جمعہ, فروری 04, 2011

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا


 یہ فروری کا شمارہ ہے اور ماہ رواں کی 25،26 تاریخ کویت کے قومی تہواراوریومِ آزادی کا پُرمسرت دن ہے ، جہاں ایک طرف کویت اپنے قومی تہوارکے پچاس سال مکمل ہونے پر نصف صد سالہ جشن منانے کی تیاری میں ہمہ تن مشغول ہے تودوسری طرف
IPCنے جنوری کے اواخر میں بڑے تزک واحتشام کے ساتھ اپنا 33سالہ جشن منایا ہے، اس طرح اگر کویت نے اپنے قومی تہوار کے پچاس سال مکمل کرلیے ہیں تو IPC نے اپنی عمر کی 33 بہاریں دیکھ لی ہیں ،چونکہ یہ ادارہ کویت کے خیروبرکات ہی کا ایک پرتو ہے، اوراس نے ایک قلیل عرصہ میں محیرالعقول خدمات انجام دی ہیں ،اس مناسبت سے ہم سردست ادارہ کے آغاز سے اب تک کا ایک معروضی خاکہ پیش کرناچاہیں گے پھر اصل موضوع کی طرف لوٹیں گے۔
 IPC کویت کی سرزمین پرتعارفِ اسلام کی مرکز ی کمیٹی ہے جو کویت کے معروف رفاہی ادارہ جمعیة النجاة الخیریہ کی ایک شاخ ہے ۔ IPC کی تاسیس سن 1978 میں عمل میں آئی ، کام کی شروعات ایک چھوٹے سے کمرے سے ہوئی جس کا پس منظر یہ ہے کہ کویت کے چند باہمت نوجوانوں نے جب دیکھا کہ اس سرزمین پرروزگارکے لیے بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں کی معتدبہ تعداد موجود ہے جن تک اسلام کا پیغام پہنچانا ایک مسلمان کی واجبی ذمہ داری ہے ، پھران میں کام کرنے کے لیے ماحول بھی سازگارہے۔
 چنانچہ تارکین وطن کو مختلف زبانوں میں دین کی معلومات بہم پہنچانے کی عملی شکل یہ اپنائی گئی کہ ان کو عربی زبان سکھائی جائے جو خلیجی ممالک میں ان کی ملازمت سے جڑی ہوئی زبان ہے ۔ اور اسی کے ساتھ ان کے سامنے اسلام کا تعارف بھی کرایا جاسکتا ہے ۔ اس کے لیے ہفتہ میں جمعہ کے دن کا انتخاب کیا گیا کیوں کہ یہی دن بالعموم ملازمت پیشہ افراد کی تعطیل کا ہوا کرتا تھا، اسی مناسبت سے کمیٹی شروع میں ”مدارس الجمعة “کے نام سے یاد کی جاتی تھی۔
 حاضرین کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا ، چناں چہ اوقاف کی عمارت میں ایک روم کرایا پر حاصل کرلیا گیا۔ مرورایام کے ساتھ کویت کے اہل خیرکی دعوتی رغبت بڑھتی گئی جسے دیکھتے ہوئے کمیٹی کے ذمہ داران نے دعوتی کاز کو آگے بڑھانے کا منصوبہ بنایا ، دعوت کے دائرے کو وسیع کیا یہاں تک کہ اس کامرکزی دفتر فہد سالم روڈ مسجد ملا صالح کے تہہ خانہ میں قرار پایا۔ آج بفضلہ تعالیٰ کویت کے مختلف حصوں میں  ipcکی 15 شاخیں دعوتی کاموں میں سرگرم ہیں، اسے 14 زبانوں میں 74 سے زائد مبلغین کی خدمات حاصل ہيں۔ ذمہ داران اور مبلغین کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں سن تاسیس سے لے کر اب تک مختلف زبانوں کے 51 ہزارسے زائد مرد وخواتین مشرف باسلام ہوچکے ہیں۔
اس کے علاوہ ipc ہمیشہ ماہر اساتذہ کرام کی خدمات حاصل کرکے عربی بول چال کے کورسیز کراتی ہے ، دنیا کی مشہور زبانوں میں غیرمسلموں کے سامنے عصری اسلوب میں حکمت ودانائی کے ساتھ اسلام کا مثبت انداز میں تعارف کراتی ہے ، ہفتہ وار کلاسیز کے ذریعہ نومسلموں کی تربیت کرتی ہے ، مختلف زبانوں میں دعوتی کتابیں، کیسٹس اور پمفلٹس شائع کرتی اور مفت تقسیم کرتی ہے۔  ipcکو cams کے نام سے ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کی خدمت بھی حاصل ہے جوخلیجی ملکوں میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے ۔ اس کے زیراہتمام مبلغین اور عام لوگوں کے لیے ٹیکنیکل اورٹریننگ کورسیز چلتے رہتے ہیں۔
آٹھ سال سے عربی زبان میں ماہنامہ’البُشریٰ‘ بھی نکل رہا ہے جوخاص دعوتی میگزین ہے، اس نے دعوت کے تئیں اہل کویت کی ذہن سازی میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں شاید لجنة التعریف بالاسلام کو یہ امتیاز حاصل ہوگا کہ وہ چھ زبانوں ( تلگو، تمل ،ملیالم ، اردو، فلیپائن اور بنگالی ) میں بھی اپنا ماہانہ آرگن شائع کررہی ہے جو خالص دعوتی اور اصلاحی مجلات ہیں ۔
  یہ رہی IPC کی مختصرتاریخ اوراس کی موجودہ سرگرمیوں کی ایک جھلک‘ جس میں آپ نے دیکھا کہ کویت کی سرزمین پر غیرمسلم تارکین وطن کے وجود نے سکولوں میں زیرتعلیم چند کویتی نوجوانوں کے اندردعوت کاغیرمعمولی احساس پیدا کیا ،ان کے سمند ہمت کو تازیانہ لگایا، چناں چہ انہوں نے اس احساس کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کام کی شروعات کی، ابتداء میں تصور بھی نہیں کیاجا سکتا تھاکہ ان کی کوششیں اس قدر رنگ لائیں گی کہ کویت کے چپہ چپہ بلکہ پورے عالم میں اس کی گونج سنی جائے گی اور اس چمن کے لالہ وگل کی عطربیزیوں سے پورا عالم معطر ہوجاے گا۔ اس ادارہ سے فیض پانے والے کتنے  چراغِ ہدایت ہیں جن کے ہاتھوں پر ہزاروں نے اسلام قبول کیا ہے ، کتنے یورپ وامریکہ کی تاریک فضاؤں میں روشنی پھیلارہے ہیں ۔ظاہر ہے یقین محکم ،عمل پیہم اور منظم پلاننگ نے اس ادارے کو اس مقام تک پہنچایا ہے ،اس بیچ کتنی رکاوٹیںآئی ہیں، کتنے صبرآزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے، نازک اورسنگین حالات سے نبردآزمائی کرنا پڑی ہے لیکن ہرجگہ حکمت ودانائی کے ساتھ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ ادارہ شگفتہ و شاداب ہے اور مسلسل برگ وبار لارہا ہے۔
ایک طرف اس دعوتی مرکز کی خدمات ہیں تودوسری طرف یہ خبرکہ پچھلے دنوں پیرس میں عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مغربی مفکرین اور سیاست دانوں نے شرکت کی، کانفرنس کا موضوع تھا ”یورپی ممالک میں اسلام کا فروغ اوراس کے سدباب کی تدابیر “ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ میں اسلام کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات نے  اہلِ مغرب کو گویا باؤلا بنادیا ہے، لیکن فرزندانِ توحید کے لیے یہ کوئی نیا چیلنج نہیں ہے ، اعدائے اسلام نے تاریخ کے ہردور میں اسلام کی شمع فروزاں کو اپنی پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کی ہے اور تا صبح قیامت کرتے رہیں گے ،اس سے ہراساں ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے،اس طرح کی ناکام کوششوں کا نتیجہ ہردورمیں خیر کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور ہوتا رہے گا کیوں کہ اسلام کی فطرت ہے کہ ” جتنا ہی دباؤگے اتنا ہی یہ ابھرے گا “ البتہ ایسے کشیدہ حالات میں غیرمسلموں میں کام کرنے والے دعوتی اداروں کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے، ہرملک اورہر علاقے میں ایسے ادارے اور افراد ہونے چاہئیں جو غیرمسلموں کی زبان میں ان تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے یکسو ہوں ، ipc نے ہمیں غیرمسلموں میں کام کرنے کا تصور دیا ہے ، ہماری ذہن سازی کی ہے، اصلاح امت کے ساتھ غیرمسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ لیکن ہے یہ راستہ ‘ بڑاصبرآزما اورحوصلہ طلب، کیونکہ ع
خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا –

صفات عالم محمد زبیر تیمی
 safatalam12@yahoo.co.in

مکمل تحریر >>

ہفتہ, جنوری 08, 2011

ماہ صفر اور بدشگونی


توحید اسلامی تعلیمات کا سرچشمہ ہے ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کو اس کی ذات وصفات اورربوبیت والوہیت میں ایک جانا جائے ، اسی سے لو لگایاجائے ،اسی پر بھروسہ کیا جائے ،اسی سے ڈرا جائے ،اسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا جائے اور اسی کو نفع ونقصان کا مالک سمجھا جائے ۔ جب توحید کے اس تصور میں کمی آتی ہے تو انسان کا رشتہ اپنے خالق ومالک سے کمزور پڑنے لگتا ہے اور اسی کے ساتھ بدشگونی ،بدفالی اور نحوست پیداہوتی ہے ۔ بدشگونی یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کام کے کرنے کاپختہ ارادہ کرچکاہوں لیکن کوئی بات سن کر یا کوئی چیز دیکھ کر وہ کام کرنے سے رک جائے ۔ بدفالی کی یہ روایت زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے ،انبیاءورسل کے دشمنوں نے حق وہدایت کو رد کرنے کے لیے اسی ہتھیار کو استعمال کیا اور بدشگونی لی کہ ان کی دعوت قبول کرنے کے نتیجے میں ہم پر مصیبتیں اور آفتیں نازل ہوں گی ۔ زمانہ جاہلیت میں مشرکین جب کوئی کام کرنا چاہتے یا سفر کا ارادہ کرتے توصبح تڑکے پرندوں کے گھونسلوں کے پاس جاکر اسے اڑاتے ،اگر پرندہ دائیں جانب اڑتا تو نیک فال تصور کرتے ہوئے ارادے کو عملی جامہ پہناتے اور اگر بائیں جانب اڑتا تو بدشگونی لیتے ہوئے سفر سے گریز کرتے ۔ جب اسلام آیا اور لوگوں نے اسلام کو گلے لگاکر توحید خالص پر تربیت حاصل کی تو ان کے اندر سے اس طرح کی تمام بدشگونیا ں خود بخود جاتی رہیں ۔
 لیکن صدحیف جب قوم مسلم اسلامی تعلیمات سے دور ہوئی اور غیرقوموں کی معاشرت اختیار کی تو ان کے اندر جہاں بہت ساری خرابیاں پیدا ہوئیں ان میں بدشگونی کے جاہلی طریقے بھی درآئے جودر حقیقت برصغیر پاک وہند میں ہندو معاشرت کے اثرات کا نتیجہ ہے ۔
آج مسلمان بھی سمجھتے ہیں کہ بلی راستہ کاٹ دے تو سفر ملتوی کردینا چاہیے ،الو کا بولنا نحوست کی علامت ہے ،اگر بہو کے گھر آنے کے بعد سسرال میں کسی کا انتقال ہوجائے تو بہو کو منحوس سمجھاجانے لگتا ہے ۔ گھر کی تعمیر شروع ہو تو ناریل پھوڑے جاتے ہیں ،گاڑی خریدی جائے تو چند لیموں لٹکائے جاتے ہیں ۔ ایک بچے کی موت کے بعد دوسرا بچہ پیدا ہوتو اس کے ناک میں سوراخ کردیاجاتا ہے مباداکہ وہ بھی مرجائے ۔ بعض افریقی ممالک میں بچے کی ولادت کے بعد چہرے کو داغدار کرنے کی نحوست بڑے پیمانے پر اب تک پائی جاتی ہے ۔ بعض علاقوںمیں شب برات میں اچھی ڈشیں تیار کی جاتیں اور تھالیاں نکال کراس عقیدے کے ساتھ اندرون خانہ رکھی جاتی ہیں کہ مردے آباءواجداد اس رات گھر تشریف لاکر کھانے سے تناول فرماتے ہیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو گھر میں نحوست داخل ہوجاتی ہے ۔ بعض مقامات پر دنوں اور مہینوں کو منحوس سمجھاجاتا ہے ، کچھ لوگ بدھ کے دن کو منحوس سمجھتے ہیں تو کچھ لوگ صفر کے مہینے سے بدفالی لیتے ہیں ۔ ہندوستان کے بعض علاقوں میں ماہ صفر کا چاند دیکھتے ہی انڈے اور کالی مرغیاں نکال کر غریبوں میں صدقہ کرنا شروع کردیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا نہ کیاجائے تو گھرمیں کسی طرح کی آفت آسکتی ہے ۔ کچھ لوگ محرم اور صفر ان دو مہینوں میں شادی بیاہ کو نحوست کی علامت سمجھتے ہیں ۔
حقیقت خرافات میں كھوگئی     یہ امت روایات میں کھو گئی
 زمانہ جاہلیت میں ماہ شوال میں شادی بیاہ کو منحوس سمجھاجاتا تھا ،ان کا تصور تھا کہ اس مہینے میں جو شادیاں ہوتی ہیں ان سے میاں بیوی کے تعلقات اثر انداز ہوتے ہیں اور ان میں آپسی الفت ومحبت پیدا نہیں ہوپاتی ۔ اس سلسلے میں حضرت عائشہ رضى الله عنها فرماتی ہیں :
 مَا تَزَوَّجَنِی رَسُو لُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم اِلاّ فِی شَوَّالَ وَمَادَخَلَ بِی اِلّا فِی شَوَّالَ فَمَن کَانَ اَحظٰی مِنِّی عِندَہ (رَوَاہُ مُسلِم)
”رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے مجھ سے شوا ل میں شادی کی اور شوال ہی میں میری رخصتی ہوئی ، اب ذرا بتاؤ (ازواج مطہرات میں) آپ صلى الله عليه وسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ قریب کون تھیں؟ “۔ مائی عائشہ صدیقہ رحمها الله کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے گھر کی لڑکیا ں ماہ شوال میں بیاہی جائیں ۔

بدفالی کے نقصانات:

بدفالی انسان کے دین اور دنیا دونوں کے لیے بہت زیادہ خطرناک ہے ، یہ انسان پر وساوس وخطرات کے مختلف دروازے کھول دیتی ہے، چنانچہ وہ ہر چیز سے ڈرنے لگتا ہے، ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے لیے ڈراونی بن جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی پرچھائی سے بھی خوف کھانے لگتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا کی ساری بدبختی اور شقاوت اسی کے گرد جمع ہوچکی ہے اور دوسرے لوگ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، ایسا شخص دوسروں کو بھی توہم کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس سے دلوں میں کدورت پیدا ہوتی ہے ۔ اسی لیے امام ماوردى رحمه الله لکھتے ہیں:
 اِعلَم اَنَّہ لَیسَ شَیء اضَرُّ بِالرَّائیِ وَلَا افسَدُ لِلتَّدبِیرِ مِن اِعتَقَادِ الطِّیَرَةِ”جان لو! کہ بدشگونی سے زیادہ فکر کو نقصان پہنچانے والی اور تدبیر کو بگاڑنے والی کوئی شے نہیں ہے “۔ (ادب الدین والدنیا ص 376)
یہ نقصانات تو اپنی جگہ پر ‘تاہم بدشگونی کا سب سے پہلا ضرب عقیدہ توحید پر پڑتا ہے ،کیونکہ بدشگون لینے والے کا اعتماد اللہ سے اٹھ جاتا ہے اور اس سے بڑھ کر مصیبت اور کیا ہوگی کہ انسان اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی نفع ونقصان کا مالک سمجھ بیٹھے ۔اسی لیے علماءنے صراحت کی ہے کہ بدفالی کبیرہ گناہوں میں سے ایک عظیم گناہ ہے بلکہ شرک ہے ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: الطِّیَرَةُ شِر (ابوداؤد، ترمذی ) ” بدفالی شرک ہے “ ۔ اور رسول پاک ا نے بدفالی لینے والوں سے اپنی برأت کا اظہار فرمایا: لَیسَ مِنَّا مَن تَطَیَّرَ أو تُطُیِّرَ لَہ (رواہ البزار باسناد جید) ”جس نے بدشگون لیا یا جس کے لیے بدشگون لیا گیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔

البتہ بدفالی لینے والے کے حالات کے اعتبار سے اس پر حکم کا انطباق ہوگا

(1) جب بدفالی کا خیال آیا اور اس کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام کر گذرا تو ایسی صورت میں بدفالی کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ اس طرح کے خیالات کا پیدا ہونا عام بات ہے۔ اسی لیے حضرت ابن مسعود رضي الله عنه نے فرمایا:
 وَمَا مِنَّا اِلاَّ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یُذ ھِبُہ بِالتَّوَکُّلِ (رواہ ابوداؤد والترمذی وصححہ)
” ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جسے ایسا وہم نہ گذرتا ہو لیکن اللہ تعالی توکل سے اس کو دفع کردیتا ہے “۔
(2) بدفالی کا خیال آیا تو اس نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اپنا کام کرگذرا البتہ اس کے دل میں ایک طرح کی بے چینی پیدا ہوگئی کہ مبادا اس کا اثرظاہر ہوجائے تو یہ مکروہ ہے تاہم شرک کے زمرے میں نہیں آتا ۔
 (3) بدفالی کا خیال آتے ہی ڈرکر اپنے کام سے رک جائے تو یہ سراسرشرک ہے ۔ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
مَن رَدَّ تہُ الطِّیَرَةُ عَن حَاجَتِہ فَقَد اشرَکَ ( احمد)
”جسے بدفالی اپنے کام سے روک دے اس نے شرک کیا“ غرضیکہ بدشگونی انسان کی انفرادی اوراجتماعی زندگی اور سب سے پہلے عقیدہ توحید کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ والوں نے بدشگونی کی سختی سے مذمت فرمائی اور اس سے بچنے کی تاکید کی ۔
حضرت عکرمہ رحمه الله كہتے ہیں :” ایک دن ہم لوگ حضرت ابن عباس رحمهما الله کے پاس بیٹھے تھے ۔ ہمارے پاس سے ایک چڑیا چہچہاتی ہوئی گذری ۔ مجلس کے حاضرین میں سے کسی نے کہا: خیر ہی ہوگا ۔ آپ نے فورا ً نکیر فرمائی اور کہا : نہ خیر ہوگا نہ شر ہوگا ۔ یعنی ایک پرندہ چہچہاتے ہوئے اڑ رہا ہے تو اس میں خیر اور شر کی کیا بات ہے“ ۔ (التمہید12/194)
 امام طاؤس رحمه الله اپنے کسی ساتھی کے ہمراہ سفرمیں تھے ،ان کے ساتھی نے کوے کی آواز سنی تو کہا: خیر ہوگا ۔یہ سنتے ہی آپ کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوگئے ، آپ نے فرمایا: ا یُّ خَیرٍ ھٰذَا ، لَاتَصحَبنِی ”آخر اس میں خیر کی کونسی بات ہے ، میرے ساتھ مت جاؤ “۔
خلافت فاروقی کے زمانہ میں دریائے نیل ہرسال خشک ہوجایا کرتا تھا ،جہالت کی بنیاد پر لوگ بدشگون لیتے کہ سمندر کو جان کی طلب ہے ۔ مصر کے گورنر حضرت عمروبن عاص رضي الله عنه نے صورتحال کی نزاکت سے امیر المؤمنین کو باخبر کیا : آپ نے دریائے نیل کے نام ایک مکتوب لکھا اور تاکید کی کہ اسے سمندر میں ڈال دیاجائے ۔ آپ نے لکھا تھا ”اے سمندر! اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو تجھے حکم دیتا ہوں کہ جاری ہوجا، اور اگر اللہ کے حکم سے جاری نہیں تو ہمیں تمہاری ضرورت نہیں “ ۔ قاصد مکتوب لایا اور اسے دریا میں ڈال دیا ۔ پھر کیا تھا ، دیکھتے ہی دیکھتے سمندر پانی سے بھر گیا ، تب سے مسلسل اب تک جاری وساری ہے ۔

کیا بیماری متعدی ہوتی ہے ؟

 اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا :
لَا عَد وَی وَلَاطِیَرَةَ وَلَا ھَامَةَ وَلَا صَفَرَ (متفق علیہ )
 ”ایک کی بیماری دوسروں کو نہیں لگتی ،نہ بدفالی کوئی چیز ہے ، نہ اُلو کا بولنا کوئی اثر رکھتا ہے ، نہ صفر کی کوئی حقیقت ہے “۔ اس حدیث سے کسی کو یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ آج اطباءنے بعض بیماریوں کے متعدی ہونے کا اثبات کیا ہے جبکہ حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایک کی بیماری دوسروں کو نہیں لگتی تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث میں بیماری کے متعدی ہونے کی نفی نہیں بلکہ جاہلی دور کے اس تصور کی نفی ہے کہ بیماریاں خود بخود متعدی ہوتی ہیں،ان میں اللہ کی مرضی کا کوئی دخل نہیں ہوتا ،اللہ کے رسول ا نے اس تصور کی سراسر نفی کردی اور کہا کہ کوئی بھی بیماری بذات خود متعدی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی مرضی کے تابع ہوتی ہے ۔ حافظ ابن رجب رحمه الله لکھتے ہیں :
 ”لاعدوی کے معنی میں علماءکا اختلاف ہے،اور اس سلسلے میں راجح قول یہ ہے کہ اس میں اہل جاہلیت کے اس عقیدے کا انکار ہے کہ بیماریاں خود بخود متعدی ہوتی ہيں، اس میں اللہ کی مشیت کا کوئی دخل نہیں ہوتا “ ۔ لہذا اگر کسی کو بیماری لگتی ہے تو اس میں بھی اصل سبب اللہ کی مشیت ہی کو سمجھنا چاہیے نہ کہ کسی بیماری کو ‘ کیونکہ اگر بیماری ہی اصل سبب ہوتو پھر ایک گھر میں متعدی مرض میں مبتلا ایک شخص کی وجہ سے گھر کے تمام افراد کو اس بیماری میں مبتلا ہوجانا چاہیے جبکہ واقعتا ایسا نہیں ہوتا ، صرف ایک دو شخص ہی بیمار ہوتے ہیں جس کے صاف معنی ہیں کہ متعدی مرض میں بھی اصل سبب بیماری نہیں اللہ کی مشیت ،اس کی تقدیر اور فیصلہ ہی ہے ۔ لیکن اسلام نے اسباب کو نظر انداز نہیں کیا اور بیماریوں کے اسباب سے بچنے کی تاکید فرمائی ۔ چنانچہ اللہ کے رسول انے بیمار اونٹوں کی بابت فرمایا: 
لَایُو ردُ مُمرِض عَلٰی مُصِحٍّ (متفق علیہ)
یعنی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ لائے جائیں ۔ اور طاعون کی بابت فرمایا:
اِذَا سَمِعتُم بِالطَّاعُونِ بِاَرضٍ فَلَا تَدخُلُوا بِھَا(متفق علیہ)
”جب تم سنو کہ کسی سرزمین میں طاعون کی وبا پھیل چکی ہے تو وہاں مت جاؤ “۔ اسی مصلحت کے تحت مجذوم کے ساتھ نشست وبرخواست کرنے سے بھی روکا گیا جیساکہ ارشاد نبوی ہے
 فٍرِّمِنَ المَجذُومِ فِرَارَکَ مِنَ الاَسَدِ(مسنداحمد، صححہ الالبانی )
”مجذوم سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو “ ۔ یہ دراصل شریعت کے احتیاطی تدابیر ہیں تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ ایسا کرنے کی وجہ سے اسے فلاں بیماری لاحق ہوئی ہے ۔ بدشگونی سے

نجات کیسے پائیں ؟

 اب سوال یہ ہے کہ بدشگونی سے نجات پانے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟تو آئیے ذیل میں ہم اس کا علاج ڈھونڈتے ہیں
 (1) اس بات پر پختہ یقین کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ رب العالمین کی طرف سے ہوتا ہے ،اللہ جو چاہے وہی ہوگا ،جو نہ چاہے وہ نہیں ہوسکتا ۔ وہی نفع اور نقصان کا مالک ہے ، وہی بخشنے والا اور محروم کرنے والا ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی ایسی ذات نہیںجو ہمارے مسائل حل کردے یاہماری بگڑی بنادے ۔ 
(2) جب اس طرح کے خیالات دل میں پیدا ہوں تو فوری طورپر اس کا کفارہ اداکریں جس کا ذکر مسند احمد کی ایک حدیث میں آیا ہے ،اللہ کے رسول ا نے فرمایا: ”جسے بدفالی اپنے کام سے روک دے اس نے شرک کیا “ لوگوںنے پوچھا: ”اس کا کفارہ کیا ہوگا ؟“ آپ نے فرمایا : یہ کہے :
 اللّٰھُمَّ لَاخَیرَ اِلَّا خَیرُکَ وَلَاطَیرَ اِلَّا طَیرُکَ وَلَااِلٰہَ غَیرُکَ۔
 ”اے اللہ ! تیری بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں اور تیرے نقصان کے سواکوئی نقصان نہیں “۔ (رواہ الاما م احمد وحسنہ الارناؤوط)
(3) جب کسی بات کو سن کریاکسی کام کو دیکھ کر ایک شخص کے دل میں بدشگونی کے خیالات پیدا ہورہے ہو ں تو اسے چاہیے کہ وہ بدفالی لینے کی بجائے اس سے نیک فال لے اور حسن ظن پر محمول کرے ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کو نیک فال پسند تھا ۔ حضرت انس رضي الله عنه کا بیان ہے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
 لَاعَدوَی وَلَاطِیَرَةَ وَیُعجِبُنِی الفَألُ
 ”یعنی ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی نہ بدفالی کوئی چیز ہے البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔لوگوں نے پوچھا : نیک فال کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا: عمدہ لفظ جو انسان دوسرے سے سنتا ہے “۔ (بخاری ومسلم ) مثلاً ایک بیمار شخص لفظ ”سالم“ سن کر اپنی بیماری سے شفایابی کا خیال کرتا ہے ،یا ایک شخص کوئی کام کررہا ہے اور اسی اثناء”سہل“(آسان) یا افلح(کامیاب) سنا اور اپنے معاملہ کے آسان ہونے کا خیال کیا تو ایسا کرنا صحیح ہے بلکہ مطلوب ہے ۔ کیونکہ نیک فال اللہ تعالی سے حسن ظن کی علامت ہے جبکہ بدفالی اللہ تعالی سے سوءظن کی علامت ہے ۔ اسی طرح نیک فال سے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے ،طمانینت حاصل ہوتی ہے اور امید وتوقع کے دروازے وا ہوتے ہیں ۔

اللہ تعالی ہم سب کو بدفالی سے دور رکھے اور توکل کاحقیقی پیکر بنائے ۔ آمین
مکمل تحریر >>

ہفتہ, جنوری 01, 2011

نہیں تیرا نشیمن قصرسلطانی کے گنبد پر


 
 کویت میں اردو داں طبقہ کے لیے محترم جناب ہوشدارخان صاحب کے اتوار کے دن کا  ہفت روزه اجتماع اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور امتیازی شان رکھنے والا اجتماع ہے جہاں ہرمسلک ومشرب کے ممتاز علماء ودانشوران اور ہند و پاک سے کویت تشریف لانے والے سفراء اپنے پُرمغز خطابات سے سامعین کو محظوظ کرتے اور خوشگوار ماحول میں سنجیدگی کے ساتھ قوم و ملت کے مسائل پر تبادلہ  خیال کرتے ہیں ۔خان صاحب ہر دلعزیز شخصیت کے مالک ہیں، خاکسار ، متواضع اور منکسر مزاج ہیں، علماء اور ماہرین فن کے قدردان ہیں ، اس کی واضح مثال ان کا یہ اجتماع ہے جو سالوں سال سے پابندی کے ساتھ جید علمائے کرام کے زیرنگرانی ہرہفتہ خان صاحب کی آفس مرقاب میں منعقد ہوتا آرہا ہے، محترم مولانا بدرالحسن قاسمی حفظہ اللہ نے ایک عرصہ تک اس مجلس کی صدارت فرمائی ہے ، اس اجتماع کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کویت میں مقیم معروف شخصیات جب اپنے وطن لوٹنے لگتی ہیں تو ان کے اعزاز میں الوداعی تقریب رکھی جاتی ہے۔ اسی روایت کے مطابق پچھلے دنوں کویت میں مقیم دو تارکین وطن محترم جناب ڈاکٹر احمد حسین غازی صاحب اور محترم جناب محمد عزیزالرحمن صاحب کی وطن واپسی کی مناسبت سے ان کے اعزاز میں جمعیة الاصلاح الاجتماعی کے وسیع ہال میں خان صاحب نے الوداعی تقریب منعقد کی ، جس میں ہند و پاک کی مسلم کمیونٹیز کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی، ان دو تارکین وطن میں اول الذکرجنت نظیر کشمیر (سرینگر) سے تعلق رکھتے ہیں اور کویت کے عدان ہاسپیٹل میں NDODONIST E کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کے ساتھ ایک عرصہ تک FIMA کے صدر رہ چکے ہیں، ڈاکٹر موصوف مرنجان مرنج طبیعت کے حامل ہیں، آپ نے طبابت کے پیشہ میں ہمیشہ خدمت خلق کو پیش نظر رکھا، ہروقت ان کی آفس میں مریضوں کی بھیڑلگی رہتی ،علاج معالجہ کے لیے کتنے لوگ رہائش گاہ پربھی پہنچ جاتے تاہم آپ کسی طرح کی ناگواری کا اظہار نہ فرماتے اور بطیب خاطر ان کا علاج کرتے ۔ آپ تعلیمی ایام سے ہی دینی مزاج رکھتے ہیں، نوجوانوں کے اندر دینی حمیت وغیرت دیکھنا چاہتے ہیں،عالمی سطح پر اسلام کے خلاف ہورہی دسیسہ کاریوں کے تئیں بیدار ذہن رکھتے ہیں اور عالمی شہرت یافتہ داعیان دین کی ایک ایسی ٹیم تشکیل دینے کے قائل ہیں جو عالمی میڈیا کے سامنے اسلام کی صحیح ترجمانی کرسکیں اور اسلام کے خلاف پیدا کیے جانے والے آئے دن کے شبہات کا مثبت اور سنجیدہ جواب دے سکیں ۔
 ثانی الذکر حیدرآباد (انڈیا) سے تعلق رکھتے ہیں، عصری تعلیم یافتہ ہیں ،اقتصادیات میں بی اے کررکھا ہے ، تلگو میڈیم سے تعلیم حاصل کی ،تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ تلگو میڈیم سے بی اے کرنے والا انسان دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کردے گا لیکن اللہ جس سے کام لیناچاہتا ہے اسے توفیق سے بھی نوازتا ہے چنانچہ موصوف بی اے کرنے کے بعد وظیفہ کی تلاش میں نکلے تو ایک دینی ادارے میں نوکری مل گئی ،علماء اور صالحین کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تو سمند شوق کو تازیانہ لگا، اس طرح دینیات کے مطالعہ میں لگ گئے، لیکن اس وقت تلگو زبان میں دینی کتابیں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور تھیں، ظاہر ہے علم كى پیاس بجھانے کے لیے ان کے سامنے ایک ہی راستہ تھا کہ اردو زبان سیکھ لیں۔ چنانچہ انہوں نے الف با سے اردو زبان سیکھی،دینی کتابوں کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا ،دینی معلومات میں اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ حیدرآباد سے تلگو زبان میں شائع ہونے والے ہفتہ واری رسالے  ” گیٹورا ئے“ کے معاون ایڈیٹر بن گئے ، تقاریر اور خطبات کی ایسی مشق کی کہ ریاست میں  تلگو زبان کے مایہ ناز مقرر کی حیثیت سے اپنی پہچان بنالی ۔ تلگو رسائل ومجلات میں سیکڑوں مقالات لکھ ڈالے اور ستر سے زائد کتابوں کا اردو سے تلگو میں ترجمہ کرڈالا ۔ سات سال پیشتر IPC میں تشریف لائے تو تلگو ماہنامہ” الہلال “ کی داغ بیل ڈالی اور اس کے چیف ایڈیٹر بنے، جو اب تک مسلسل شائع ہورہا ہے، اور انہیں کي ایماء پر مزید کئی زبانوں میں رسائل کا اجراء عمل میں آیا ، اسی اثناء انہوں نے تفسیر احسن البیان کے تلگو ترجمہ کی سعادت بھی حاصل کی ، آپ نے منظم پلاننگ کے ساتھ کویت میں قیام فرمایا ،آج جبکہ اپنا ہدف پورا کرکے کویت سے جا رہے ہیں ایسے افراد پیدا کرچکے ہیں جو ان کی خلا کو پُر کرسکیں ،ان کی آئندہ کی پلاننگ میں امام بخاري اور امام مسلم رحمهما کی صحیحین ، سید سلیمان ندوی اورشبلی نعماني رحمهما الله کی ”سیرة النبی “ اور  فتنہ  قادیانیت کی سرکوبی پرمشتمل کتابوں کا ترجمہ شامل ہے جسے وطن لوٹ کر یکسوئی کے ساتھ انجام دینا چاہتے ہیں ۔ تلگو چینلز پر بھی اسلام کی نمائندگی کا عزم لیے جارہے ہیں ،اللہ ان کو اپنے ہدف میں کامیاب بنائے ۔ آمین
عزیز قاری ! یہ چند سطور ان دوشخصیات کے وطن لوٹنے کی مناسبت سے نوکِ قلم پر آگئی ہیں جو ہمارے ہی جیسے دیار غیر میں ملازمت کے لیے تشریف لائے تھے۔ اب ذرا تصور کیجئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اسی کویت میں آئے دن لوگ آتے ہیں اورایک مدت گذار کر یہاں سے لوٹ بھی جاتے ہیں تاہم نہ آتے وقت انہیں کوئی جانتا ہے نہ جاتے وقت، سوائے چند اشخاص کے جنکی ان کے ساتھ نشست وبرخواست ہوتی تھی، جبکہ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو جہاں جاتی ہیں اپنا نقش چھوڑ جاتی ہیں ۔ ظاہر ہے اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جسے شاعر مشرق علامہ اقبال نے ”شاہین “ کا نام دیا ہے
 نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
 جی ہاں! یہی وہ خوبی ہے جسے ہم عزم ،ہمت ، حوصلہ، جذبہ، اولوالعزمی اور بلندخیالی کا نام دیتے ہیں، چنانچہ اسی ہمت مردانہ نے مذکورہ دونوں شخصیات کو ملازمت تک محصور نہ رکھا بلکہ شخصیت کی تعمیر، قوم کی شیرازہ بندی اور اپنی ذات سے قوم کو فائدہ پہنچانے پرآمادہ کیا ۔ الحمدللہ ہماری قوم میں ایسی بے شمار شخصیات ہیں جنہوں نے دینی مدارس میں رسمی تعلیم حاصل نہیں کیں تاہم اپنی محنت ، لگن اور جذبہ سے دعوت کے میدان میں عالمی شہرت یافتہ شخصیات کی فہرست میں جگہ بنالی ہیں جن میں احمد دیدات ڈاکٹر عبدالرحمن السمیط اور ڈاکٹر ذاکر نائک قابل ذکر ہیں ۔
ہم بھی کویت میں ملازمت کے لیے تشریف لائے ہیں ، یہاں آکر ہماری مالی حالت تو اچھی ضرور ہوئی ہے تاہم ہماری اکثریت نے اپنے خول میں رہ کر جینا سیکھا ہے حالانکہ ایک مسلمان عزم وہمت کا پیکر ہوتا ہے ، وہ شاہین صفت ہوتا ہے ، وہ دوسروں کے لیے جیتا ہے ، سب سے پہلے اپنی ذات کی تعمیر کرتا ہے اور اس سے اپنی قوم کو فائدہ پہنچاتا ہے ۔
تو آئیے! اگر ہم سے اس سلسلے میں کسی طرح کی کوتاہی ہوئی ہے تو ابھی بھی وقت باقی ہے، صبح کا بھولا ہوا شام گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے ۔ اگرہم ڈاکٹر اور انجنئیر ہیں تو ڈاکٹر غازی صاحب کو اپنا نمونہ بنائیں اور ملازمت کے ساتھ قوم مسلم کے مفاد کے لیے بھی کام کریں اور اگر ہم ایک عام عصری تعلیم یافتہ ہیں تو محمد عزیز الرحمن صاحب کو اپنا رول ماڈل بنائیں ، اپنی شخصیت کی تعمیر کریں اوردین کی جیسی خدمت کرسکتے ہوں اس کے لیے تیار ہوجائیں کیونکہ یہ وقت کا اہم ترین تقاضا اورضرورت ہے ۔ رہے نام اللہ کا
مکمل تحریر >>

بدھ, نومبر 10, 2010

شوہر کا بیوی سے دوری کی مدت


سوال :

 ایک شوہر اپنی بیوی سے کتنے دنوں تک دور رہ سکتا ہے ؟ (محمد شریف ۔ کویت )

جواب : 

شوہر کے لیے جائز ہے کہ کام کرنے کے مقصد سے یا تعلیم حاصل کرنے کے مقصد سے یا دوسری شرعی مصلحت کے تحت اپنی بیوی سے دوری اختیار کرے ، جس کی مدت چھ مہینہ ہے ، اور بعض علماءنے کہا کہ چار مہینہ ہے۔ اگر اس مدت سے زیادہ رہنے کی نوبت آجائے تو بیوی سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
اس سلسلے میں مصنف عبد الرزاق میں آیا ہے کہ عمر فاروق ص ایک مرتبہ رعایا کی خبرگیری کے لیے رات میں دیہاتوں کا چکر لگا رہے تھے کہ ایک عورت کو چند اشعار پڑھتے ہوئے سنا جس میں شوہر کی جدائی کا اظہار کیا گیا تھا ۔

معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس کا شوہر حکومت کی طرف سے کسی مہم پر گیا ہواہے ، اسی وقت آپ نے گھر آکراپنی بیٹی حفصہ سے اس سلسلے میں بات کی کہ ایک عورت اپنے شوہر سے دوری کتنے دنوں تک برداشت کرسکتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مہینہ : چنانچہ عمر فاروق صنے یہ نظام نافذ کردیا کہ کوئی بھی حکومت کا اہلکار چار مہینے سے زیادہ اپنی بیوی سے دور نہیں رہ سکتا۔

جبکہ فقہ کی کتاب ”المغنی“میں آیا ہے کہ سیدنا عمرفاروق ص نے مجاہدین کے لیے چھ مہینے کا وقت مقررکیا تھا، ایک مہینہ چلیں گے چار مہینہ ٹھریں گے پھر ایک مہینہ میں چل کر لوٹیں گے۔

اس سلسلے میں اصولی بات علامہ محمدبن صالح العثیمین نے عرض کردی ہے آپ فرماتے ہیں:

” اگر شوہر کو بیوی کے تئیں بالکل اطمینان ہے ، اور محفوظ جگہ پررہائش پذیر ہے ، تو چھ مہینہ تک اس سے دور رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں البتہ اگر اپنے حق کا مطالبہ کرے اور شوہر سے طلب کرے کہ وہ آجائے تو اسے چاہئے کہ چھ مہینہ سے زائد اپنی بیوی سے دور نہ رہے۔ الا یہ کہ کوئی عذر ہو جیسے بیماری کا علاج کرا رہا ہے یا اس جیسے دوسرے اعذار۔ اس لیے کہ ضرورت کے خاص احکام ہوتے ہیں ، بہرکیف اس سلسلے میں حق بیوی کا ہے ، اگر اس نے دور رہنے کی اجازت دے دی ہے ، اور وہ محفوظ جگہ پر ہے تو دور رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ گرچہ زیادہ دنوں تک ہی شوہر کیوں نہ غائب رہے“۔ (فتاوی العلماء فی عشرة النساء 106)

البتہ شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ مال ودولت جمع کرنے کے دھن میں اپنی بیوی کی نفسیات کو نظر انداز نہ کرے، اس سے ہمیشہ بات کرتا رہے ، اُسے تنہا نہ رہنے دے ، ایسی جگہ پر رکھے جہاں اس کے محرم رہتے ہوں۔ اور جب کبھی موقع ملے سفر پر چلا جائے آخر پیسہ کس کے لیے کما رہا ہے۔

آخری بات یہ کہنا چاہیں گے کہ اگر بیوی کی اجازت سے آپ باہر رہ رہے ہیں توخود اپنی اور اپنی بیوی کی دینی تربیت بہت ضروری ہے ، دینی تربیت سے مراد روحانی غذاحاصل کرنا ہے اگر ایک شخص بیوی سے دور رہ کر نماز کی پابندی کرتا ہے ، نفلی روزوں کا اہتمام کرتاہے ، صبح وشام کے اذکار پر دھیان رکھتا ہے۔ قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کرتا ہے چاہے ایک صفحہ ہی کیوں نہ ہو .... تو وہ بیوی سے دور رہ کر بھی یک گونہ سکون پائے گا .... اگر نہیں تو ہمیشہ ذہنی الجھن ، پریشانی ، اور قلق واضطراب کا شکار رہے گا .... اس کے ساتھ ساتھ برائیوں میں بھی پھنستا جائے گا۔ یہی حال بیوی کا بھی ہے .... اس لیے اگر آپ بیوی بچوں سے دور ہیں توپریشانیوں کے علاج اور ذہنی سکون کے لیے روحانی غذا حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اگرذہنی سکون کے لیے فحش فلموں کا سہارا لیا....جیسا کہ بعض لوگوںکا خیال ہے تو سمجھ لیں کہ اس سے سکون نہیں ملے گا بلکہ ٹینشن میں مزید اضافہ ہوگا ، ہمیشہ قلق واضطراب دامن گیر رہے گا، جسے سکون کی تلاش ہے وہ روحانی زندگی گزار کر دیکھ لے‘ زندگی میں کیسی تبدیلی آتی ہے۔
مکمل تحریر >>