تجھے یہ بات خوش کرے گی کہ توگونگا ہو اور تیرے پاس دس ہزار درہم ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ پوچھا : کیا تجھے یہ بات خوش کرے گی کہ تیرے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کٹے ہوں اور تیرے پاس دس ہزار درہم ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ۔ پوچھا : کیا تجھے یہ بات خوش کرے گی کہ تو پاگل اور دیوانہ ہو اور تیرے پاس دس ہزار درہم ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ۔
تب اس مرد صالح نے کہا :
 أما تستحیی أن تشکو مولاک ولہ عندک عروض بخمسین الفاً
"کیا تجھے اپنے مالک سے شکایت کرنے میں شرم نہیں آتی جبکہ تیرے پاس پچاس ہزار کا سامان موجود ہے" ۔

مکمل تحریر >>

جمعہ, جون 03, 2011

ٌجو ٹیکسی کمپنیاں کرایہ پرٹیکسی فراہم کرتی ہیں اس كا حكم


سوال: آجکل ٹیکسی کمپنیاں کرایہ پرٹیکسی فراہم کرتی ہیں اس میں ہوتا یہ ہے کہ فائدہ میں تو کمپنیاں شریک رہتی ہیں لیکن نقصان کی صورت میں ڈرائیور ہی ذمے دار ٹھہرتا ہے کیا اس طرح کا معاملہ کرکے روزانہ کے حساب سے کمپنی کو مخصوص رقم دینا جائز ہے۔ ؟ (وحیدالزماں۔کویت )
 جواب : اس سلسلے میں کون سی صورت جائز ہے اور کونسی صورت جائز نہیں ہے ‘ذیل میں ہم اس کی تفصیل بیان کررہے ہیں:
(1)  اگر کمپنی آپ کی طلب پرٹیکسی خریدتی ہے اوراسے اپنے قبضے میں کرلیتی ہے ،اب آپ کمپنی سے وہی ٹیکسی اس کی حالیہ قیمت سے زیادہ دے کر ادھار لے لیتے ہیں ،اس معاہدے کے ساتھ کہ آپ قیمت قسط پر ادا کریںگے تویہ شکل جائزہے۔اس صورت کو قسطوںکی بیع یا انسٹالمنٹ کانام دیتے ہیں بشرطیکہ قسط پر قیمت کی ادائیگی کی پوری تفصیل درج کردی گئی ہو کہ کتنے دنوںمیں اورکتنی رقم اد ا کرنی ہے ۔ اسی طرح اگر قسطوںکی ادائیگی میں سستی کرے تو اُس پر سود یا اضافہ نہ ڈالا جائے ۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ معاملہ فسخ کردیاجائے اور مکمل قیمت کی ادائیگی کا اُسے مکلف کیا جائے ۔
(2) دوسری شکل یہ ہے کہ کمپنی ٹیکسی خریدکرڈرائیور کو اجرت پر دے دیتی ہے اور اسے مکلف کرتی ہے کہ روزانہ کے حساب سے متعین مبلغ کمپنی کو جمع کرتار ہے ۔حسب اتفاق چار سال یاپانچ سال کے بعد جب پوری رقم ادا ہوجائے گی تو گاڑی کا وہ مالک بن جاے گا ۔ اس معاملہ کو عربی میں التاجیرالمنتھی بالتملیککہتے ہیں ۔اِس کی صحت کے لیے دو شرطیں ہیں:
پہلی شرط یہ کہ معاملے میں یہ طے ہوکہ ٹیکسی کی قیمت کی ادائیگی قسط پر ہوگی اور قیمت مکمل ہونے کے بعد ڈرائیور اس کا مالک بن جائے گا ۔
دوسری شرط یہ کہ ٹیکسی کا ضامن کمپنی ہو ۔یعنی پہلے ہی دن معاملے میںیہ بات طے ہو کہ ٹیکسی میں کسی طرح کی خرابی پیدا ہونے پرصحیح کرانے کی ذمہ داری کمپنی کی ہوگی ۔ اجرت پر لینے والے کی نہیں ۔ کیونکہ ابھی ڈرائیور اس کا مالک نہیں بناہے ۔
اگرمعاملہ کرتے وقت ان دو شرطوںکو ملحوظ رکھاگیا ہے تب تو اس شکل میںٹیکسی چلانا جائز ہے اور اگریہ دو شرطیں نہیں پائی جاتیں تو جائز نہیں ۔ اور صورت مسﺅلہ میں بیک وقت دونوں شرطیں مفقود ہیںلہذا یہ شکل جائز نہیں ہوگی ۔
سوال: میں جمعہ کے دن مالیہ کی مسجد میں گیا وہاں مولانا خطبہ میں فرمارہے تھے کہ جو مانگنا ہے اللہ سے براہ راست مانگو نہ کہ کسی درگاہ پر جاکر۔ کیونکہ قبرمیں مدفون مردے بے جان ہیں ۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ درگاہ پر کوئی جاکر ان سے مانگتا نہیں ہے بلکہ اُن کو سفارشی بناتاہے کیونکہ وہ اللہ کے ولی ہیں ۔ آپ بتائیے کہ انہوں نے صحیح کہا یا غلط ؟ (ایقان احمد ۔کویت)
جواب :امام صاحب کی بات بالکل صحیح ہے اور آپ غلط فہمی کے شکار ہوگئے ہیں۔جہاں تک اولیائے کرام کی بات ہے تو اللہ پاک نے ان کی شان میں خود فرمایاہے ﴾اَلا انَّ ا َو لِیَاء اللّہِ لاَ خَو ف  عَلَیہِم وَلاَ ہُم  یَحزَنُونَ، الَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ ﴿ (سورة یونس 62-63)
 ”یاد رکھواللہ کے اولیاءپر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ ‘ وہ ہیں جو ایمان لائے اور برائیوں سے پرہیز کرتے رہتے ہیں۔“ گویا اولیائے کرام وہ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفت سے متصف ہوں۔
لہذا اگرآپ اللہ تعالیٰ کے اسماءوصفات کے ذریعہ یا نیک عمل کا واسطہ دے کراللہ سے مانگیں یاکسی زندہ و نیک صفت بزرگ کے پاس جاکران سے دعاکی درخواست کریں تو اللہ پاک سنتے ہیں،لیکن جب وہی فوت پاگئے تو اُن کے اندرسے سننے کی صلاحیت جاتی رہی، اللہ پاک نے قرآن کریم میں دوجگہ صراحت کے ساتھ کہہ دی ہے سورہ فاطر آیت نمبر22  وَمَا اَنتَ بِمُسمِعٍ مَّن فِی القُبُورِ﴿” (اے نبی  صلى الله عليه وسلم) آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں“۔
 اسی طرح اللہ پاک نے سورہ نمل آیت نمبر80میں فرمایا:   إِنَّکَ لَا تُسمِعُ المَوتَی﴿ ”(اے محمد صلى الله عليه وسلم ) آپ مردوں کوسنا نہیں سکتے“ ۔
 یہ خطاب پیارے نبی صلى الله عليه وسلم  سے ہے ، اگر ہمارے آقا مردوں کو نہیں سنا سکتے تو ہم کس کھیت کی مولی ہوتے ہیں کیونکہ اگر سنیں گے تو بولیں گے اورجواب بھی دیں گے۔     
 پھر آپ نے سفارشی بنانے کی جو بات کہی ہے کہ ہم مردے سے مانگتے نہیں بلکہ ان کومحض سفارشی بناتے ہیں کیوں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں تواب آپ خود سوچیں کہ جوسن نہ سکتا ہو اس کو سنانے سے کیا فائدہ ؟ دوسری بات یہ کہ اللہ تک پہنچنے کے لیے کسی واسطے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ وہ توخود کہتا ہے :﴾ وَلَقَد خَلَقنَا الاِنسَانَ وَنَعلَمُ مَا تُوَسوِسُ بِہِ نَفسُہُ وَنَحنُ اَقرَبُ اِلَیہِ مِن حَبلِ الوَرِیدِ﴿(سورة قٓ16) ”ہم نے انسان کوپیدا کیاہے اوراس کے دل میں جوخیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اورہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں“ ۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ اِذَا سَا َلَکَ عِبَادِی  عَنِّی  فَاِنِّی قَرِیب اُجِیبُ دَعوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ  (سورة بقرة 186)
 ”جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے ‘قبول کرتا ہوں“۔
اس لیے ہم اللہ کی ذات کو بادشاہوں اور رعایا کے جیسے قیاس نہیں کرسکتے کہ جس طرح بادشاہ کے پاس پہنچنے کے لیے واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح اللہ تک پہنچنے کے لیے واسطے کی ضرورت ہوگی۔چونکہ بادشاہ کو آپ کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی اس لیے آپ واسطہ سے اُس تک پہنچتے ہیں لیکن اللہ تعالی تو آپ کو پوری طرح جان رہا ہے ۔ وہ آپ کو دیکھ بھی رہا ہے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے کسی کی توجہ دلانے کی ضرورت ہو ،تب ہی وہ کسی کے معاملے پر غور کرے گا۔
 کل قیامت کے دن بھی اللہ کے پاس سفارش دو شرطوں کے ساتھ ہی چل سکتی ہے۔ (1) سفارش کرنے والے کو سفارش کرنے کی اجازت۔(2)جس کے لیے سفارش کی جارہی ہے اُس سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی۔ (سورہ طہ 109)
پھر آپ نے سفارشی بنانے کا جو ذکر کیاہے بعینہ یہی عقیدہ کفارمکہ کا تھا، وہ بھی مانتے تھے کہ خالق ومالک اللہ تعالی ہی ہے ،وہی روزی دیتا ہے، وہی ہمارے کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے ، وہی مردے کو زندہ اور زندے کو مردہ کرتا ہے اوروہی کائنات کی تدبیربھی کررہاہے (سورہ یونس 31) پھر اُن کی اصل غلطی کیا تھی ؟ وہ کہتے تھے﴾ مَا نَعبُدُہُم الا لِیُقَرِّبُونَا اِلَی اللَّہِ زُلفَی  (سورة الزمر3)”ہم اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ(بزرگ) اللہ تک ہماری رسائی کرادیں“ ۔ دوسری جگہ اللہ پاک نے فرمایا:  وَیَقُولُونَ ہَؤُلاء شُفَعَا ُنَا عِندَ اللّہِ  (سورہ یونس آیت نمبر18) ” اور کہتے ہیں کہ یہ (بزرگ)اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں“۔ خانہ کعبہ میں کتنے انبیائے کرام کی مورتیاںبھی رکھی گئی تھیں جن کے تعلق سے کفارمکہ کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے پاس ان کے سفارشی ہیں۔ 
اب آپ خود سوچئے کہ اسی عقیدے کی بنیاد پر اللہ پاک نے کفارمکہ کے عمل پر نکیر فرمائی اور ان کواپنے حبیب کا حریف ٹھہرایا تو آج اگرہم وہی عقیدہ رکھ کر مریں تواپنے آقا کے رفیق کیوں کر بن سکتے ہیںجن کی نبوت کی23 سالہ زندگی اسی عقیدے کی تردید میں گذری یہاںتک کہ حیات طیبہ کے آخری ایام میں فرمارہے تھے: ” یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے انبیائے کرام کی قبروںکوسجدہ گاہ بنالیا “ (بخاری ومسلم ) اگر ہمارے آقانے انبیائے کرام کی قبروں کو عبادت گاہ بنانے والوں پرلعنت بھیجی تو کیا اولیائے کرام کی قبروں کو عبادت گاہ بنانے والے ملعون نہ ٹھہریں گے ….؟ 
مکمل تحریر >>

جمعہ, مئی 06, 2011

آسیب کا علاج


سوال : 

میرے بھتیجے پر آسیب کا اثر ہوگیا تھا ،کیا واقعی ایسا ہوتا ہے اور اس سے بچاؤ کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے ؟ ۔        ( محمد اکرام ۔ رقعی )
جواب:

 اللہ پاک نے جنوں اور شیاطین کو ایسی طاقتیں دے رکھی ہیں جس کی بدولت وہ لوگوں پر سوار ہو جاتے ہیں اور انہیںپریشان کرنے لگتے ہیں ۔ گویا آسیبی اثر حق ہے ، البتہ اس کے شکار وہی لوگ ہوتے ہیںجوبے احتیاطی برتتے ہیں مثلاً عورتوں کا گھر سے بے وقت نکلنا، بِل وغیرہ میں پیشاب کردینا ، شرعی اذکار کی پابندی نہ کرنا ۔گھروں میں موسیقی کے آلات رکھناوغیرہ یہ چند اہم اسباب ہیں جن کی وجہ سے بدمعاش جنات انسانوں کو پریشان کرتے ہیں ۔ آسیبی اثر سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ گھر میں داخل ہوتے وقت1- اللہ کا ذکر کریں، 2- اہل خانہ سے سلا م کریں 3- کھاتے اور پیتے وقت اللہ کا ذکر کریں 4- گھر میں کثرت سے قرآن کی تلاوت کریں بالخصوص سورہ بقرہ کی تلاوت کرنے سے جن وشیاطین دور رہتے ہیں ۔

مکمل تحریر >>

بدھ, مئی 04, 2011

کویتی معاشرہ میں دینی رجحانات کی چند جھلکیاں


عنوان سے ظاہر ہے کہ آج ہم ”دیارِغیر“ کے کالم میں کویتی معاشرے میں دینی روایات کی ایک جھلک پیش کرناچاہتے ہیں تاہم اس سے کسی کو یہ مغالطہ نہ ہو نے پاے کہ ہم اہل کویت کی جھوٹی تعریف کرکے خاکم بدہن ان کا منظورعقیدت بننا چاہتے ہیں۔ میری ایسی کوئی سوچ ہرگز نہیں ہے۔ البتہ جہاں اسلامی اقدار وروایات کی بہت حد تک پابندی ہو رہی ہو اور وہاں کچھ  ایسی خوبیاں ہوں جن سے ہمارا دامن خالی ہے تو ضرورت پڑتی ہے کہ اُنہیں اجاگر کیا جائے تاکہ ہم بھی انہیں اپنے ليے مشعل راہ بناسکیں ۔ ہم نے برصغیرپاک وہندکے دینی روایات کا جائزہ لیا، وہاں کے رسم ورواج پر نظر ڈالی پھرکویتی معاشرے پرنگاہ پڑی تو بیشمار دینی روایات میں مغائر ت پائی،
واقعہ یہ ہے کہ ہم جس سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں اس معاشرہ پر ہندوتہذیب کی نمایاں چھاپ نظرآتی ہے، یہ المیہ ہے کہ ہم نے برصغیر پاک وہند پرصدیوں تک حکومت کی تاہم  ہم تو برادران وطن پراسلامی تہذیب کی کوئی چھاپ نہ چھوڑ سکے البتہ ہم ان کے رنگ میں ضرور رنگ گيے۔ اسی ليے اب تک ہم عقائد ،عبادات، معاملات، اور معاشرت ومعیشت کے مختلف ابواب میں ہندو رسم و رواج کی جکڑ بندیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔  ہاں! ابھی ہم جس ملک میں وقتی طورپر بودو باش رکھتے ہیں، یہ ایک مسلم ملک ہے جہاں مغربی تہذیب کی دراندازی کے باوجود جگہ جگہ پر اسلامی معاشرہ کی جھلکیاں نظرآتی ہیں۔ يہاں کے باشند گان بالعموم اسلامی اقدار وروایات کاپاس ولحاظ کرتے ہیں اس اعتراف کے ساتھ کہ دیگرممالک کے جیسے یہ ملک بھی بُرائیوں سے خائی نہیں تاہم  خُذمَا صَفَا وَدَع مَاکَدِرَ کے تحت اس کالم میں چند دینی خوبیاں سپرد قلم کی جا ئیں گی،سردست پہلی خوبی پرنظرڈالیں۔

 دعوتی تڑپ:

کویتی معاشرہ میں دعوت کا بے پناہ رجحان پایا جاتا ہے، اہل کویت غیرمسلموں کو اسلام کا پیغام پہنچانے کے ليے بے چین رہتے ہیں، اس کی واضح مثال کویت میں IPC کی مختلف شاخوں کا وجود اور سن تاسیس سے اب تک ۵۴ ہزار سے زائد مردوخواتین کا اسلام قبول کرنا ہے۔ اس میں اہل کویت کے مادی تعاون کے ساتھ  ساتھ  ان کامعنوی تعاون بھی شامل رہا ہے۔ آج بھی کویتی گھروں میں کام کرنے والے مردوخواتین اپنے کفیل کی دعوت پر ہی اسلام کو گلے لگا رہے ہیں ۔ IPC کی ہر شاخ میں ایک آدمی محض دعوتی پیکج کے ليے کال اٹھانے پرمامور ہوتا ہے جو پتہ نوٹ کرکے ڈرائیور کے حوالے کردیتا ہے اور ڈرائیور مطلوبہ پتہ پر دعوتی پیکج پہنچا آتا ہے،  دعوتی پیکج پڑھنے کے بعد اسلام کی جانکاری کی مزید چاہت ہوتی ہے تو کفیل اسے IPC کی کسی شاخ میں لاتا ہے چنانچہ اس کی زبان میں بات کرنے والا داعی اسے اسلام سمجھاتاہے، اگر شرح صدر حاصل ہوگیا تو اسی وقت کلمہ شہادت کی گواہی دے کر اسلام کو گلے لگالیتا ہے۔  پھراس کے فائل کھول ديے جاتے ہیں جس میں قبول اسلام کا قصہ اور اس سے متعلق بنیادی معلومات درج کی جاتی ہیں۔ اورکفیل کی اجازت سے ہفتہ واری تربیتی کلاسیز میں آکراسلام سیکھنا شروع کردیتا ہے۔ ان سارے مراحل میں ظاہر ہے کفیل کا پورا تعاون حاصل ہوتا ہے۔ راقم سطور تقریبا 5 سال سے IPC میں کام کررہاہے، اس بیچ کویتیوں کے دعوتی جذبہ کو دیکھ  کر بڑا رشک آیا۔  کتنے لوگ یہاں آکرمختلف دعوتی پیکج لے کر جاتے ہیں اور غیرمسلم عاملوں میں تقسیم کرتے رہتے ہیں ۔

”بوحمد” نام کے ایک کویتی عرصہ سے ہمارے پاس آتے ہیں، ان کا معمول سابن گیا ہے کہ سرراہ چلتے غیرمسلم سے پیارومحبت سے بات کرکے IPC میں داخل کرکے اسے دعاة کے پاس بیٹھا دیتے ہیں یا کم ازکم اسے دعوتی پیکج ضرور دیتے ہیں ۔

مدارس وجامعات کے مختلف شعبوں میں زیرتعلیم کویتی بچے پکنک کے پروگرام کے ليے کبھی کبھی IPC آتے ہیں، جب ان کے سامنے IPC کی دعوتی کارکردگی پیش کی جاتی ہے تو ان کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی ۔ اپنے گھروں میں کام کرنے والے مردوخواتین کے ليے دعوتی پیکج ضرور لے کر جاتے ہیں۔  

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے راقم سطور اپنی آفس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک کویتی فوجی وردی زیب تن کيے IPC میں داخل ہوا،  اپنے ساتھ  اس نے انگریزی زبان میں بھگوت گیتا لے رکھا تھا، گفتگو کے دوران اس نے بتایا کہ مجھے ہندودھرم کی مذہبی کتابیں ہندوستان کی مختلف زبانوں میں چاہيے، منگوانے میں جو اخراجات آئیں گے وہ میں دے رہا ہوں،  میں نے عرض کیا : آپ ہندو دھرم کی کتابیں لے کر کیا کریں گے، جبکہ آپ مخاطب کی زبان نہیں جانتے۔ اس نے کہا :اسلام کی تائید میں جو اشلوک ان کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں، ان پر نمبراورصفحہ کے ساتھ نشان لگا لیتا ہوں۔ اورجب کوئی غیرمسلم ملتا ہے تو اُسے دعوتی کتابوں کے ساتھ  ساتھ  یہ نشان زدہ اشلوک بھی پڑھاتا ہوں۔ تاکہ اسے یقین ہوجائے کہ ہم اسے کسی نئی چیز کی طرف دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ اسی کی امانت اس کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔  فوجی ہونے کے باجود ایسا دعوتی جذبہ دیکھ  کر میں عش عش کرتا رہ گیا، اپنے نفس کا محاسبہ کرنے لگا کہ محکمہ فوجداری کا ایک فرد جب دعوت کے ليے اس حدتک سوچتا ہے تو ہمیں کس قدرسوچنا چاہيے۔
جی ہاں یہ اور اس طرح کے دیگر کویتی معاشرے کے واقعات جہاں ہمارے ليے قابل رشک ہیں وہیں ہماری غیرت کوبھی للکارتے ہيں کہ آج جن غیرمسلموں کے ساتھ ہماری نشست وبرخواست ہورہی ہے، اورجن کی زبان سے ہم واقف ہیں ان کے تئیں ہم نے اپنی ذمہ داری کس حد تک نبھائی، کل قیامت کے دن اگروہ دربارالہی میں ہمارے خلاف شکوی کریں گے کہ فلاں ہمارا پڑوسی تھالیکن ایک دن بھی ہم تک اسلام کا پیغام نہیں پہنچایا تو آخرہم کیا جواب دے سکیں گے ....؟ آج غیرمسلموں کواسلام کا پیغام پہنچانا تو درکنار بعض مسلم بھائی ایسے ہیں جو غیرمسلموں کو اسلامیات کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو یہ سوچ کراس کے ہاتھ  سے کتاب چھین لیتے ہیں کہ اسلامی کتاب غیرمسلم کو نہیں پڑھناچاہيے۔ ایسے کئی واقعات راقم سطورکے سامنے پیش آئے ہیں ۔ بلکہ کچھ  لوگ تو اس سے بھی آگے بڑھ  کر ریاستی زبانوں میں اسلامی کتابیں دیکھ  کر بپھر جاتے ہیں-
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے میں نے ایک ہندی زبان جاننے والے ایک مسلم بھائی کو ہندی زبان میں اسلامیات پرایک، کتاب دی، کتاب کا نام پڑھتے ہی طیش میں آکر کتاب نیچے پھینک دیا اور برجستہ کہا:       
تم نے اسلام کی بات ہندی زبان میں لکھی ہے ....؟
وہ صاحب اس اندازمیں پیش آئے اورایسا لب ولہجہ اپنایا کہ گویا میں ہندی میں کتاب لکھ  کران کی نگاہ میں مجرم ٹھہرا تھا.... میں یہ نہیں کہتا کہ سارے لوگ ایسی ذہنیت رکھتے ہیں بلکہ اس سے بتانامقصود یہ ہے کہ آج تک ہمارے معاشرے میں اس طرح کے لوگ پاے جاتے ہیں جواسلام کوآبائی میراث سمجھتے ہیں جبکہ آخری نبی کی بعثت ساری انسانیت کے ليے ہوئی تھی:
 ” ہم نے آپ کو سارے جہاں کے ليے رحمت بناکر بھیجا ہے “(انبیاء 107) 


مکمل تحریر >>