جس وقت یہ شمارہ آپ کے ہاتھوں میں پہنچے گا آپ عید قرباں کی عظیم یادگار منا نے کی تیاری کررہے ہوں گے ، ہرسال حجِ بیت اللہ اورعید قرباں کی مناسبت سے روایتی اندازمیں سنتِ ابراہیمی کا اعادہ توضرور ہوتاہے تاہم اس تابناک اور درخشندہ زندگی میں ملک وقوم ، فرد ومعاشرہ اور خاندان کے ليے عبرت ونصیحت کا جوجامع پیغام دیاگیا ہے اس کی طرف ہمارا دھیان بہت کم جاتا ہے ....
اتوار, نومبر 15, 2009
حج كى فضيلت
تحرير:
گمنام
عَن أبِی
ھُرَیرَةَ رضي الله عنه سَمِعتُ رَسُولُ اللّٰہِ ُّ صَلٰی اللّٰہُ
عَلَیہِ وَسَلَّم یَقُولُ: مَن حَجَّ فَلَم يرفُث وَلَم يَفسُق رَجَعَ کَيومِ
وَلَدَتہُ أمُّہ (رَوَاہُ البُخَارِی وَمُسلِم)
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضى الله عنه کا بیان ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صَلٰی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا ”جس نے حج کیا اور دوران حج اس سے نہ کوئی شہوانی فعل سرزد ہوا اور نہ ہی اس نے فسق وفجور کا ارتکاب کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو کر لوٹا گوياآج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے“ ۔(بخاری ومسلم)
تشریح : پیش نظر حدیث میں حاجی کے ليے اس انعام کا تذکرہ کیا گیا ہے جس
سے وہ حج کے بعد سرفراز کیا جاتا ہے ، البتہ انعام کے ليے شرط یہ رکھی گئی ہے کہ
حج کے دوران دوباتوں سے دور رہا
٭ شہوانی فعل
٭ فسق وفجور کاارتکاب
قرآن کریم میں بھی حج کی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ فَمَن
فَرَضَ فِیھِنَّ الحَجَّ فَلَارَفَثَ وَ لَا فُسُوقَ وَلَاجِدَالَ فِی الحَجِّ کہ
حج میں ”رفث ،فسوق اور جدال“ سے اجتناب کیا جائے ۔
اب سوال یہ ہے کہ ان
امور کاخصوصیت کے ساتھ ذکر کیوں ہوا؟
تواِس کا جواب یہ ہے کہ حج میں ان چیزوں سے اکثر سابقہ پڑتا ہے ،
دورانِ حج احرام کی پابندیوں کی وجہ سے عورت کو چہرہ ڈھکنے کی اجازت نہیں ،اس لیے
ساری عورتیں اپنا چہرہ کھلا رکھتی ہیں، مناسک ِحج کی ادائیگی کے وقت بسااوقات ٹکڑا
جانے کی بھی نوبت آجاتی ہے ، ایسے حال میں اللہ کا ڈر دل میں بیٹھائے رہنا اور کسی
عورت پر غلط نگاہ نہ ڈالنا حج کا اہم تقاضا ٹھہرا ۔
پھراس مناسبت سے لڑائی جھگڑے کے اسباب بھی پیدا ہوجاتے ہیں ،مختلف
ممالک سے تعلق رکھنے والوں،مختلف طبائع کے لوگوں اور مختلف تہذیب وثقافت کے حامل
اشخاص سے معاملہ کرتے وقت اونچ نیچ کا ہونا یقینی ہے ،بسااوقات آپ نے کوئی کام
صحیح سمجھ کر کیا جبکہ وہی کام دوسرے کے مزاج کے خلاف ہوگیا ایسی صورت میں لڑائی
جھگڑے کی نوبت آسکتی ہے لیکن آپ نے صبروضبط سے کام لیتے ہوئے اپنے بھائی کی غلطی
کومعاف کردی توبڑا اہم کام کیا۔
غرضیکہ ایک حاجی جب ایسے عظیم منسک کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنے آپ کو شہوانی وجنسی
فعل، جنگ وجدال اور فسق وفجور کی آلودگیوں سے پاک وصاف رکھتا ہے تو اُس کے حق میں
یہ خوش خبری سنائی جارہی ہے کہ جب وہ حج کرکے گھر لوٹتا ہے تو وہ بالکل دودھ کا
دھلا ہوجاتا ہے ۔ اس کی حالت نوزائیدہ بچے کی سی ہوتی ہے ۔ گویا وہ نئی زندگی کی
شروعات کر رہا ہوتا ہے ۔ظاہر ہے جو شخص گناہوں سے اس طرح پاک ہو جس طرح کہ اپنی
پیدائش کے دن تھا آخر اس کے دخولِ جنت میں کونسی چیز مانع ہوسکتی ہے ۔ تب ہی تو
فرمایا گیا : اَلحَجُّ المَبرُورُ لَیسَ لَہ جَزَاء اِلّا الجَنَّة (احمد) ” حج
مبرور کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں “ ۔
حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جس میں گناہ کا کام نہ کیا گیا ہو اور اس
کی علامت یہ ہے کہ حج کے بعد حاجی کے اندر نیکیوں کی رغبت پیدا ہوجائے اور وہ
بُرائیوں سے کنارہ کش رہنے لگے ۔
اتنی عظیم بشارت کے ہوتے ہوئے اگر حاجی اللہ تعالی کے اِس انعام کا
حقدار نہ بن سکے تو واقعی معاملہ قابلِ افسوس ہوگا ، اس ليے حجاجِ بیت اللہ کو
چاہےے کہ وہ اپنے حج کو ہرقسم کی آلودگیوں سے پاک وصاف رکھیں ۔
حج كى فرضيت
تحرير:
گمنام
وَلِلّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ
سَبِیلاً وَمَن کَفَرَ فاِنَّ اللہ غَنِیّ عَنِ العَالَمِینَ (سورہ آل عمران ۷۹)
ترجمہ :” اللہ تعالی
نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے اور جو
کوئی کفر کرے تو اللہ تعالی ( اُس سے بلکہ ) تمام دنیا سے بے پرواہ ہے “۔
تشریح : حج اسلام کے
ارکانِ خمسہ میں سے بنیادی رکن ہے جس کی فرضیت ۹ھ میں
ہوی، اور اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے 10 ھ میں ایک ہی حج (حجة الوداع)
کیا جبکہ چار عمرے کيے۔
حج کن پر فرض ہے ؟ اس کے شرائط کیا ہیں ؟ مذکورہ آیت میں اسی
کا بیان ہے ۔شیخ صالح الفوزان اس ضمن میں لکھتے ہیں:
”اس آیت کریمہ سے کلمہ عَلَی سے حج کی فرضیت واضح ہوتی ہے ۔ نیز آیت کے آخری کلمات وَمَن کَفَرَ فَانَّ اللہ غَنِیّ عَنِ العَالَمِینَ میں تارک حج کو کافر قرار دیا گیا ہے ۔ اس سے بھی حج کی فرضیت اور اس کی تاکید خوب واضح ہوتی ہے ....بنا بریں جو شخص حج کی فرضیت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ بالاجماع کافر ہے “ (فقہی احکام ومسائل (الملخص الفقہی )
آیت کریمہ میں فرضیت حج کے لےے استطاعت کی شرط رکھی گئی ہے جس کا
مطلب یہ ہے کہ :
٭مسلمان آزاد،عاقل اور بالغ ہو ۔
٭آدمی کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ بیت اللہ تک آنے جانے کا اور وہاں کے
قیام وطعام کا خرچ برداشت کرسکے ۔ حضرت انس رضى الله عنه کا بیان ہے کہ
اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے پوچھا گیا کہ استطاعت کا کیا مفہوم ہے تو
آپ نے فرمایا: ”سفرخرچ اور سواری “ (دارقطنی)
٭راستہ پُرامن ہو اور جان ومال کا خطرہ نہ ہو ۔ (الفتح الربانی ۱۱۲۴۔۳۴)
٭عورت کے ليے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو مثلاً شوہر
، باپ،بیٹا،چچا،ماموں وغیرہ۔ ”کسی مومنہ عورت کے ليے جائز نہیں کہ وہ محرم کے بغیر
ایک دن رات کا سفر کرے “(مسلم)
جس شخص کے اندر مذکورہ بالا شرائط پائے جارہے ہوں اس پرزندگی میں ایک
مرتبہ حج فرض ہے ۔
اگر کسی کو مالی استطاعت تو حاصل ہو البتہ جسمانی طور پر مجبور ہو تو
اُس کے لےے ضروری ہے کہ کسی کو اپنی طرف سے حج کرنے کے لےے روانہ کرے ، اِسی کو
حجِ بدل کہتے ہیں۔سیدنا ابن عباس ص کا بیان ہے کہ حجة الوداع کے موقع سے قبیلہ
خثعم کی ایک خاتون نے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے باپ پر حج
فرض ہوچکا ہے لیکن وہ اس قدر بوڑھا ہے کہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا کیا میں
اس کی طرف سے حج کروں ؟ آپ ا نے فرمایا: ”ہاں“۔(بخاری مسلم)
اور جب قدرت حاصل ہوجائے تو حج فوراً کرلینا چاہےے اس میں تاخیر نہیں
کرنی چاہےے ۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے :
”جس شخص کا حج کرنے کا ارادہ ہو وہ جلدی حج کرلے ‘کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ بیمار پڑجائے یا اس کی کوئی چیز گم ہوجاے “ (مسنداحمد)
جس نے استطاعت کے باوجود حج نہیں کیا اس کے تعلق سے بہت سخت وعیدیں
آئی ہیں ۔ حضرت علی رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ:
” جس نے قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کیا اس کے لےے برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر“ ۔ (مناسک الحج لابن باز)
اور حضرت عمر رضى الله عنه کہاکرتے تھے کہ:
” میں نے ارادہ کیا کہ ان شہروں میں اپنے آدمی بھیجوں جو پتہ لگائیں کہ جن لوگوں پر حج فرض ہے اور انہوں نے حج نہیں کیا ہے اُن پرغیرمسلموں سے لیاجانے والاٹیکس ( جزیہ) نافذ کردوں، وہ مسلمان نہیں، وہ مسلمان نہیں“ ۔ (سنن سعیدبن منصور)
قربانی كے مسائل و احكام
تحرير:
گمنام
قربانی دینے والا بال مونڈ لے تو؟
سوال:
مجھے قربانی دينی ہے اور ميں نے بھول کربال مونڈ ليا ہے کيا مجھ پر کوئی کفارہ لاز م ہے ؟
مجھے قربانی دينی ہے اور ميں نے بھول کربال مونڈ ليا ہے کيا مجھ پر کوئی کفارہ لاز م ہے ؟
جواب :
جو قربانی کرنا چاہے اس کے لئے ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد اپنے بال اور ناخن اور جلد مےں سے کوئی بھی چےز کاٹنی جائز نہےں ہے کےونکہ نبی اکرم ا نے اےسا کرنے سے منع فرماےا ہے ام سلمہ ؓ بےان کرتی ہےں کہ رسول اکرم ا نے فرماےا ”جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور تم مےں کسی اےک کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور جلد مےں سے کچھ بھی نہ کاٹے (مسلم)
جو قربانی کرنا چاہے اس کے لئے ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد اپنے بال اور ناخن اور جلد مےں سے کوئی بھی چےز کاٹنی جائز نہےں ہے کےونکہ نبی اکرم ا نے اےسا کرنے سے منع فرماےا ہے ام سلمہ ؓ بےان کرتی ہےں کہ رسول اکرم ا نے فرماےا ”جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور تم مےں کسی اےک کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور جلد مےں سے کچھ بھی نہ کاٹے (مسلم)
اور جو کوئی قربانی کرنے کا عزم رکھتا ہو اور بھول کر ےا غلطی اور جہالت سے اپنے بال ےا ناخن ےا جلد وغےرہ مےں سے کچھ کاٹ لے تو اس پر کچھ نہيں اسلئے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں سے بھول چوک اور خطا معاف کردی ہے ۔ اور جو شخص عمدا اورجان بوجھ کر ايسا کرتا ہے اسے اللہ تعالی کے ہاں توبہ واستغفارکرنی چاہيے، اِس کے علاوہ اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے ۔
عورت کے ليے حج میں محرم کا ہونا شرط ہے
سوال: ميری والدہ بوڑھی ہوچکی ہيں اور حج کرنا چاہتی ہيں ليکن ان کے شہر ميں ان کا کوئی محرم نہيں ہے ،محرم کی تلاش ميں بڑی رقم خرچ ہونے کا انديشہ ہے اس لئے وہ کيا کريں گی؟
جواب : آپ کی والدہ پر حج نہيں ہے اسلئے کہ عورت کے لئے خواہ وہ جوان ہو يا بوڑھی بغير محرم کے حج کرنا جائز نہيں ہے ، اگران کو محرم مل جائے تو وہ حج کرے گی اوراگروہ حج کئے بغيرفوت کرجاتی ہے تواس کے مال سے حج بدل کراديا جائے، اور اگرکوئی شخص خود اپناخرچ کرکے اس کی طرف سے حج کردے تويہ بھی اچھی بات ہے ۔
میت کے ترکہ سے حجِ بدل کرادینا واجب ہے
سوال: ايک شخص بغير حج کئے مرگيااس نے يہ وصيت کی کہ اس کے مال سے حج کراديا جائے توکيا يہ حج بدل صحيح ہوگا؟
جواب : اگرکوئی ايسا مسلمان جس پر حج واجب تھا اور وہ بغيرحج کئے دنيا سے چلا گيا تواس کے مالِ متروک سے حج بدل کرادينا واجب ہے خواہ اس نے حج کی وصيت کی ہويا نہيں۔ اور دوسرے کی طرف سے حج کرنے کے ليے شرط يہ ہے کہ حج بدل کرنے والا خود اپنا حج کرچکا ہو تبھی اس شخص کا بھی حج صحيح ہوگا اور اس ميت سے وجوب حج ساقط ہوگا۔
زیارت مسجدِ نبوی
سوال: بعض حاجيوں کاخيال ہے کہ اگر ان ميں سے کوئی مسجد نبوی کی زيارت سے محروم رہ جائے تو اس کاحج ناقص رہ جاتاہے، کيا يہ خيال صحيح ہے؟
جواب :مسجد نبوی کی زيارت فقط سنت ہے واجب نہيں ہے، نہ ہی حج سے اس کا کوئی تعلق ہے ، بلکہ مسجد نبوی کی زيارت عام دنوں ميں بھی سنت ہے ايام حج کی کوئی خصوصيت نہيں۔ آپ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے: ”تين مسجدوں کے علاوہ کسی دوسری مسجد کا سفرزيارت درست نہيں ،مسجد حرام، ميری مسجد اور مسجد اقصی“ (متفق عليہ)
دوسری جگہ ارشاد ہے ”مسجد حرام کے علاوہ ميری اس مسجد ميں ادا کی گئی ايک نماز (دوسری کسی بھی مسجد ميں ادا کی جانے والی) ہزارنمازوں سے بہتر ہے “ (متفق عليہ)
قربانی کے جانوروں کی عمریں
سوال: کتنی عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے ؟
جواب :قربانی اور ہدی کے جانور کے ليے شرط يہ ہے کہ ايک سال کا بھيڑيا، دو دانت کا بکرا ہو اور ہرقسم کے عيوب سے پاک ہو ۔ نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمان کے مطابق ” چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہيں ہے ، ايسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو ، اور ايسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو اور ايسا بيمار جانور جس کی بیماری عياں ہواور اتنا لاغر کہ اس کی ہڈی نماياں ہوجائے “ (اس حديث کو اصحاب السنن نے صحيح سند کے ساتھ روايت کی ہے ) رہا سوال اندھے جانور کا تو بدرجہ اولی جائز نہيں ہے ۔
اسی طرح عضباء ( يعنی سينگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے ) جانور کی قربانی جائز نہيں ہے ،اس ليے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کی قربانی کرنے سے منع فرمايا ہے ۔
مُردوں کی طرف سے قربانی جائز ہے
سوال: کيا قربانی کرنے والا اپنی قربانی ميں مردہ کو شريک کر سکتا ہے ؟
جواب :قربانی کرنے والے کے لئے قربانی کے جانور ميں اپنے زندہ اور مردہ والدين يا اپنی بيوی يا بچوں کوشريک کرنا جائز ہے، چونکہ نبی صلى الله عليه وسلم دومينڈھا قربانی کرتے تھے ايک اپنی طرف سے اور دوسرا اپنی آل کی طرف سے اور آل کے مفہوم ميں بيوی اور اولاد شامل ہيں۔
عورت قربانی کا جانور ذبح کرسکتی ہے
سوال: کيا عورت کے ليے قربانی کاجانورذبح کرنا جائز ہے ؟
جواب : عورت مرد کی طرح قربانی کا جانور ذبح کرسکتی ہے ، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے يہ صحيح سند کے ساتھ ثابت ہے، مرد کی موجودگی ميں بھی عورت ذبح کر سکتی ہے ، اس کے ليے مرد کا نہ ہونا شرط نہيں ہے ۔
حاجی کے ليے حدود حرم میں ہی قربانی دینا ضروری ہے
سوال: میرے والد محترم حج پر گئے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ میں نے وہاں قربانی نہیں کرنا تم نے میری طرف سے ادھر پاکستان میں قربانی کرنا ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے ؟
جواب : باہر سے جو لوگ حج کرنے کے ليے جاتے ہیں وہ حج تمتع کرتے ہیں، یعنی عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے پھر آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھا جاتا ہے ، اس درمیانی عرصہ میں جو احرام کی پابندیوں سے آزادی ملتی ہے‘ اس کے عوض قربانی دی جاتی ہے۔
یہ قربانی ہماری اس قربانی سے مختلف ہوتی ہے جو لوگ عیدالاضحی کے موقع پر کرتے ہیں۔ صورت مسولہ میں حج کرنے والے کو وہاں حدود حرم میں ہی قربانی کرنا ہو گی ۔
غیرمستطیع بھی قربانی کا ثواب حاصل کرسکتا ہے
سوال:جو شخص قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہوں ، کیا کسی طریقہ سے وہ قربانی کا ثواب حاصل کر سکتا ہے ؟
جواب :جس شخص کا قربانی دینے کا ارادہ نہ ہو ، اس کے ليے بال یا ناخن کاٹنے کی ممانعت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ قربانی کا ثواب لینا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ عید کے دن بال اور ناخن کاٹ لے اور زیر ناف کے بال صاف کر لے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تھا : ” تم عید کے دن اپنے بال اور ناخن تراش لو ، اپنی مونچھیں کاٹ لو اور زیر ناف کے بال صاف کر لو اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ تیری مکمل قربانی ہو جائے گی۔ “ ( مستدرک حاکم 223 ج 4 ) اگرچہ اس روایت کے متعلق کچھ محدثین نے کلام کی ہے تاہم یہ حسن درجہ کی حدیث ہے اور قابل استدلال ہے۔