ہفتہ, جنوری 01, 2011

نہیں تیرا نشیمن قصرسلطانی کے گنبد پر


 
 کویت میں اردو داں طبقہ کے لیے محترم جناب ہوشدارخان صاحب کے اتوار کے دن کا  ہفت روزه اجتماع اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور امتیازی شان رکھنے والا اجتماع ہے جہاں ہرمسلک ومشرب کے ممتاز علماء ودانشوران اور ہند و پاک سے کویت تشریف لانے والے سفراء اپنے پُرمغز خطابات سے سامعین کو محظوظ کرتے اور خوشگوار ماحول میں سنجیدگی کے ساتھ قوم و ملت کے مسائل پر تبادلہ  خیال کرتے ہیں ۔خان صاحب ہر دلعزیز شخصیت کے مالک ہیں، خاکسار ، متواضع اور منکسر مزاج ہیں، علماء اور ماہرین فن کے قدردان ہیں ، اس کی واضح مثال ان کا یہ اجتماع ہے جو سالوں سال سے پابندی کے ساتھ جید علمائے کرام کے زیرنگرانی ہرہفتہ خان صاحب کی آفس مرقاب میں منعقد ہوتا آرہا ہے، محترم مولانا بدرالحسن قاسمی حفظہ اللہ نے ایک عرصہ تک اس مجلس کی صدارت فرمائی ہے ، اس اجتماع کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کویت میں مقیم معروف شخصیات جب اپنے وطن لوٹنے لگتی ہیں تو ان کے اعزاز میں الوداعی تقریب رکھی جاتی ہے۔ اسی روایت کے مطابق پچھلے دنوں کویت میں مقیم دو تارکین وطن محترم جناب ڈاکٹر احمد حسین غازی صاحب اور محترم جناب محمد عزیزالرحمن صاحب کی وطن واپسی کی مناسبت سے ان کے اعزاز میں جمعیة الاصلاح الاجتماعی کے وسیع ہال میں خان صاحب نے الوداعی تقریب منعقد کی ، جس میں ہند و پاک کی مسلم کمیونٹیز کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی، ان دو تارکین وطن میں اول الذکرجنت نظیر کشمیر (سرینگر) سے تعلق رکھتے ہیں اور کویت کے عدان ہاسپیٹل میں NDODONIST E کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کے ساتھ ایک عرصہ تک FIMA کے صدر رہ چکے ہیں، ڈاکٹر موصوف مرنجان مرنج طبیعت کے حامل ہیں، آپ نے طبابت کے پیشہ میں ہمیشہ خدمت خلق کو پیش نظر رکھا، ہروقت ان کی آفس میں مریضوں کی بھیڑلگی رہتی ،علاج معالجہ کے لیے کتنے لوگ رہائش گاہ پربھی پہنچ جاتے تاہم آپ کسی طرح کی ناگواری کا اظہار نہ فرماتے اور بطیب خاطر ان کا علاج کرتے ۔ آپ تعلیمی ایام سے ہی دینی مزاج رکھتے ہیں، نوجوانوں کے اندر دینی حمیت وغیرت دیکھنا چاہتے ہیں،عالمی سطح پر اسلام کے خلاف ہورہی دسیسہ کاریوں کے تئیں بیدار ذہن رکھتے ہیں اور عالمی شہرت یافتہ داعیان دین کی ایک ایسی ٹیم تشکیل دینے کے قائل ہیں جو عالمی میڈیا کے سامنے اسلام کی صحیح ترجمانی کرسکیں اور اسلام کے خلاف پیدا کیے جانے والے آئے دن کے شبہات کا مثبت اور سنجیدہ جواب دے سکیں ۔
 ثانی الذکر حیدرآباد (انڈیا) سے تعلق رکھتے ہیں، عصری تعلیم یافتہ ہیں ،اقتصادیات میں بی اے کررکھا ہے ، تلگو میڈیم سے تعلیم حاصل کی ،تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ تلگو میڈیم سے بی اے کرنے والا انسان دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کردے گا لیکن اللہ جس سے کام لیناچاہتا ہے اسے توفیق سے بھی نوازتا ہے چنانچہ موصوف بی اے کرنے کے بعد وظیفہ کی تلاش میں نکلے تو ایک دینی ادارے میں نوکری مل گئی ،علماء اور صالحین کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تو سمند شوق کو تازیانہ لگا، اس طرح دینیات کے مطالعہ میں لگ گئے، لیکن اس وقت تلگو زبان میں دینی کتابیں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور تھیں، ظاہر ہے علم كى پیاس بجھانے کے لیے ان کے سامنے ایک ہی راستہ تھا کہ اردو زبان سیکھ لیں۔ چنانچہ انہوں نے الف با سے اردو زبان سیکھی،دینی کتابوں کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا ،دینی معلومات میں اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ حیدرآباد سے تلگو زبان میں شائع ہونے والے ہفتہ واری رسالے  ” گیٹورا ئے“ کے معاون ایڈیٹر بن گئے ، تقاریر اور خطبات کی ایسی مشق کی کہ ریاست میں  تلگو زبان کے مایہ ناز مقرر کی حیثیت سے اپنی پہچان بنالی ۔ تلگو رسائل ومجلات میں سیکڑوں مقالات لکھ ڈالے اور ستر سے زائد کتابوں کا اردو سے تلگو میں ترجمہ کرڈالا ۔ سات سال پیشتر IPC میں تشریف لائے تو تلگو ماہنامہ” الہلال “ کی داغ بیل ڈالی اور اس کے چیف ایڈیٹر بنے، جو اب تک مسلسل شائع ہورہا ہے، اور انہیں کي ایماء پر مزید کئی زبانوں میں رسائل کا اجراء عمل میں آیا ، اسی اثناء انہوں نے تفسیر احسن البیان کے تلگو ترجمہ کی سعادت بھی حاصل کی ، آپ نے منظم پلاننگ کے ساتھ کویت میں قیام فرمایا ،آج جبکہ اپنا ہدف پورا کرکے کویت سے جا رہے ہیں ایسے افراد پیدا کرچکے ہیں جو ان کی خلا کو پُر کرسکیں ،ان کی آئندہ کی پلاننگ میں امام بخاري اور امام مسلم رحمهما کی صحیحین ، سید سلیمان ندوی اورشبلی نعماني رحمهما الله کی ”سیرة النبی “ اور  فتنہ  قادیانیت کی سرکوبی پرمشتمل کتابوں کا ترجمہ شامل ہے جسے وطن لوٹ کر یکسوئی کے ساتھ انجام دینا چاہتے ہیں ۔ تلگو چینلز پر بھی اسلام کی نمائندگی کا عزم لیے جارہے ہیں ،اللہ ان کو اپنے ہدف میں کامیاب بنائے ۔ آمین
عزیز قاری ! یہ چند سطور ان دوشخصیات کے وطن لوٹنے کی مناسبت سے نوکِ قلم پر آگئی ہیں جو ہمارے ہی جیسے دیار غیر میں ملازمت کے لیے تشریف لائے تھے۔ اب ذرا تصور کیجئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اسی کویت میں آئے دن لوگ آتے ہیں اورایک مدت گذار کر یہاں سے لوٹ بھی جاتے ہیں تاہم نہ آتے وقت انہیں کوئی جانتا ہے نہ جاتے وقت، سوائے چند اشخاص کے جنکی ان کے ساتھ نشست وبرخواست ہوتی تھی، جبکہ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو جہاں جاتی ہیں اپنا نقش چھوڑ جاتی ہیں ۔ ظاہر ہے اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جسے شاعر مشرق علامہ اقبال نے ”شاہین “ کا نام دیا ہے
 نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
 جی ہاں! یہی وہ خوبی ہے جسے ہم عزم ،ہمت ، حوصلہ، جذبہ، اولوالعزمی اور بلندخیالی کا نام دیتے ہیں، چنانچہ اسی ہمت مردانہ نے مذکورہ دونوں شخصیات کو ملازمت تک محصور نہ رکھا بلکہ شخصیت کی تعمیر، قوم کی شیرازہ بندی اور اپنی ذات سے قوم کو فائدہ پہنچانے پرآمادہ کیا ۔ الحمدللہ ہماری قوم میں ایسی بے شمار شخصیات ہیں جنہوں نے دینی مدارس میں رسمی تعلیم حاصل نہیں کیں تاہم اپنی محنت ، لگن اور جذبہ سے دعوت کے میدان میں عالمی شہرت یافتہ شخصیات کی فہرست میں جگہ بنالی ہیں جن میں احمد دیدات ڈاکٹر عبدالرحمن السمیط اور ڈاکٹر ذاکر نائک قابل ذکر ہیں ۔
ہم بھی کویت میں ملازمت کے لیے تشریف لائے ہیں ، یہاں آکر ہماری مالی حالت تو اچھی ضرور ہوئی ہے تاہم ہماری اکثریت نے اپنے خول میں رہ کر جینا سیکھا ہے حالانکہ ایک مسلمان عزم وہمت کا پیکر ہوتا ہے ، وہ شاہین صفت ہوتا ہے ، وہ دوسروں کے لیے جیتا ہے ، سب سے پہلے اپنی ذات کی تعمیر کرتا ہے اور اس سے اپنی قوم کو فائدہ پہنچاتا ہے ۔
تو آئیے! اگر ہم سے اس سلسلے میں کسی طرح کی کوتاہی ہوئی ہے تو ابھی بھی وقت باقی ہے، صبح کا بھولا ہوا شام گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے ۔ اگرہم ڈاکٹر اور انجنئیر ہیں تو ڈاکٹر غازی صاحب کو اپنا نمونہ بنائیں اور ملازمت کے ساتھ قوم مسلم کے مفاد کے لیے بھی کام کریں اور اگر ہم ایک عام عصری تعلیم یافتہ ہیں تو محمد عزیز الرحمن صاحب کو اپنا رول ماڈل بنائیں ، اپنی شخصیت کی تعمیر کریں اوردین کی جیسی خدمت کرسکتے ہوں اس کے لیے تیار ہوجائیں کیونکہ یہ وقت کا اہم ترین تقاضا اورضرورت ہے ۔ رہے نام اللہ کا
مکمل تحریر >>

بدھ, نومبر 10, 2010

شوہر کا بیوی سے دوری کی مدت


سوال :

 ایک شوہر اپنی بیوی سے کتنے دنوں تک دور رہ سکتا ہے ؟ (محمد شریف ۔ کویت )

جواب : 

شوہر کے لیے جائز ہے کہ کام کرنے کے مقصد سے یا تعلیم حاصل کرنے کے مقصد سے یا دوسری شرعی مصلحت کے تحت اپنی بیوی سے دوری اختیار کرے ، جس کی مدت چھ مہینہ ہے ، اور بعض علماءنے کہا کہ چار مہینہ ہے۔ اگر اس مدت سے زیادہ رہنے کی نوبت آجائے تو بیوی سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
اس سلسلے میں مصنف عبد الرزاق میں آیا ہے کہ عمر فاروق ص ایک مرتبہ رعایا کی خبرگیری کے لیے رات میں دیہاتوں کا چکر لگا رہے تھے کہ ایک عورت کو چند اشعار پڑھتے ہوئے سنا جس میں شوہر کی جدائی کا اظہار کیا گیا تھا ۔

معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس کا شوہر حکومت کی طرف سے کسی مہم پر گیا ہواہے ، اسی وقت آپ نے گھر آکراپنی بیٹی حفصہ سے اس سلسلے میں بات کی کہ ایک عورت اپنے شوہر سے دوری کتنے دنوں تک برداشت کرسکتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مہینہ : چنانچہ عمر فاروق صنے یہ نظام نافذ کردیا کہ کوئی بھی حکومت کا اہلکار چار مہینے سے زیادہ اپنی بیوی سے دور نہیں رہ سکتا۔

جبکہ فقہ کی کتاب ”المغنی“میں آیا ہے کہ سیدنا عمرفاروق ص نے مجاہدین کے لیے چھ مہینے کا وقت مقررکیا تھا، ایک مہینہ چلیں گے چار مہینہ ٹھریں گے پھر ایک مہینہ میں چل کر لوٹیں گے۔

اس سلسلے میں اصولی بات علامہ محمدبن صالح العثیمین نے عرض کردی ہے آپ فرماتے ہیں:

” اگر شوہر کو بیوی کے تئیں بالکل اطمینان ہے ، اور محفوظ جگہ پررہائش پذیر ہے ، تو چھ مہینہ تک اس سے دور رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں البتہ اگر اپنے حق کا مطالبہ کرے اور شوہر سے طلب کرے کہ وہ آجائے تو اسے چاہئے کہ چھ مہینہ سے زائد اپنی بیوی سے دور نہ رہے۔ الا یہ کہ کوئی عذر ہو جیسے بیماری کا علاج کرا رہا ہے یا اس جیسے دوسرے اعذار۔ اس لیے کہ ضرورت کے خاص احکام ہوتے ہیں ، بہرکیف اس سلسلے میں حق بیوی کا ہے ، اگر اس نے دور رہنے کی اجازت دے دی ہے ، اور وہ محفوظ جگہ پر ہے تو دور رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ گرچہ زیادہ دنوں تک ہی شوہر کیوں نہ غائب رہے“۔ (فتاوی العلماء فی عشرة النساء 106)

البتہ شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ مال ودولت جمع کرنے کے دھن میں اپنی بیوی کی نفسیات کو نظر انداز نہ کرے، اس سے ہمیشہ بات کرتا رہے ، اُسے تنہا نہ رہنے دے ، ایسی جگہ پر رکھے جہاں اس کے محرم رہتے ہوں۔ اور جب کبھی موقع ملے سفر پر چلا جائے آخر پیسہ کس کے لیے کما رہا ہے۔

آخری بات یہ کہنا چاہیں گے کہ اگر بیوی کی اجازت سے آپ باہر رہ رہے ہیں توخود اپنی اور اپنی بیوی کی دینی تربیت بہت ضروری ہے ، دینی تربیت سے مراد روحانی غذاحاصل کرنا ہے اگر ایک شخص بیوی سے دور رہ کر نماز کی پابندی کرتا ہے ، نفلی روزوں کا اہتمام کرتاہے ، صبح وشام کے اذکار پر دھیان رکھتا ہے۔ قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کرتا ہے چاہے ایک صفحہ ہی کیوں نہ ہو .... تو وہ بیوی سے دور رہ کر بھی یک گونہ سکون پائے گا .... اگر نہیں تو ہمیشہ ذہنی الجھن ، پریشانی ، اور قلق واضطراب کا شکار رہے گا .... اس کے ساتھ ساتھ برائیوں میں بھی پھنستا جائے گا۔ یہی حال بیوی کا بھی ہے .... اس لیے اگر آپ بیوی بچوں سے دور ہیں توپریشانیوں کے علاج اور ذہنی سکون کے لیے روحانی غذا حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اگرذہنی سکون کے لیے فحش فلموں کا سہارا لیا....جیسا کہ بعض لوگوںکا خیال ہے تو سمجھ لیں کہ اس سے سکون نہیں ملے گا بلکہ ٹینشن میں مزید اضافہ ہوگا ، ہمیشہ قلق واضطراب دامن گیر رہے گا، جسے سکون کی تلاش ہے وہ روحانی زندگی گزار کر دیکھ لے‘ زندگی میں کیسی تبدیلی آتی ہے۔
مکمل تحریر >>

جمعہ, اکتوبر 08, 2010

بابری مسجد اراضی ملکیت : حقائق اور ہماری ذمہ داریاں


 شدت سے انتظار کرتے کرتے بالاخر وہ دن آہی گیا جس دن بابر کی تاریخی یادگاربابری مسجد کی قسمت کا فیصلہ سنادیا گیا ، اورمسجد کی اراضی قانون ،اصول اورتاریخی حقائق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض آستھا کی بنیاد پر تین حصوں میں بانٹ دی گئی ،دوحصہ کے مالک ہندو ٹھہرائے گئے تو ایک حصہ مسلمانوں کی تحویل میں کیا گیا گویا یہ کسی جائیدادکی تقسیم کا معاملہ تھا جس کے ذریعہ دوفریق کو منانا مقصود ہو ،حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں عدلیہ کے جانبدارانہ فیصلہ نے سیکولرزم کی دھجیاں بکھیر دی ہیں،ایک عام آدمی کو نفسیاتی کرب اور ذہنی الجھن میں مبتلا کردیا ہے،مسلمان تومسلمان انصاف پسند ہندومؤرخین اور دانشور بھی اس فیصلہ پر انگشت بدنداں ہیں،ہندوستان کی مشہور مؤرخ رومیلا تھاپر نے اس فیصلہ کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس قدر خطرناک ہے کہ اس کے دور رس نتائج ہوسکتے ہیں،جب کسی زمین کو ہڑپ لینا ہوتو فسطائی تنظیمیں اسے کسی مقدس شخصیت کا جنم استھان قرار دیں گی ، اس طرح فیصلہ ان کے حق میں چلا جائے گا۔
یہ تبصرہ ہے ایک غیرمسلم مؤرخ کا ،اب ذرا زمینی حقائق پر نظر ڈال کر دیکھئے، توسیعی ذہنیت کے علمبردار یہ فرقہ پرست عناصر اسلام اور اہل اسلام کوایک لمحہ کے لیے دیکھنا نہیں چاہتے ،کیونکہ ان کی جڑ یہودیت سے ملنے لگی ہے ، یہ صرف ایک بابری مسجد کا مسئلہ نہیں ہے‘ وشوہندوپریشد نے کاشی اور متھراسمیت تین ہزار مسجدوں کی لسٹ تیار کررکھی ہے جن کے بارے میں وہ ببانگ دہل اعلان کرتے ہیںکہ تمام مساجد مندر توڑ کر بنائی گئی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 3 اکتوبر کے اخبارات میںمذکورہ تنظیم نے بیان دیا ہے کہ مسلمان متھرا اور بنارس کی مساجد سے دستبردار ہوجائیں۔ اس کے لیے انہوں نے باضابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اورادھر ہمارے بعض بھولے بھالے دانشور ہیں جوہندومسلم اتحاد، قومی یکجہتی اور نام نہاد حب الوطنی کے نام پر مسجد سے دست برداری کا راگ الاپ رہے ہیں، کچھ منافقین نے تو رام مندر کی تعمیر کے لیے پندرہ لاکھ روپئے کے عطیہ کا اعلان بھی کرڈالا تھا، مسلمانوں کے آستین میں چھپے ہوئے یہ سانپ ہیں جو اس طرح کی ہذیان گوئی کرتے رہتے ہیں،ہمیں کہنے دیا جائے کہ اگر ہم نے فرقہ پرست عناصر کی بروقت نوٹس نہ لی ، اوران کے ہر فیصلے پر ایسے ہی سر جھکاتے گئے تو ہندوستان میں ہمارا عرصہءحیات تنگ کردیا جائے گا ،صرف ایک بابری مسجد کا مسئلہ رہتا تو ہم اسے انگیز کرلیتے لیکن اب مسائل پہ مسائل اٹھیں گے ،یہ ہندوستان میں ہمارے مستقبل کا مسئلہ ہے،ہمارے تشخص کا سوال ہے، مسلمان عزت کی زندگی گزارتا ہے ذلت کی نہیں ، اور اس سے بڑھ کر ذلت کیا ہوگی کہ ہم اپنے مقدسات کو غیروں کے حوالے کردیں ،اورہم کون ہوتے ہیں ان کے حوالے کرنے والے ،یہ تو اللہ کے گھر ہیں ،یہ توحید اور شر ک کا مسئلہ ہے ۔ حالات بہت نازک ہیں،یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہمارے ارباب حل وعقد مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اوردانشمندانہ طریقے سے معاملہ سپریم کورٹ تک لے جائیں،انصاف پسند غیرمسلم ماہرین قانون سے بھی مشورہ کریں کیونکہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔
پھر اگر اس دستبرداری کی کوئی قانونی حیثیت ہو تی تو ایک بات تھی، جس رام کی جائے پیدائش کے نام پر فسطائی طاقتوں نے 6دسمبر1992ء میںبابری مسجد کوشہید کیا تاریخی حقائق سے کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا کہ بابری مسجد کی جگہ پر رام کی کوئی نشانی تھی۔ گذشتہ دنوں جب بابری مسجد کا معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں تھا مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ نے روزنامہ منصف میں ایک مضمون لکھا تھا”ایک مظلوم عدالت کے کٹہرے میں “ جس میں انہوں نے تاریخی شواہد اور حقائق کی روشنی میں ثابت کیا تھا کہ بابری مسجد کا رام کی جائے پیدائش سے کوئی تعلق نہیں،اور بابر کو ظالم وجابر ٹھہرانا تاریخ کے ساتھ زیادتی ہے ، وہ کیسے ؟ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ رام جی کا صحیح معنوں میں وجود بھی تھا یا نہیں، تو بڑے بڑے ہندو دانشوروں نے کہا ہے کہ رام جی دراصل ایک افسانوی اور دیومالائی کردار ہے کسی حقیقی شخصیت کانام نہیں ہے ، اگرمان لیاجائے کہ رام جی کا صحیح معنوں میں وجود تھا اور وہ اجودھیا میں پیدا ہوئے تو سوال یہ ہے کہ اجودھیا سے کون سا علاقہ مراد ہے، آثارقدیمہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایم وی کرشنا راؤ نے ثبوتوں کی بنیاد پر دعوی کیا ہے کہ اصل اجودھیا ہریانہ کا مقام ”بناؤلی“ ہے جبکہ دوسری طرف رامپور کے ایک پنڈت جی نے ثبوتوں کی بنیاد پر یہ دعوی کیا ہے کہ رام جی کی پیدائش کی اصل جگہ رام پور ہے،بعض مؤرخین کا یہ بھی ماننا ہے کہ رام کی سلطنت کی جگہ اجودھیا کے بجائے بنارس ہے ،ہندوؤں کی مذہبی کتاب رامائن میں اجودھیا کا ذکر ملتا ہے لیکن اجودھیا کس مقام پر تھی اور رام جی کہاں پیدا ہوئے بالمیکی کے رامائن کے مطابق اجودھیا ساڑھے تیرہ میل کے فاصلے پر تھی اور مشرقی سمت میں تھی جبکہ آج کا اجودھیا لب سمندر اور مغربی سمت میں واقع ہے ۔ پروفیسر سری واستو نے لکھا ہے کہ1902 ء میں رام جی کی جائے پیدائش کی تحقیق کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے کافی تحقیق کے بعد دو مقامات کے بارے میں اندازہ لگایاکہ شاید یہ رام جی کی جائے پیدائش ہو ، ان میں سے ایک کانام رام جنم استھل اور دوسرے کا نام رام جنم بھومی ہے اور یہ دونوں جگہیں بابری مسجد کے علاوہ ہیں ۔ بابری مسجد پانچ سو سال سے وہاں موجود ہے ،تاریخ کے مختلف ادوار میں بڑے بڑے مؤرخین گذرے ہیں ،بڑے بڑے رام بھکت پیداہوئے لیکن کسی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ رام کی جائے پیدائش پر مسجد کی تعمیر عمل میں آئی ہے ۔ پھرجس کے بارے میں یہ دعوی کیا جارہا ہے اس کا مزاج بھی تو ویسا ہونا چاہیے جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ بابر مذہبی رواداری کا قائل تھا ،ہندو پنڈتوں سے بہت عقیدت سے پیش آتاتھا ،یہاں تک کہ بابر نے اپنے وصیت نامہ میں گاؤکشی سے منع کیا ہے تاکہ ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں ۔ پروفیسر سری واستو نے اپنی پوری تحقیق کے بعد لکھا ہے کہ بابر پر الزامات اس کی شخصیت اور کردار سے قطعی میل نہیں کھاتے ۔ یہاں تک کہ برطانوی سامراج کادور آیاجنہوں نے پھوٹ ڈالوحکومت کروکی پالیسی کے تحت جہاں اپنے بطن سے مرزاغلام احمد قادیانی کو جنم دیا تودوسری طرف تاریخی حقائق کو توڑمروڑکر پیش کیا جس میں مسلم سلاطین پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے ہندوقوموں کو جبراً مسلمان بنایا اور ان کی مذہبی یادگاروں کومسجد میں تبدیل کردی تاکہ ایک طرف دنیا کوباور کرایا جاسکے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تو دوسری طرف ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈال کر سیاست کی کرسی پر براجمان رہیں۔
بہرکیف یہ چند حقائق تھے جنہیں اس مناسبت سے پیش کرنانہایت ناگزیر تھا تاکہ ہماری نئی نسل تاریخی شواہداور موجودہ حالات سے باخبر رہے ،جہاں تک پیش آمدہ مسئلے سے نمٹنے کا سوال ہے تو اس کے لیے ملت کے قائدین موجود ہیں جو اپنی دور اندیشی سے مناسب فیصلہ کریں گے البتہ انفرادی طور پر ہرمسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ موجودہ حالات سے سبق سیکھے اور مساجد سے ہماری اکثریت کاجو تعلق ٹوٹ چکا ہے اسے مستحکم کرے تاکہ ہم اپنے دعوی میں سچے ثابت ہوسکیں ۔اسی طرح غیرمسلموں میں دعوت کرنے کے لیے خود کو تیار کریں تاکہ گم کردہ راہ انسانیت کو بتایاجاسکے کہ انہوں نے جس شاخ نازک پراپنا آشیانہ بنارکھا ہے ہوا کا ایک جھونکا اسے زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہے ۔
مکمل تحریر >>

جمعہ, اکتوبر 01, 2010

مجلس کا سب سے لذیذ گوشت

وَلَا یَغتَب بَّعضُکُم بَعضاً اَیُحِبُّ اَحَدُکُم ان یَاکُلَ لَحمَ اَخِیہِ مَیتاً فَکَرِہتُمُوہُ وَاتَّقُوا اللَّہَ اِنَّ اللَّہَ تَوَّاب رَّحِیم ( الحجرات 12 )

ترجمہ: اور تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کرے ،کیا تم میں سے کوئی اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ تمہیں تو گھن آئے گی۔ اللہ سے ڈروبیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
تشریح : زیرنظر آیت کریمہ میں اللہ پاک نے زبان کی آفات میں سے ایک خطرناک آفت غیبت سے منع کیا ہے ۔ غیبت کیا ہے ؟ ایک مرتبہ نبی پاک صلى الله عليه وسلم  نے اپنے اصحاب سے پوچھا: تم جانتے ہو غیبت کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرنا جو اسے برا لگے، لوگوں نے پوچھا : اگرمیرے بھائی میں وہ عیب ہے جو میں بیان کررہاہوں تو؟ آپ نے فرمایا:اگراس کے اندر واقعتاً وہ عیب پایا جاتا ہے تب ہی توغیبت ہے ، اگراس کے اندر وہ عیب پایا ہی نہیں جاتا تب تویہ بہتان ہے“۔ (مسلم)
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ پاک نے غیبت سے روکتے ہوئے اس کی قباحت اس انداز میں بیان کی ہے جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ،ایک ایسے انسان کا تصور جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہو، مردارکاگوشت کھاناخود ہی گھناونی بات ہے جس سے ہر انسانی طبیعت نفرت کرتی ہے ، پھر گوشت بھی کسی مردار جانور کا نہیں بلکہ انسان کا اور انسان بھی کوئی غیر نہیں بلکہ اپنا بھائی ، تصور کریں کہ کسی کاسگا بھائی اسکے سامنے مرا پڑا ہو اوروہ اس کے گوشت کو نوچ نوچ کرکھا رہا ہو ‘ دل دہلا دینے والی مثال بیان کرکے اللہ تعالی نے اس جرم کی قباحت کی طرف اشارہ کیا ہے   
لیکن صد حیف آج ہماری مجلسو ں کا سب سے لذیذ گوشت یہی سمجھا جاتا ہے ،مزے لے لے کر اپنے سگے اورمردہ بھائی کا گوشت نوچ نوچ کرکھاتے اور ڈکار لگاتے ہیں، ہمیں اس میں اتنا لطف ملتاہے کہ باربارکھانے کے باوجود طبیعت نہیں اکتاتی،منہ سے مردے کا خون ٹپک رہا ہوتا ہے ، گھناونی بدبو آرہی ہوتی ہے لیکن خمارایسا کہ اترنے کانام نہیں لیتا۔ العیاذ باللہ ۔ اورظاہر ہے جس کی دنیا میں ایسا ذائقہ دار گوشت کھانے کی عادت بن گئی ہو ‘آخرت میں اس سے کیونکرمحروم رکھا جائے گا لیکن وہاں تو کوئی انسان ملے گا نہیں کہ اس پر حملہ کرے ، اس لیے اپنا ہی چہرہ نوچتا پھرے گا اس حدیث پرغورکیجیے :
”معراج کی شب میرا گذر ایک ایسی قوم سے ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے ، میں نے جبریل امین سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے اور ان کی غیبت کرتے تھے “۔(ابوداود)
حضرت صفیہ رضي الله عنها  پست قد تھیں ،ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضي الل عنها  نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے کہہ دیاکہ صفیہ میں سے فلاں فلاں چیز آپ کے لیے کافی ہے۔( مراد قد کا چھوٹا ہونا ہے)نبی کریم نے فرمایا: 
لقد قلت کلمة لو مزجت بماء البحر لمزحتہ۔ (ترمذی)
”تونے ایسی بات کہہ دی کہ اگر اسے سمندرکے پانی میں ملادیا جائے توساراپانی گدلا ہوجائے “۔
توآئیے آج ہی سے یہ عہد کریں کہ ہم سب کسی صورت میں اپنے مردہ بھائی گا گوشت نہ کھائیں گے یعنی کسی کی غیبت ہرگز نہ کریں گے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے ۔ آمین یا رب العالمین
مکمل تحریر >>